نورالابصار مصنفه شیخ مومن بن حسن شبلنجی - ردِ رافضیت | دفاع…

نورالابصار مصنفه شیخ مومن بن حسن شبلنجی

  محمد علی

صفحہ 3 از 3

ترجمہ: علیبن ابی طالب سے حدیث کی تخریج کی حافظ ابو عبد الله نعیم بن حماد نے اپنی کتاب "الفتن" میں ابنِ ارطاۃ تابعی سے کہ امام مہدی تیس یا چالیس سال تک باقی رہیں گے اس کی تخریج کی نعیم بن حماد نے کتاب الفتن فی باب النسب المہدی جلد 5 صفحہ 103 حذیفہ بن یمان سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی پاک نے فرمایا التفات کریں گے مہدی اس حال میں کہ عیسیٰ بن مریمؑ نازل ہو جائیں گے ذکر کیا اس حدیث کو اور اس حدیث کے آخر میں ہے کہ اِمام مہدی چالیس سال تک ٹھہریں گے اس کی تخریج کی حافظ ابو نعیم اصفہانی نے مناقب مہدی میں۔

قارئین کرام! عقد الدار کی مختلف روایات سے اِمام مہدی کی عمر چالیس سال معلوم ہوتی ہے آپ کا دور حکومت سات یا آٹھ سال پر مشتمل ہوگا آپ قرب قیامت تشریف لائیں گے۔ اسی کتاب کے صفحہ 242 پر ابو سعید خدری سے مروی ہے:

قال رسول اللهﷺ يَكُونُ عِنْدَ انقِطَاع مِنَ الزَّمَانِ وَظُهُورٍ مِّنَ الْفِتَنِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ الْمَهْدِى اطاعه هيّنا

حضورﷺ نے فرمایا قرب قیامت اور فتنوں کے رونما ہونے کے وقت ایک مرد آئے گا جس کو مہدی کہا جاتا ہے اس کی اطاعت بہت مبارک ہے صفحہ 213 کے الفاظ یہ ہیں۔ 

فيبعث اللهُ عَزَّ وَجَلَّ رَجُلًا منْ عِترَتي فَيَمْلَا الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ ظُلْمًا وَجَوْرًا يَرْضى عَنْهُ سَاكِنُ السَّمَاءِ وَ سَاكِنُ الْأَرْضِ لَا تَدحرُ الْأَرْض مِنْ بَذْرِهَا شَيْئًا إِلَّا أَخْرَجَتهُ وَلَا السَّمَاءُ مِنْ قَطَرِهَا شَيْئًا الا صَبَ اللهُ عَلَيْهِم مدْرَارًا يَعيش فِيهِمْ سَبْعَ سِنِينَ أَوْ ثَمَانِ أَو تِسْع

حضورﷺ نے فرمایا پھر اللہ تعالیٰ میری اولاد میں سے ایک مرد بھیجے گا پھر تمام زمین عدل و انصاف سے بھر جائے گی جس طرح پہلے ظلم و زیادتی سے بھرپور ہو گی زمین و آسمان والے اس سے راضی ہوں گے زمین اپنے اندر کے تمام بیچ باہر نکال دے گی اور آسمان پانی کے قطرے لوگوں پر برسائے گا وہ لوگوں میں سات آٹھ یا نو سال رہے گا۔ 

قارئین کرام! ان روایات سے یہی ثابت ہوا کہ اِمام مہدی قرب قیامت تشریف لائیں گے ان کی کل عمر چالیس برس ہو گی اور اکثر روایات کے مطابق وہ سات آٹھ یا نو سال تک اپنے فرائض سرانجام دیں گے اگرچہ ایک روایت میں چالیس سال بھی آیا ہے ہو سکتا ہے کہ اس روایت کا مفہوم یہ ہو کہ وہ پیدا ہوتے ہی عوام کے لیے باعث رحمت و برکت ہوں گے لیکن حکومت کے فرائض نو سال تک سرانجام دیں گے۔

لیکن چالیس سے زائد سال کی عمر کسی ایک روایت میں موجود و مذکور نہیں تمام شیعوں کو میرا چلینج ہے کہ امام مہدی کی عمر (جیسے وہ کہتے ہیں کہ وہ 255ہجری میں پیدا ہوئے اور ابھی موجود ہیں اور آئیں گے) ان کے حساب سے بارہ تیرہ سو سال اب تک بنتی ہے اور جب آئیں گے اس وقت ان کی مجموعی عمر خدا بہتر جانتا ہے کتنی ہوگی۔ 

چیلنج: اتنی طویل عمر کسی ایک ایسی روایت سے ثابت کر دکھائیں جس میں حضورﷺ کا ارشاد گرامی ہو کہ میری اولاد میں سے ایک مرد "مہدی" نام کا آئے گا جو ڈھائی سو سال میرے بعد پیدا ہو گا اور پھر آٹھ نو سال کی عمر میں چھپ جائے گا صدیوں بعد نکلے گا اور عدل و انصاف قائم کرے گا اگر اس طرح کی کوئی صحیح حدیث دکھا دے میں اس کو بیس ہزار روپے نقد انعام پیش کروں گا۔

 اِمام مہدی کے بارے میں آپ نے اہلِ سنت اور شیعوں کا عقیدہ ملاحظہ فرمایا اس کی روشنی میں نور الابصار کی مذکورہ عبارت کو دیکھیں اس کے مصنف نے اگرچہ اِمام مہدی کے بارے میں مختلف شیعہ مصنفین کے عقلی و نقلی دلائل ذکر کیے ہیں لیکن ان کا انداز تردیدی نہیں بلکہ اثباتی ہے اہلِ تشیع کا عقیدہ اپنی کتاب میں ان کے دلائل کے ساتھ ذکر کرنا اور اپنا مسلک یعنی اہلِ سنت کا اس بارے میں مسلک نظر انداز کر دینا اس طرف نشاندہی کرتا ہے کہ صاحبِ نور الابصار میں شیعیت کی طرف میلان ہے اس لیے اس کی عبارت اور کتاب کو اہلِ سنت کی کتاب و عبارت کہنا غلط ہے اس لیے اس کی تحریر ہم اہلِ سنت کے خلاف حجت نہیں ہو سکتی۔

 فاعتبروا یا أولى الابصار


صفحہ 3 از 3