Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اہلِ سنت والجماعت کیا ہے؟ اور کیا چاہتی ہے؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

تعارف:

 اہلِ سنت والجماعت کیا ہے؟ اور کیا چاہتی ہے؟

 یوں تو صدیوں سے سنی شیعہ کا تنازعہ چلا آ رہا ہے۔ اسلامی تاریخ کا کوئی دور کوئی قرن کوئی زمانہ ایسا نہیں گزرا جس میں شیعہ کی ستم کاریوں سے اسلام کا سینہ چھلنی نہ ہوا ہو۔سیدنا عمرؓ کی شہادت سے لے کر سکوت ڈھاکہ تک ہر المیہ اور ہر دکھ اسی نامسعود فتنے کی خامہ فرسائی ہے۔

 ‏سیدنا جعفر صادقؒ کا قول ہے:

 "من كنتم دينه فاعزو من اظهر فقد استذل"

(اصول کافی)

 ‏"جو شخص اپنے مذہب کو چھپائے گا عزت پائے گا جو ظاہر کرے گا ذلیل ہوگا"

 ‏بقول شیعہ یہی وہ تاریخ ساز اصول تھا جس کے پردے میں 14 صدیوں سے شیعہ عقائد کی غلاظت کو چھپایا گیا صلاح الدین ایوبیؒ، نورالدین زنگیؒ، فاطمیوں، سلجوکیوں کی معرکہ آرائی، اکبر بادشاہ، مغل حکمرانوں، مدارس عربیہ کے نصاب، بڑے بڑے دینی اداروں، علماء کی مجالس، اکابرین اسلام کی محفلوں، علمی تصانیف القصہ کوئی ایسی جگہ اور موقع نہیں جہاں اپنے اصلی عقائد کو چھپا کر تقیہ جیسے دجل و فریب کے ہتھیار سے شیعہ نے مسلم قوم کو چرکے نہیں لگائے۔ متعہ کے نام پر عورتوں کو بادشاہوں کے درباروں میں سجایا گیا۔ تقیہ کی بنیاد پر صحابہ کرام رضوان اللّٰه علیہم اجمعین سے محبت کا اظہار کر کے ہر دور کے مسلمانوں کو فریب دیا گیا۔ شیعہ مذہب کی بنیاد عہدِ عثمانی میں یہودی النسل عبداللہ بن سبا نے رکھی اس وقت سے یہ مذہب مسلم اقوام کے در پہ آزار ہے۔

 ‏فتنہ و فساد میں شیعہ کی تاریخ دنیا بھر کی تمام اقوام کو پیچھے چھوڑ گئی۔ عہد حاضر میں تحریک پاکستان ہو،تحریک ختم نبوت ہو، تحریک نظام مصطفی ہو، ہر جگہ شیعه نے اپنے زعم میں سیدنا جعفر صادقؒ کے اصول کے مطابق تقیہ کا ہتھیار تھامے رکھا۔ اور امت مسلمہ کو ایسا فریب دیا کہ الامان الحفیظ۔ تآنکہ 11 فروری 1979ء کو ایران میں بادشاہت کا تختہ الٹ کر شیعہ کے روحانی پیشوا خمینی برسر اقتدار آگئے۔ اس نے چونکہ ڈھائی ہزار سالہ شہنشاہت کا خاتمہ کیا تھا اور انقلاب بھی اسلام کے نام پر برپا کیا تھا۔ اس لیے مسلم دنیا نے دفعتاً اس انقلاب کو خوش آمدید کہا۔ ہر مسلمان جو دنیا کے کسی بھی خطے میں آباد تھا، چونک اٹھا۔ غیر مسلم سیکولر اقوام نے اس تبدیلی کو مذہبی انقلاب کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت دی۔

 ‏دنیا بھر کا میڈیا اور ذرائع ابلاغ کئی ماہ تک اس انقلاب پر تبصرے کرتے رہے۔ تمام اسلامی ممالک سے علماء اور مذہبی زعماء کے وفود سال بھر ایران پہنچ کر خمینی کو مبارکباد دیتے رہے۔ خمینی نے دنیا کے 144 اسلامی ممالک کی طرف سے ناقابل بیان خراج تحسین ملاحظہ کیا۔ تو ہر خطے میں یہ نعرہ لگانا شروع کر دیا۔

                          لا شرقیہ لاغربیہ

                         ‏ اسلامیہ اسلامیہ

                         ‏ لا شیعہ لا سنیہ

 ‏ اسلامیہ اسلامیہ 

 ‏اس دل فریب اور خوبصورت نعرے نے ایسی مہمیز لگائی کہ لادین سیاست دانوں، ملحد حکمرانوں، اسلام سے بے بہرہ دانشوروں، نامور اہل قلم، اور بڑے بڑے اہلِ علم نے عقائد شیعہ کا پورا باب فراموش کر کے خمینی کے قصیدے پڑھنے شروع کر دیے۔ ادھر کئی ضمیر فروش قلم کاروں کی چاندی ہو گئی۔ انہوں نے ایرانی سفارت خانوں اور خانہ فرہنگ ہائے ایران کے نام پر دنیا بھر میں قائم ہونے والے شیعہ کے تبلیغی اڈوں کے ذریعے خوب دولت کمائی۔ کروڑوں روپے کے عوض ہر سال 11 فروری کو ایران انقلاب کو اسلامی انقلاب قرار دینے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ خمینی اور اس کے پیروکاروں نے دنیا بھر میں شیعہ انقلاب برپا کرنے کا پروگرام بنایا۔ خانہ کعبہ میں ہنگامہ آرائی اسی پروگرام کا حصہ تھی۔ بالاخر کب تک غلاظت کا تعافن پوشیدہ رہتا۔ شیعہ عقائد کی اصلی سڑانڈ کیوں کر مشام جان کو متعفن نہ بناتی۔

 ‏صرف دو سال کے عرصے میں جب خمینی کی تصانیف اور افکار و نظریات ایرانی حکومت کے خرچ پر 13 زبانوں میں شائع ہوئے تو پوری دنیا تشدد رہ گئی۔ "لا شیعہ و لا سنیہ" کا نعرہ لگانے والے ایرانی پیشوا کی کتاب "کشف الاسرار" اور "حکومت اسلامیہ" جب شائع ہوئیں تو اس میں بغیر کسی تاویل اور اشاروں کنائیوں کے بڑی ڈھٹائی ہٹ دھرمی اور ضد کے ساتھ سیدنا ابوبکرؓ کو قرآن کا دشمن، سیدنا عمر فاروقؓ کو کافر، اور سیدنا عثمان غنیؓ کو بدقماش تحریر کیا گیا۔ بس پھر کیا تھا 44 ملکوں کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اسلامی انقلاب کے علمبردار ہونے کے دعوے دار کی اس اسلام دشمنی نے اپنے ہی امام سیدنا جعفر صادقؒ کے اصول کی دھجیاں فضائے آسمانی میں اڑا دیں۔ جو شیعیت 1400 سال سے تقیہ کی سیاہ چادر کے نیچے چھپی ہوئی تھی۔ جس مذہب کے مطالعہ کرنے والوں نے شروع ہی سے انہیں کافر قرار دیا تھا اور تقیہ کی وجہ سے پھر بھی شیعہ کو غیر مسلم اقوام کے صفحوں میں ان کو رکھ نہ سکے تھے۔ ان کے سامنے اسلام کے نام پر پوری دنیا کو فریب دینے والا کفر آشکار ہو چکا تھا۔ دبیز تہوں سے پردہ اٹھ چکا تھا۔ ایرانی حکومت کی سطوت اور ہر موقع پر جنگ آزمائی کا تجربہ رکھنے کی وجہ سے دنیا بھر کی مسلمان حکومتیں مہر بلب تھیں۔ ایسے حالات میں مفکر اسلام مولانا منظور احمد نعمانیؒ نے انڈیا سے "شیعیت اور ایرانی انقلاب" نامی کتاب سب سے پہلے شائع کر کے حق و صداقت کی اواز اٹھائی۔

 ‏بیروت سے "جائدور المجوس" اور مصر سے "ڈاکٹر فتحی" کا لٹریچر شائع ہوا. پاکستان سے مولانا ضیاء الرحمان فاروقیؒ کی کتاب "خمینی ازم اور اسلام" شائع ہوئی۔ لیکن کتابوں کی اس تنقید کے بعد بھی برصغیر اور ایشیائی اقوام میں خمینی کے اسلامی دعوے کا سحر نہ ٹوٹا۔

 ‏ ایرانی ریڈیو کے پروپیگنڈا اور حرص و آز کی جھنکار نے عالم اسلام کے کئی رہنماؤں کو تماشائی بنا دیا تھا۔ خمینی کے مصنوعی طلسم کو توڑنا آسان کام نہ تھا۔ پاکستان کا شیعہ، ایرانی حکومت کا اہلکار، اور دنیا بھر کے سبائی ایرانی انقلاب کو ہر ملک میں برپا کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے۔

 ‏ اس سلسلے میں 1980ء میں پاکستان میں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے نام سے ایک جماعت بھی بنائی گئی۔ اس جماعت میں شیعیت کے فروغ اور خمینی افکار کے ابلاغ کے لیے نظریہ پاکستان اور اکثریتی سنی ملک کے عقائد کے مقابلے میں دو فیصد شیعہ اقلیت کی فقہ کے نفاذ کی تحریک شروع کر دی۔

 ‏اندریں حالات محض خدا کی تائید اور نصرت الہی کے باعث اللہ کی طرف سے پاکستان کے ایک حوصلہ مند اور جری نوجوان مجاہد اسلام حضرت مولانا حق نواز جھنگویؒ کو جرأت عطا کی گئی۔ انہوں نے پاکستان میں سب سے پہلے نہایت بے باکی کے ساتھ خمینی افکار کو برسر عام بڑے بڑے جلسوں اور کانفرنسوں میں اسلام سے بغاوت اور کفریہ نظریات کا حامل قرار دیا۔ بس پھر کیا تھا خمینی طلسم کو توڑنا تھا کہ مصائب و مشکلات کے دھانوں نے منہ کھول دیا۔ عواقب اور مصائب کی کالی کالی گھٹائیں چہار سو پھیل گئی تھیں۔ دکھوں اور آلام کی کھائیاں نہیف و نزار مجاہد کو نگلنے کے لیے ہر لمحے تیار کھڑی تھی۔ میاں والی، ڈیڑہ غازی خان، ملتان، فیصل آباد، اور لاہور کی جیلوں میں قائد شہید نے طویل عرصہ تک قید تنہائی کے پرخطر لمحات گزارے۔ آپ پر قتل،اغوا اور لڑائیوں کے سینکڑوں جھوٹے مقدمات قائم کیے گئے۔ خمینی اور شیعہ کے خلاف جس جرأت اور بسالت کے ساتھ آپ نے حق و صداقت کی آواز اٹھائی وہ آپ ہی کا حصہ تھا۔ تاریخ کا طالب علم جانتا ہے کہ رفض و سبائیت کے خلاف 14 صدیوں میں جب بھی کسی مجاہد اسلام نے آواز اٹھائی۔ وہ ایسے ہی مشکلات کے بھنور میں غوطہ زن ہوا۔ وہ امام احمد بن حنبلؒ ہوں،شیخ الاسلام ابنِ تیمیہؒ ہوں، امام ربانی مجدد الف ثانیؒ ہوں، حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ ہوں، حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ ہوں، حضرت قاضی ثنا اللہ پانی پتیؒ ہوں، مولانا قاسم نانوتویؒ ہوں، حضرت مولانا عبدالشکور لکھنویؒ ہوں، تاریخ کی کون سی ایسی شخصیت ہے جس نے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین دشمنوں کے خلاف آواز اٹھائی ہو اور وہ طمانیت و سکون کی نیند سوتا رہا ہو۔

 ‏ اسے مصائب کے جھکڑوں نے ہچکو لے نہیں دیے۔ اسے آلام کی گھاٹیوں میں نہیں لوٹنا پڑا، وہ تکلیف کی وادیوں میں نہیں اتارا گیا، جملہ اکابرین اسلام کی مساعی اور جہد مسلسل ہی کا یہ اثر تھا کہ پاکستان میں حق نواز شہیدؒ جیسا جری انسان آگ اور خون کے سمندر میں کود پڑا۔

 ‏ پہلے بزرگوں کو شیعہ، مجتہدین، علماء اور مناظرین سے واسطہ پڑا۔ لیکن یہاں معاملہ برعکس تھا۔ اس موقع پر شیعہ کی مذہبی ایرانی حکومت سے پالا پڑا گیا۔ ایک طرف شوکت و حشمت اور دوسری طرف بے سرو سامانی ایک طرف سطوت و طاقت تو دوسری طرف صداقت کا فقر پھر دنیا بھر کی کوئی مسلمان حکومت خمینی کے غیر اسلامی نظریات کے خلاف بحیثیت حکومت آواز اٹھانے کو تیار نہ تھی۔

 ‏ خودغرض سیاست دانوں، لادین مسلم حکمرانوں، اسلام سے بے بہرا ارکان دولت، نے خود بخود مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ ہی کا راستہ روکنا شروع کر دیا۔

 ‏مولانا حق نواز شہیدؒ نے خمینی نظریات اور کفریہ افکار کو روکنے کے لیے 6 ستمبر 1985ء کو جھنگ میں انجمن سپاہ صحابہؓ کی بنیاد رکھی۔ تو ابتدا میں یہ جماعت صرف جھنگ کی حد تک قائم کی گئی۔ 10 فروری 1986ء کو اس جماعت کا دائرہ کار ملک بھر تک وسیع کر دیا گیا۔ ملک بھر میں کام بڑھانے کا اعلان 10 فروری 1986ء کو جھنگ میں ہونے والی آل پاکستان دفاع صحابہؓ کانفرنس میں کیا گیا۔ اس کانفرنس میں لاکھوں عوام اورد ہزاروں علماء شریک ہوئے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ جماعت ملک بھر میں پھیل گئی۔ امیر عظیمت حضرت مولانا حق نواز شہیدؒ کی قائم کردہ اس تنظیم کا مقصد قرآن و سنت کا فروغ، ناموس صحابہؓ کا تحفظ، نظام خلافت راشدہ کے قیام کے لیے جدوجہد، صحابہ کرام رضوان اللّٰه علیہم اجمعین کے خلاف شائع ہونے والے ایرانی اور دنیا بھر کے شیعہ کے لٹریچر کی روک تھام مدح صحابہؓ کے فروغ اور رد قدح صحابہؓ کے اعلان سے جب جماعت کا کام شروع ہوا، تو اہلِ سنت کے تمام مکاتب فکر نے اس میں دلچسپی لینا شروع کی۔ رفتہ رفتہ یہ جماعت مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کی نمائندہ بن گئی۔ اس وقت پاکستان کی بریلوی، دیوبندی، اہلِ حدیث، حنفی، مالکی، حنبلی، شافعی علماء اور عوام کی اکثریت اس کے پروگرام سے متفق ہو چکی ہے۔

 ‏22 فروری 1990ء کو حضرت مولانا حق نواز جھنگویؒ کو ایک گہری ایرانی سازش کے تحت گولی مار کر شہید کر دیا گیا۔ آپ کی شہادت کے بعد پاکستان کے ہر شہر، ہر علاقے، ہر قصبے، میں احتجاج ہوا۔ تین ماہ تک پورے ملک اور دنیا کے تمام ملکوں میں آپ کی علمناک شہادت پر احتجاج ہو رہا ہے۔ شیعہ کی جارحیت اور ظالمانہ بربریت نے جماعت کے لیے نئے راستے کھول دیے۔ 6 مارچ 1990ء کو شہید قائد کی درینہ رفاقت اور آپ کی زندگی میں بھی جیلوں کے موقع پر آپ کی نیابت کی وجہ سے مولانا ضیاء الرحمن فاروقی کو آپ کا جانشین منتخب کیا گیا۔ سب سے پہلے جماعت کا ترجمان ماہنامہ "خلافت راشدہ" (مارچ 1990ء کو) جاری ہوا۔

 ‏ مرکز باڈی کے باقی ماندہ عہدوں کی تکمیل ہوئی مرکزی مجلس شوریٰ قائم ہوئی۔ چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر کی باڈیاں مکمل کی گئیں۔

 ‏ دنیا کے 17 ملکوں میں جماعت کا قیام عمل میں لایا گیا۔ یہ سب کچھ مولانا حق نواز جھنگویؒ کی خواہشات اور آپ کے خون کی برکت سے ہوا۔ جب مولانا ضیاء الرحمن فاروقی کو لاہور سیشن کورٹ میں 18 جنوری 1997ء کو بم دھماکے میں شہید کر دیا گیا۔ تو ان کے جانشین امامِ اہلِ سنت حضرت علامہ علی شیر حیدری کو منتخب کیا گیا۔ پھر جب علامہ علی شیر حیدری شہیدؒ کے علمی اور دلائل سے بھرپور جدوجہد کا دشمن جواب نہ دے سکا۔ تو ایک گہری ایرانی سازش کے تحت خیرپور کی سرزمین پر رات کو جلسے سے واپس آتے ہوئے 17 اگست 2009ء کو گولیاں برسا کر شہید کر دیا گیا۔ ان کے بعد جماعت کا سرپرست حضرت خلیفہ عبدالقیوم صاحب کو بنایا گیا۔