اہل سنت والجماعت کیا ہے؟ اور کیا چاہتی ہے؟ - ردِ رافضیت |…

اہل سنت والجماعت کیا ہے؟ اور کیا چاہتی ہے؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 2

 ‏اندریں حالات محض خدا کی تائید اور نصرت الہی کے باعث اللہ کی طرف سے پاکستان کے ایک حوصلہ مند اور جری نوجوان مجاہد اسلام حضرت مولانا حق نواز جھنگویؒ کو جرأت عطا کی گئی۔ انہوں نے پاکستان میں سب سے پہلے نہایت بے باکی کے ساتھ خمینی افکار کو برسر عام بڑے بڑے جلسوں اور کانفرنسوں میں اسلام سے بغاوت اور کفریہ نظریات کا حامل قرار دیا۔ بس پھر کیا تھا خمینی طلسم کو توڑنا تھا کہ مصائب و مشکلات کے دھانوں نے منہ کھول دیا۔ عواقب اور مصائب کی کالی کالی گھٹائیں چہار سو پھیل گئی تھیں۔ دکھوں اور آلام کی کھائیاں نہیف و نزار مجاہد کو نگلنے کے لیے ہر لمحے تیار کھڑی تھی۔ میاں والی، ڈیڑہ غازی خان، ملتان، فیصل آباد، اور لاہور کی جیلوں میں قائد شہید نے طویل عرصہ تک قید تنہائی کے پرخطر لمحات گزارے۔ آپ پر قتل،اغوا اور لڑائیوں کے سینکڑوں جھوٹے مقدمات قائم کیے گئے۔ خمینی اور شیعہ کے خلاف جس جرأت اور بسالت کے ساتھ آپ نے حق و صداقت کی آواز اٹھائی وہ آپ ہی کا حصہ تھا۔ تاریخ کا طالب علم جانتا ہے کہ رفض و سبائیت کے خلاف 14 صدیوں میں جب بھی کسی مجاہد اسلام نے آواز اٹھائی۔ وہ ایسے ہی مشکلات کے بھنور میں غوطہ زن ہوا۔ وہ امام احمد بن حنبلؒ ہوں،شیخ الاسلام ابنِ تیمیہؒ ہوں، امام ربانی مجدد الف ثانیؒ ہوں، حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ ہوں، حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ ہوں، حضرت قاضی ثنا اللہ پانی پتیؒ ہوں، مولانا قاسم نانوتویؒ ہوں، حضرت مولانا عبدالشکور لکھنویؒ ہوں، تاریخ کی کون سی ایسی شخصیت ہے جس نے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین دشمنوں کے خلاف آواز اٹھائی ہو اور وہ طمانیت و سکون کی نیند سوتا رہا ہو۔

 ‏ اسے مصائب کے جھکڑوں نے ہچکو لے نہیں دیے۔ اسے آلام کی گھاٹیوں میں نہیں لوٹنا پڑا، وہ تکلیف کی وادیوں میں نہیں اتارا گیا، جملہ اکابرین اسلام کی مساعی اور جہد مسلسل ہی کا یہ اثر تھا کہ پاکستان میں حق نواز شہیدؒ جیسا جری انسان آگ اور خون کے سمندر میں کود پڑا۔

 ‏ پہلے بزرگوں کو شیعہ، مجتہدین، علماء اور مناظرین سے واسطہ پڑا۔ لیکن یہاں معاملہ برعکس تھا۔ اس موقع پر شیعہ کی مذہبی ایرانی حکومت سے پالا پڑا گیا۔ ایک طرف شوکت و حشمت اور دوسری طرف بے سرو سامانی ایک طرف سطوت و طاقت تو دوسری طرف صداقت کا فقر پھر دنیا بھر کی کوئی مسلمان حکومت خمینی کے غیر اسلامی نظریات کے خلاف بحیثیت حکومت آواز اٹھانے کو تیار نہ تھی۔

 ‏ خودغرض سیاست دانوں، لادین مسلم حکمرانوں، اسلام سے بے بہرا ارکان دولت، نے خود بخود مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ ہی کا راستہ روکنا شروع کر دیا۔

 ‏مولانا حق نواز شہیدؒ نے خمینی نظریات اور کفریہ افکار کو روکنے کے لیے 6 ستمبر 1985ء کو جھنگ میں انجمن سپاہ صحابہؓ کی بنیاد رکھی۔ تو ابتدا میں یہ جماعت صرف جھنگ کی حد تک قائم کی گئی۔ 10 فروری 1986ء کو اس جماعت کا دائرہ کار ملک بھر تک وسیع کر دیا گیا۔ ملک بھر میں کام بڑھانے کا اعلان 10 فروری 1986ء کو جھنگ میں ہونے والی آل پاکستان دفاع صحابہؓ کانفرنس میں کیا گیا۔ اس کانفرنس میں لاکھوں عوام اورد ہزاروں علماء شریک ہوئے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ جماعت ملک بھر میں پھیل گئی۔ امیر عظیمت حضرت مولانا حق نواز شہیدؒ کی قائم کردہ اس تنظیم کا مقصد قرآن و سنت کا فروغ، ناموس صحابہؓ کا تحفظ، نظام خلافت راشدہ کے قیام کے لیے جدوجہد، صحابہ کرام رضوان اللّٰه علیہم اجمعین کے خلاف شائع ہونے والے ایرانی اور دنیا بھر کے شیعہ کے لٹریچر کی روک تھام مدح صحابہؓ کے فروغ اور رد قدح صحابہؓ کے اعلان سے جب جماعت کا کام شروع ہوا، تو اہلِ سنت کے تمام مکاتب فکر نے اس میں دلچسپی لینا شروع کی۔ رفتہ رفتہ یہ جماعت مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کی نمائندہ بن گئی۔ اس وقت پاکستان کی بریلوی، دیوبندی، اہلِ حدیث، حنفی، مالکی، حنبلی، شافعی علماء اور عوام کی اکثریت اس کے پروگرام سے متفق ہو چکی ہے۔

 ‏22 فروری 1990ء کو حضرت مولانا حق نواز جھنگویؒ کو ایک گہری ایرانی سازش کے تحت گولی مار کر شہید کر دیا گیا۔ آپ کی شہادت کے بعد پاکستان کے ہر شہر، ہر علاقے، ہر قصبے، میں احتجاج ہوا۔ تین ماہ تک پورے ملک اور دنیا کے تمام ملکوں میں آپ کی علمناک شہادت پر احتجاج ہو رہا ہے۔ شیعہ کی جارحیت اور ظالمانہ بربریت نے جماعت کے لیے نئے راستے کھول دیے۔ 6 مارچ 1990ء کو شہید قائد کی درینہ رفاقت اور آپ کی زندگی میں بھی جیلوں کے موقع پر آپ کی نیابت کی وجہ سے مولانا ضیاء الرحمن فاروقی کو آپ کا جانشین منتخب کیا گیا۔ سب سے پہلے جماعت کا ترجمان ماہنامہ "خلافت راشدہ" (مارچ 1990ء کو) جاری ہوا۔

 ‏ مرکز باڈی کے باقی ماندہ عہدوں کی تکمیل ہوئی مرکزی مجلس شوریٰ قائم ہوئی۔ چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر کی باڈیاں مکمل کی گئیں۔

 ‏ دنیا کے 17 ملکوں میں جماعت کا قیام عمل میں لایا گیا۔ یہ سب کچھ مولانا حق نواز جھنگویؒ کی خواہشات اور آپ کے خون کی برکت سے ہوا۔ جب مولانا ضیاء الرحمن فاروقی کو لاہور سیشن کورٹ میں 18 جنوری 1997ء کو بم دھماکے میں شہید کر دیا گیا۔ تو ان کے جانشین امامِ اہلِ سنت حضرت علامہ علی شیر حیدری کو منتخب کیا گیا۔ پھر جب علامہ علی شیر حیدری شہیدؒ کے علمی اور دلائل سے بھرپور جدوجہد کا دشمن جواب نہ دے سکا۔ تو ایک گہری ایرانی سازش کے تحت خیرپور کی سرزمین پر رات کو جلسے سے واپس آتے ہوئے 17 اگست 2009ء کو گولیاں برسا کر شہید کر دیا گیا۔ ان کے بعد جماعت کا سرپرست حضرت خلیفہ عبدالقیوم صاحب کو بنایا گیا۔


صفحہ 2 از 2