Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ڈاک خانے کے خطوط و رسائل

  علی محمد الصلابی

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ گورنران کے پاس قاصد ڈاکیا کے ذریعہ ڈاک بھیجتے تھے اور قاصد کو حکم دیتے تھے کہ جب وہ مدینہ لوٹنے لگے تو لوگوں میں اعلان کر دے کہ کیا کوئی شخص امیر المؤمنین کے نام کوئی خط بھیجنا چاہتا ہے؟ اس اعلان کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ قاصد اس خط کو والی ریاست کی کسی دخل اندازی کے بغیر امیر المؤمنین تک پہنچائے، خود نامہ بر بھی یہ نہ جانتا تھا کہ ان خطوط میں کیا تحریر ہے۔ چنانچہ اس امانت داری کا نتیجہ یہ ہوتا کہ والی ریاست یا اور کسی کی اطلاع کے بغیر براہ راست حضرت عمرؓ سے اپنی شکایت اور دکھ درد پیش کرنے کے لیے لوگوں کے سامنے راستہ کھلا رہتا، جب وہ قاصد خطوط لے کر حضرت عمرؓ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچتا تو آپؓ انہیں زمین پر پھیلا دیتے اور ایک کر کے سارے خطوط دیکھتے اور پڑھتے۔

(تاریخ المدینۃ: جلد 2 صفحہ 761)