تاریخی دستاویزات اور صحابہؓ کے افکار کی اشاعت:
دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓتاریخی دستاویزات اور صحابہؓ کے افکار کی اشاعت:
الحمدللہ ملک اور بیرون ملک تنظیمی کام کئی گنا بڑھ چکا ہے۔ اہلِ سنت والجماعت کو محض توفیق ایزدی کے تحت وزیراعظم حکومتی کمیٹیوں اور اخبارات کے بڑے بڑے فورموں پر اپنا مؤقف پیش کرنے کی سعادت ملی۔ صحابہ کرام رضوان اللّٰه علیہم اجمعین کی برکت کے باعث اب ہر علاقے، ہر سوسائٹی، ہر طبقے، اور ہر محکمے میں اہلِ سنت والجماعت کا پیغام عام ہو چکا ہے۔
مولانا ضیاء الرحمن فاروقی شہیدؒ کی کچھ تصانیف اور کتابوں نے اہلِ سنت والجماعت کے مشن کو عام کرنے میں جو بظاہر کامیابی عطا کی ہے۔ وہ بھی قائد شہیدؒکے اخلاص ہی کا نتیجہ ہے۔
سابق وزیراعظم نواز شریف کو 28 ستمبر 1991 کو گورنر ہاؤس لاہور میں 400 علماء کی موجودگی میں شیعہ کی قابل اعتراض 561 کتابیں پیش کی گئیں۔ اس کے علاوہ تمام کتب کے اصلی عکس پر مشتمل تین زبانوں میں "تاریخی دستاویز" تیار کر کے شیعہ کے تقیہ کو چوراہے میں توڑ دیا گیا۔
ملک کے بڑے بڑے شہروں میں جہاں چار سال قبل ایک ایک دو دو یونٹ تھے۔ آج وہاں 40 اور 100 یونٹوں کی تعداد پہنچ چکی ہے۔ فروری 1990ء میں مولانا حق نواز جھنگویؒ کی شہادت سے پہلے حالانکہ چار سال سے جماعت قائم تھی۔ لیکن اس عرصے میں ملک بھر میں قتل و غارت کا ایک ادھ واقعہ پیش نہیں آیا تھا۔ تاہم قائد کی شہادت کے بعد جو کچھ ہوا وہ ردِ عمل عوام کے اشتعال کا نتیجہ تھا۔ اب جب بھی جھنگ میں امن قائم ہوتا ہے۔ انگریز کا مراعات یافتہ شیعہ جاگیردار طبقہ جن کا صدیوں پرانا اقتدار خاک میں مل چکا ہے وہ کسی نہ کسی طرح فساد کے لیے ہر دن نیا حربہ اختیار کرتا ہے۔ ظاہر ہے جس جماعت کے پاس قومی و صوبائی اسمبلی کی سیٹوں اور بلدیاتی ادارے کا انتظام و انصرام بھی موجود ہو وہ کیوں کر اپنے شہر کو بد امنی اور انارکی میں مبتلا کر سکتا ہے۔ جماعت نے 1990ء کا ایک انتخاب جھنگ سے صرف اس لیے لڑا تھا تاکہ قومی اسمبلی میں ناموس صحابہؓ کے تحفظ کے لیے قانون بنوایا جائے۔ اس کے لیے ابتدائے نائب سرپرست اعلی مولانا ایثار القاسم شہیدؒ کو جماعت نے نامزد کیا۔ جنہوں نے شیعہ جاگیردار امان اللہ خان سیال کو شکست دے کر بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے 2 جنوری 1991ء کو قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں ناموس صحابہؓ کے تحفظ اور صحابہ رضوان اللّٰه علیہم اجمعین کے خلاف ایرانی حکومت کی جاہلیت کے خلاف آواز اٹھائی۔
لیکن 10 جنوری 1991 کو انہیں گولی مار کر شہید کر دیا گیا۔ اس کے بعد مولانا اعظم طارق کو نامزد کیا گیا۔ وہ دو مرتبہ ایم پی اے اور دو مرتبہ ایم این اے منتخب ہوئے۔ ان کو بھی 6 اکتوبر 2003ء کو اسلام آباد کے معروف شاہراہ کشمیر ہائی وے گولڑا موڑ ٹول پلازہ پر اسمبلی جاتے ہوئے شہید کر دیا گیا۔