Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام
زبان تبدیل کریں:

‏نظامِ خلافتِ راشدہ کا احیاء:

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

اغراض و مقاصد۔۔۔۔۔۔ نصب العین۔۔۔۔

 ‏نظام خلافت راشدہ کا احیاء:

 ‏پاکستان کے قیام کو آج تقریبا 60 سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔ جو حکمران بھی برسر اقتدار آیا اس نے ملک کی عوام کو اسلام کا نعرہ لگا کر دھوکہ دیا۔

 ‏ کبھی طفل تسلی کے لیے اسلامی نظریاتی کونسلیں بنائی گئی۔ کبھی مشاورتی کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں۔ کبھی مجلس شوریٰ کا راگ الاپا گیا۔

 ‏ لیکن یہ سب باتیں ایک فریب یا دھوکہ سے زیادہ حقیقت نہ رکھتی تھیں۔ ہر حکمران نے اسلام، قرآن اور عشق رسولﷺ کا کئی کئی بار ریڈیو، ٹی وی پر تذکرہ کیا۔ لیکن ایک چیز جو ہمیں حاصل نہ ہو سکی وہ تھی مکمل اسلامی حکومت۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر حکمران قرآن و حدیث کا نعرہ لگا کر اس کی تشریحات انگریزی قوانین اور انگریزی تمدن کی روشنی میں کیں۔ اگر قرآن و حدیث کے عملی نفاذ کے لیے خلفائے راشدین کے 50 سالہ دور حکومت کو نشانِ راہ بنایا جاتا، ان کے قوانین سے ریزہ چینی کی جاتی، ان کے معارف سے نئی نسل کے قلوب و اذہان کو سنوارا جاتا تو آج یہ ملک عدل و انصاف اور مساوات میں اپنی مثال آپ ہوتا۔ اس کی عدالتوں کے فیصلے 15، 15 سال تک التوا میں نہ پڑے رہتے۔ یہاں قاتلوں کو رشوت دے کر سزا سے بچ جانے کا آسرہ نہ ہوتا۔ رشوت، ڈکیتی، بدمعاشی، قہبہ گری، شرک و کفر کی یہ ظلمت شب تیرہ و تار ہو جاتی۔ عافیت کا کمبل کھلتا سکون اور تمانیت کے زیور سے پوری سلطنت آراستہ ہوتی۔ عرب کے بدوؤں، عجم کے خون خواروں، کسرہ ایران کے آتش پرستوں کو جس نظام حیات نے باہمی محبت کی لڑی میں پرو دیا تھا اسی نظام کو آپ نظامِ الہیٰ، نظام مصطفیﷺ، یا نظامِ خلافت راشدہؓ کہہ سکتے ہیں۔ خلافت راشدہ اصل میں آنحضرتﷺ کے 23 سالہ دور نبوت کا پریکٹیکلی دور ہے۔

 ‏ اسی عمل اور تجرباتی زری عہد کے احیا کے لیے اہلِ سنت والجماعت ہر دم کوشاں ہے۔ اہلِ سنت والجماعت اسی نظام حیات کو پاکستان کے تمام مسائل کا حل قرار دیتے ہیں۔

 ‏ اسی نظام کے ذریعے دنیا بھر میں اسلام کا غلبہ ممکن ہے۔ غلبہ اسلام ہی ہماری اولین ترجیح ہے۔