خلفائے راشدینؓ کے ایام پر سرکاری تعطیل کی جائے
دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓخلفائے راشدینؓ کے ایام پر سرکاری تعطیل کی جائے
خلافت راشدہ کا دور دنیا کا سب سے درخشندہ عہد ہے خلفائے راشدین کا طرز حکومت سادگی اور رعایہ پروری کا عظیم شاہکار ہے خلفاء کی زندگیاں دنیا کے ہر حکمران کے لیے نمونہ حیات ہیں۔ ان کے تعلیمات کے اتر بیز سے ایک زمانہ معطر ہے ان کے اعلی شب و روز بے انتہا حسین اور قابل فخر ایام تقلید کے حامل ہیں ان کی بیشتر اصلاحات سے غیر مسلموں نے فائدہ اٹھایا ان کے کارناموں نے اقوام عالم کی تاریخ میں اعلی امتیاز حاصل کیا۔
عیسائیوں اور یہودیوں تک نے ان کی عظمت کے کردار کی گواہی دینے میں کوئی بخل نہیں کیا۔ پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے اس کی بنیاد اسلام پر رکھی گئی ہے اس کی نئی نسل کے قلوب و اذہان کو اسلامی شخصیات سے واقف کرانا سب سے بڑا کام ہے پھر آنحضرتﷺ کے بعد دنیا بھر اسلام کے صفحۂِ تاریخ پر خلفائے راشدین سے بڑا کس کا نام ہے۔
سیدنا حسینؓ کی شہادت کے ناطے نو 10 محرم کو دو روز کی سرکاری تعطیل ہوتی ہے پورے عشرہ محرم میں ذرائع ابلاغ صرف سیدنا حسینؓ کی شہادت کا تذکرہ کرتے ہیں جبکہ اہلِ سنت کے اکثریت آبادی سیدنا عثمانؓ کی مظلومیت سیدنا عمر فاروقؓ کی شہادت پر بڑے بڑے جلسے کرتے ہیں لیکن ذرائع ابلاغ پر شیعہ افسر شاہی کے غلب غلبے کے باعث خلفائے راشدینؓ کے ایام ہائے شہادت و وفات پر انہیں اہمیت نہیں ملتی۔ ان کے ایام پر ریڈیو اور ٹی وی خاموش رہتا ہے۔ جس سے ملکی اکثریت آبادی میں حکومت کے خلاف لاوا پکنے لگتا ہے۔ نئی نسل خیال کرتی ہے کہ ہماری ساری حکومت نے شیعہ نظریات تو نہیں اپنا لیے۔ اہلِ سنت والجماعت چاہتی ہے کہ خلفائے راشدینؓ کے ایام ہائے وفات شہادت پر سرکاری تعطیل کر کے ملک بھر میں ان کے نام پر مجالس، محافل اور مذاکرات کیے جائیں۔ نئی نسل کو ان کی تعلیمات کا درس دیا جائے۔ فوج میں بہادروں کے لیے "نشانِ حیدر" مخصوص ہے۔ جبکہ اسلام میں سب سے زیادہ فتوحات کا سہرا "سیدنا خالد بن ولیدؓ" کے سر ہے جنہوں نے کفار سے 126 لڑائیاں لڑی اور ایک لڑائی میں شکست نہیں کھائی۔ اقوام عالم میں یہ ایک ایسا عجوبہ ہے جس کی مثال آج تک کوئی پیش نہیں کر سکا۔
اس طرح ہمارے فوجیوں کو "نشانِ خالدؓ" بھی ملنا چاہیے۔ مختلف کارناموں پر "نشانِ صدیقؓ" ،"نشانِ فاروقؓ"، "نشانِ عثمانؓ"،"نشانِ علیؓ" بھی ملنے چاہییں۔