مصر کے گورنر حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے خلاف شکایات
علی محمد الصلابیحضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے تئیں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی نگرانی میں کافی سختی تھی۔ حضرت عمرو بن عاصؓ کے زیر کنٹرول ریاست کے مختلف امور میں حضرت عمرؓ دخل اندازی کرتے رہتے تھے، یہاں تک کہ ایک مرتبہ جب حضرت عمرو بن عاصؓ نے اپنے لیے منبر بنوایا تو ان کی طرف خط لکھا کہ ’’مجھے خبر ملی ہے کہ تم نے اپنے لیے منبر بنوایا ہے، تم اس پر چڑھ کر لوگوں کی گردن پر بیٹھنا چاہتے ہو۔ کیا تمہارے لیے یہ کافی نہیں کہ کھڑے رہو اور مسلمان تمہارے قدموں کے پاس رہیں۔ میں تمہیں زور دے کر کہتا ہوں کہ اسے فوراً توڑ دو۔‘‘
(فتوح مصر وأخبارھا: صفحہ 92) حضرت عمرو بن عاصؓ بھی سیدنا عمر بن خطابؓ کی سخت نگرانی سے کافی ڈرتے تھے اور جانتے تھے کہ امیر المؤمنین عدل و انصاف قائم کرنے اور شرعی حدود کے نفاذ میں کس قدر حریص ہیں۔ اس لیے آپ پوری کوشش کرتے تھے کہ امیر المؤمنین کے پاس میری کوئی ناپسندیدہ خبر نہ پہنچے۔
چنانچہ اسی طرح کا ایک واقعہ یوں پیش آیا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بیٹے عبدالرحمٰن اور ایک دوسرے آدمی نے ایک شربت پی لیا، وہ نہیں جانتے تھے کہ یہ نشہ آور ہے لیکن پینے کے بعد مدہوش ہو گئے پھر خود ہی وہ دونوں حضرت عمرو بن عاصؓ کے پاس آئے اور اپنے اوپر شراب نوشی کی حد نافذ کرنے کا مطالبہ کرنے لگے۔ لیکن حضرت عمرو بن عاصؓ نے دونوں کو ڈانٹ ڈپٹ کر بھگا دیا۔ عبدالرحمٰن نے کہا: اگر آپؓ حد نافذ نہ کرو گے تو میں اپنے والد کو بتا دوں گا۔ حضرت عمرو بن عاصؓ کا بیان ہے کہ میں نے سوچا کہ اگر میں ان دونوں پر حد نافذ نہیں کرتا تو یقیناً خبر پا کر حضرت عمرؓ غصہ ہوں گے اور مجھے معزول کر دیں گے۔ پھر آپؓ نے لوگوں کے مجمع میں ان دونوں کو کوڑے لگوائے اور اپنے گھر میں لا کر ان کے سر کے بال منڈوا دے۔ جب کہ سزا دینے کا صحیح طریقہ یہ تھا کہ مجمع عام میں کوڑے لگتے اور وہیں سر کے بال بھی منڈائے جاتے۔ خبر ملنے کے بعد حضرت عمرؓ نے تہدید آمیز انداز میں حضرت عمرو بن عاصؓ کو خط لکھا، اس کا عنوان یہ تھا:
’’تم نے عبدالرحمٰن کو اپنے گھر میں کوڑے مارے اور اپنے گھر میں اس کا سر منڈوایا حالانکہ تم جانتے ہو کہ یہ میرے حکم کے خلاف ہے۔ عبدالرحمٰن تمہاری رعایا کا ایک عام فرد ہے، تم اس کے ساتھ بھی ویسا ہی کرتے جیسا کہ دوسرے مسلمانوں کے ساتھ کرتے ہو لیکن تم نے سوچا کہ وہ امیر المؤمنین کا صاحبزادہ ہے جب کہ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ جس آدمی پر اللہ کا حق واجب ہوتا ہو اسے اس پر نافذ کرنے میں میرے نزدیک کسی کے لیے کوئی مروت نہیں ہے۔‘‘
(تاریخ المدینۃ: جلد 3 صفحہ 841) حضرت عمرو بن عاصؓ کی گورنری کے دوران میں ان کے مجاہدین کی طرف سے بھی ان کے خلاف کچھ شکایات کی گئیں نیز بعض قبطیوں نے بھی کبھی کبھی آپ کے خلاف حضرت عمرؓ سے شکایات کیں۔ جس کی وجہ سے کئی مرتبہ حضرت عمرؓ نے حضرت عمرو بن عاصؓ کو مدینہ طلب کیا تاکہ ان کی سرزنش کر سکیں۔ بلکہ کبھی کبھی بعض بے اعتدالیوں کی وجہ سے ان کو سزا بھی دی۔ مثلاً ایک مرتبہ جب ایک مصری آدمی کوڑے سے مارے جانے کی شکایت لے کر حضرت عمرؓ کے پاس آیا تو آپؓ نے حضرت عمروؓ اور ان کے صاحبزادے کو طلب کیا پھر مصری آدمی کو عمرو کے بیٹے سے بدلہ لینے کا حکم دیا اور کہا کہ اگر تم اس کے باپ عمرو کو بھی مارو گے تو ہم بیچ میں نہیں آئیں گے۔ پھر سیدنا عمرؓ حضرت عمرو بن عاصؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا:
’’تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنا لیا ہے حالانکہ ان کی ماؤں نے ان کو آزاد جنم دیا ہے۔‘‘
(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 81) اسی نوعیت کا ایک واقعہ یہ بھی ہے کہ ایک فوجی حضرت عمرؓ کے پاس حضرت عمرو بن عاصؓ کی شکایت لے کر آیا کہ انہوں نے اسے منافق کہا ہے۔ حضرت عمرؓ نے شکایت سننے کے بعد عمرو بن عاصؓ کے نام ایک خط لکھ کر اس فوجی کے حوالے کیا کہ یہ خط لے جاؤ اور انہیں دے دو۔ اس خط میں حکم دیا تھا کہ حضرت عمروؓ مجمع عام میں بیٹھیں اور گواہوں کی گواہی سے فوجی کی شکایت کی تصدیق ہو جانے پر اس سے اپنے اوپر کوڑے لگوائیں چنانچہ گواہوں نے تصدیق کر دی کہ ہاں حضرت عمروؓ نے اسے منافق کہا ہے۔ جب یہ تصدیق ہو گئی تو بعض لوگوں نے سوچا کہ اگر فوجی حضرت عمروؓ کو نہ مارتا اور اس کے بدلے کچھ معاوضہ لے کر چھوڑ دیتا تو بہتر ہوتا لیکن اس نے انکار کر دیا اور جب حضرت عمروؓ کے سر کے پاس انہیں مارنے کھڑا ہوا تو ان سے پوچھا: کیا آپؓ کو مارنے سے مجھے کوئی چیز روک سکتی ہے؟ حضرت عمروؓ نے کہا: نہیں! جس بات کا تمہیں حکم ملا ہے اسے کر گزرو، تب اس آدمی نے کہا: میں نے آپؓ کو معاف کر دیا۔
(تاریخ المدینۃ: جلد 3 صفحہ 807، 808 اس روایت کی سند منقطع ہے)