بصرہ کے گورنر حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے خلاف شکایات
علی محمد الصلابیحضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کے ساتھ ایک آدمی تھا، وہ دشمنوں میں کافی رعب رکھنے والا اور انہیں زیر کرنے والا تھا، ایک فتح کے موقع پر مجاہدین کو مال غنیمت حاصل ہوا، حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے اس آدمی کو اس کے حصے کا کچھ مال دے دیا لیکن اس نے کہا: میں اتنا ہی نہیں بلکہ سب لوں گا۔ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ ناراض ہو گئے اور اسے بیس کوڑے مارے اور سر کے بال منڈوا دیے۔ اس آدمی نے اپنے بالوں کو اکٹھا کیا اور لے کر سیدھا حضرت عمر بن خطابؓ کے پاس پہنچا۔ حضرت جریرؓ کا بیان ہے کہ میں سیدنا عمر بن خطابؓ کے بالکل قریب بیٹھا تھا۔ اس آدمی نے آتے ہی اپنا ہاتھ جیب میں ڈالا اور بالوں کو نکال کر انہیں حضرت عمرؓ کے سینے پر پھینک دیا اور کہا: سنیے! اللہ کی قسم اگر جہنم کا خوف نہ ہوتا تو۔۔۔ سیدنا عمرؓ نے فرمایا: تم سچ کہہ رہے ہو کہ اگر جہنم کا خوف نہ ہوتا تو۔۔۔ پھر اس نے اپنا پورا قصہ بیان کیا کہا کہ میں دشمنوں کو زیر کرنے والا اور ان میں رعب رکھنے والا آدمی تھا اور پھر اپنا پورا واقعہ بتایا اور کہا: مجھے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے بیس کوڑے مارے ہیں اور میرا سر منڈوایا ہے۔ وہ سوچتے ہیں کہ ان سے بدلہ نہیں لیا جائے گا۔ حضرت عمرؓ نے اس کی بات سن کر فرمایا: اگر میری ساری رعایا اس آدمی کی طرح جرأت مند ہو جائے تو یہ میرے نزدیک سارے مال غنیمت سے بہتر ہے پھر آپؓ نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کے نام خط لکھا:
’’السلام علیک
حمد و صلاۃ کے بعد! فلاں نے مجھے ایسی ایسی بات بتائی ہے اگر تم نے یہ حرکت مجمع عام میں کی ہے تو میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ مجمع عام میں بیٹھو تاکہ وہ تم سے بدلہ لے اور اگر تنہائی میں کی ہے تو تنہائی میں بیٹھو تاکہ وہ تم سے بدلہ لے۔‘‘ چنانچہ وہ آدمی آیا، تو لوگوں نے اس سے کہا: معاف کر دو۔ اس نے کہا: نہیں اللہ کی قسم، نہیں کسی کے بھی کہنے سے نہیں چھوڑوں گا اور جب بدلہ دینے کے لیے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ بیٹھے تو آدمی نے آسمان کی طرف اپنا سر اٹھایا اور کہا: اے اللہ میں نے انہیں معاف کر دیا۔
(محض الصواب: جلد 2 صفحہ 467 اس کی سند حسن ہے) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم ایک مرتبہ سیدنا عمرؓ کے ساتھ تھے، آپؓ نے ایک آدمی کو تیزی سے اپنی طرف آتے ہوئے دیکھا تو کہا: یہ آدمی ہم سے ملنا چاہتا ہے۔ آپؓ نے اپنی اونٹنی بٹھا دی اور اس آدمی کی ضرورت سننے خود گئے۔ چنانچہ وہ آدمی آیا اور رونے لگا۔ آپؓ بھی رونے لگے پھر پوچھا: کیا بات ہے؟ اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! میں نے شراب پی لی تھی، جس پر حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے مجھے کوڑے مارے اور میرے چہرہ پر کالک ملی، لوگوں میں گھمایا اور سب کو میرا بائیکاٹ کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ میں نے ارادہ کیا کہ تلوار اٹھاؤں اور ابو موسیٰ کو مار ڈالوں یا آپ کے پاس چلوں تاکہ مجھے ایسی جگہ بھیج دیں جہاں مجھے کوئی نہ جانتا ہو یا پھر دیار کفر میں چلا جاؤں۔ حضرت عمر فاروقؓ یہ سن کر رونے لگے اور کہا: اگر صرف شراب نوشی ہی تمہارا جرم ہے تو اور لوگوں نے بھی دور جاہلیت میں شراب پی ہے۔ پھر حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کے نام خط لکھا: ’’میرے پاس فلاں آدمی آیا تھا اور اس نے یہ یہ بات بتائی لہٰذا اس خط کو پاتے ہی لوگوں کو حکم دو کہ اس کا بائیکاٹ بند کریں اس کے ساتھ میل محبت سے رہیں اور وہ اگر توبہ کر لیتا ہے تو اس کی گواہی کو معتبر جانو۔‘‘ پھر آپؓ نے اسے کپڑوں کا ایک جوڑا دیا اور دو سو درہم دینے کا حکم دیا۔
(محض الصواب: جلد 2 صفحہ 552 اس کی سند حسن ہے) اور ایک روایت میں ہے کہ ’’فلاں بن فلاں تیمی نے مجھے ایسی ایسی باتیں بتائی ہیں۔ اللہ کی قسم اگر تم نے دوبارہ ایسی حرکت کی تو تمہارے چہرہ پر کالک ملوں گا اور لوگوں میں گھماؤں گا لہٰذا اگر تم چاہتے ہو کہ میری اس بات کو عملی جامہ نہ پہنایا جائے تو فوراً لوگوں کو اس سے ملنے، اس کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے اور کھانے پینے کی اجازت دے دو اگر وہ توبہ کر لیتا ہے تو اس کی گواہی بھی معتبر جانو۔‘‘ پھر آپؓ نے اسے ایک جوڑا کپڑا، ایک سواری اور دو سو درہم دے کر روانہ کیا۔
(صحیح التوفیق سیرۃ وحیاۃ الفاروق: صفحہ 134، اس کی سند حسن ہے۔) اس واقعہ میں حضرت عمر فاروقؓ کا یہ جذبہ خالص نمایاں نظر آتا ہے کہ آپ کا کوئی بھی گورنر مجرموں کو سزا دیتے وقت شرعی سزاؤں میں حد سے تجاوز نہ کرے۔
(صحیح التوفیق سیرۃ وحیاۃ الفاروق: صفحہ 133، اس کی سند حسن ہے۔)