حضرت سعید بن عامر رضی اللہ عنہ کے خلاف حمص والوں کی شکایت
علی محمد الصلابیخالد بن معدان کا بیان ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حمص میں سعید بن عامر جمحیؓ کو ہمارا گورنر بنایا اور ایک مرتبہ جب حضرت عمرؓ حمص آئے تو کہا: اے حمص والو! تم نے اپنے گورنر کو کیسا پایا؟ تو انہوں نے ان کی شکایت کی۔ واضح رہے کہ اس وقت حمص کو چھوٹا کوفہ کہا جاتا تھا کیونکہ اپنے حکام کے خلاف ان کی بھی شکایات کافی رہتی تھیں۔ بہرحال انہوں نے کہا کہ سعید کے متعلق ہماری چار شکایات ہیں۔ وہ ہمارے پاس دن کافی چڑھ جانے کے بعد آتے ہیں۔ آپؓ نے پوچھا: اس سے بڑی شکایت اور کیا ہے؟ انہوں نے کہا: رات کو کسی کی بات نہیں سنتے۔ آپؓ نے کہا: یہ تو بڑی شکایت ہے اور کیا ہے؟ انہوں نے کہا: مہینے میں ایک دن بالکل گھر سے نہیں نکلتے۔ آپؓ نے فرمایا: یہ بھی بڑی بات ہے اور کیا ہے؟ انہوں نے کہا: مہینہ میں کسی نہ کسی دن اچانک بے ہوش ہو جاتے ہیں۔ حضرت عمرؓ نے ان لوگوں کو اور حضرت سعیدؓ کو اکٹھا کیا اور گویا ہوئے: ’’اے اللہ! سعید کے بارے میں میرے حسن ظن کو آج غلط نہ ٹھہرانا۔‘‘ پھر فیصلہ شروع کیا۔ حضرت سعید رضی اللہ عنہ کے سامنے ہی لوگوں سے پوچھا: ان کے بارے میں تمہیں کیا شکایت ہے؟ انہوں نے کہا: یہ اس وقت تک گھر سے نہیں نکلتے جب تک کہ سورج کافی اوپر نہیں چڑھ جاتا۔ سیدنا عمرؓ نے سعیدؓ سے کہا: تم کیا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں وجہ بتانا اچھا نہیں سمجھتا۔ پھر بھی ’’میرے اہل خانہ کا خادم کوئی نہیں ہے، میں اپنا آٹا خود گوندھتا ہوں، اس میں خمیر آنے کا انتظار کرتا ہوں، اپنی روٹی خود پکاتا ہوں، وضو کرتا ہوں اور پھر گھر سے باہر نکلتا ہوں۔‘‘ آپ نے فرمایا: تم لوگوں کو ان سے اور کیا شکایت ہے؟ انہوں نے کہا: رات کو کسی کی بات نہیں سنتے ۔ آپؓ نے کہا: سعید تم کیا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا: میں وجہ بتانا معیوب سمجھتا ہوں پھر بھی ’’میں نے دن ان لوگوں کے لیے اور رات اللہ کے لیے خاص کی ہے۔‘‘ آپؓ نے فرمایا: تم لوگوں کی اور کیا شکایت ہے؟ انہوں نے کہا: یہ مہینہ میں ایک دن گھر سے باہر بالکل نہیں نکلتے۔ آپؓ نے کہا: سعید تم کیا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا: میرے پاس کوئی خادم نہیں جو میرے کپڑے دھوئے اور نہ میرے پاس دوسرے کپڑے ہیں کہ بدل لوں لہٰذا میں کپڑے دھو کر بیٹھا رہتا ہوں یہاں تک کہ وہ سوکھ جاتے ہیں، پھر انہیں درست کرتا ہوں اور دن کے آخری وقت میں لوگوں کے پاس آتا ہوں۔ آپؓ نے فرمایا: تم لوگوں کو ان سے اور کیا شکایت ہے؟ انہوں نے کہا: اچانک کسی نہ کسی دن ان پر بے ہوشی طاری ہو جاتی ہے۔ آپؓ نے فرمایا: سعید تم کیا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا: میں نے مکہ میں خبیب کی شہادت کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، قریش نے ان کے جسم کے گوشت کو جگہ جگہ سے کاٹ دیا تھا پھر انہیں سولی پر چڑھا دیا اور کہا: کیا تم پسند کرتے ہو کہ تمہاری جگہ محمد ہوتے؟ تو انہوں نے جواب دیا تھا: اللہ کی قسم! میں ہرگز یہ پسند نہ کروں گا کہ اپنے اہل و عیال میں مزے اڑاؤں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک کانٹا بھی چبھ جائے۔ میں جب اس منظر کو سوچتا ہوں اور یہ سوچتا ہوں کہ اس وقت میں مشرک تھا، اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتا تھا اس لیے ان کی مدد نہ کر سکا، تو مجھے یہ خوف لاحق ہو جاتا ہے کہ اس گناہ کی وجہ سے کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ مجھے ہرگز نہ بخشے۔ یہ سوچ کر مجھ پر بے ہوشی طاری ہو جاتی ہے۔ حضرت عمرؓ نے یہ سب سن کر کہا: اللہ کا شکر ہے جس نے میرے حسن ظن کو غلط نہیں ٹھہرایا اور پھر واپس جا کر حضرت سعیدؓ کے پاس ایک ہزار دینار بھیجے اور کہا: ان سے اپنا کام چلاؤ لیکن سعیدؓ نے انہیں ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیا۔
(حلیۃ الأولیاء: جلد 1 صفحہ 245، أخبار عمر: صفحہ 152)