اہل سنت والجماعت کا پیغام وحدت امت کی علامت ہے - ردِ رافضیت…

اہل سنت والجماعت کا پیغام وحدت امت کی علامت ہے

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 3

اہلِ سنت والجماعت کا پیغام وحدت امت کی علامت ہے

پاکستان جیسے نظریاتی اسلامی ملک میں دینی جماعتوں نے جب بھی نفاذ شریعت کا مطالبہ کیا انگریزی تعلیم و تہذیب سے آراستہ اور دین محمدی سے ناواقف حکمرانوں نے اس مطالبے سے جان چھڑانے کے لیے کہا "کس فرقے کا اسلام نافذ کریں؟" اسلام کا نام لینے والے کئی فرقوں کی آڑ میں اس جدوجہد کا سبوتاژ کیا گیا۔ بر صغیر میں بدقسمتی سے چند فروعی اور فقہی اختلاف رکھنے والے اہلِ سنت کے تین گروہوں (بریلوی، دیوبندی، اور اہلِ حدیث) میں کئی مرتبہ آنحضرتﷺ کے نور، یا بشر، حاضر و ناظر، ہونے کے علاوہ نماز میں مقتدی کے لیے رفاع یدین کرنا یا بلند آواز میں آمین پکارنے کے مسائل، جنگ و جدل اور متنازع و مجادلہ کی صورت اختیار کر گئے۔

 بسا اوقات تعبیر کے معمولی فرق اور مختلف مسائل میں قرآن و سنت کی تشریح و تفصیل کے اجتہاد و تفاوت نے اسے ہر مسئلے سے اہم مسئلہ بنا دیا۔ بعض مواقع پر نچلی سطح کے بعض ناواقف اور نادان لوگوں نے فروعی مسائل کو بنیادی اختلافات کا رنگ دے کر مسلم امّہ کے مابین ایسی محازآرائی کو فروغ دیا کہ یہ جھگڑے کفر و اسلام کے جنگوں کا نقشہ پیش کرنے لگے۔

علماء دیوبند کے بعض اکابر کی تحریروں کا ان کے اعلی الرغم ایسا مفہوم متعین کیا گیا، جس سے کتابوں کے مصنفین آخری دم تک برأت کا اظہار کرتے رہے۔

 ادھر وفات کے نام پر بعض رسوم کو شریعت اسلامیہ کا حصہ قرار دینے والوں نے سنت و بدعت کی ذاتی تشریح کو حرف آخر قرار دے دیا۔ اسی طرح مقلد، غیر مقلد، حنفی کے اختلاف میں بھی فروعی مسائل ہی ہر طبقے میں اساسی اختلاف کی صورت میں زیر بحث رہے۔

 ہر آڑے وقت میں پاکستان میں خصوصی طور پر جب بھی مسلمانوں کے اتحاد اور ملی یگانگت کی ضرورت پڑی تو وہ اسلام کا تشخص تھا۔ اس سلسلے میں مسئلہ ختم نبوت اور نظام مصطفی اور ناموس رسالت ایسے اسلامی نعروں کے ذریعے پوری قوم کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا گیا۔ تحریک ختم نبوت 1953 اور 1974 میں حضرت محمدﷺ کی ختم نبوت کے حسین اور خوبصورت عنوان نے مسلمانوں کو ایک مرکز پر اکٹھا کر دیا۔ 1977 میں تحریک نظام مصطفی کے ذریعے ساری قوم متحد ہوئی۔ بے نظیر کے دور حکومت میں 26 مئی 1995 کو ناموس رسالت کے عنوان پر آنحضرتﷺ کے گستاخ کے لیے سزائے موت کو یقینی بنانے کے لیے ہونے والی ہڑتال کے ذریعے ہر مسلمان وحدت کی شاہرا پر گامزن ہوا۔ مذکورہ تینوں عنوانات نے مسلم قوم کو مختلف اوقات میں ایک جگہ جمع کر دیا۔ 

انجمن سپاہ صحابہؓ کے قیام 6 ستمبر 1985 کے بعد مسلم امہ میں ایک مرتبہ پھر وحدت ملت کی ایسی سوچ نمودار ہوئی جو مستقل اور پائیدار اتحاد کی ضمانت بن گئی۔ بریلوی اور دیوبندی اور اہلِ حدیث کے مابین ہونے والے گھر گھر کے جھگڑے اور فروعی لڑائیاں دم توڑ گئیں۔ چونکہ اہلِ سنت والجماعت کی عالمی اور فکری کاوش کا محور ناموس صحابہؓ کے تحفظ اور خلافت راشدہؓ کے احیاء کے گرد گھوم رہا ہے۔ اس جماعت کے بانی مولانا حق نواز جھنگویؒ کے بین الاقوامی فکر اور مسلم اتحاد کی حقیقی خواہش نے آپ کی شہادت (22 فروری 1990) کے بعد وحدت کے تصور میں ایسا رنگ بھرا کہ سات سالوں میں ملک بھر سے مجموعی طور پر مسلم قوم کے باہمی جھگڑے حیرت انگیز حد تک برائے نام رہ گئے۔ مسلمانوں کے ہر طبقے بریلوی، دیوبندی اور اہلِ حدیث نوجوانوں کی معتدبہ تعداد جب اہلِ سنت والجماعت کے پلیٹ فارم پر جمع ہوئے تو مسئلہ ختم نبوت، مسئلہ نفاذ شریعت، مسئلہ ناموس رسالتﷺ، کی طرح تحفظ ناموس صحابہؓ و اہل بیتؓ بھی وحدت امت کی علامت بن گیا۔ 

ایرانی انقلاب 11 فروری 1979 کے بعد جب سے خمینی اور اس کے حواریوں کی طرف سے صحابہ کرام رضوان اللّٰه علیہم اجمعین اور خلفائے راشدینؓ کے تکفیر اور دنیا بھر میں عام کیا گیا۔ اس وقت ہی سے تحفظ ناموس صحابہؓ کا عالمی فکر ہر طبقے اور مسلمانوں کے ہر گروہ میں پروان چڑھنے لگا۔ علماء دیوبند کے سرخیل مفکر اسلام مولانا منظور احمد نعمانیؒ نے بھارت میں پاکستان کے علماء اہلِ حدیث کے زعیم اور امام علامہ احسان الٰہی ظہیر شہیدؒ اور علماء بریلوی میں مولانا محمد علی لاہوریؒ اور علامہ محمد عارف چشتی شہیدؒ نے اسی فکر کو جلا بخشی۔ جس کی صدا قائد شہید نے بلند کی تھی۔ پاکستان کے ہر شہر اور قصبے میں مسلم فرقوں بریلوی، دیو بندی اور اہل حدیث کے مابین ہونے والے تنازعات میں کمی اور لڑائیوں کا خاتمہ اہلِ سنت والجماعت کا تاریخ ساز کارنامہ ہے۔ جس طرح ہر دور میں مسلمان کا فکری ارتقا اپنے اپنے ماحول کی ضرورتوں کا رہین رہا۔ 50 سال قبل دنیا بھر کے خلاف یک زبان ہوئے وقتاً فوقتاً لادین حکمرانوں اور انگریزی زلہ خواروں سے نمبرد آزمائی بھی امت مسلمہ کا خاصہ رہی ہے۔ 

ایرانی انقلاب کے بعد دنیا میں مسلمانوں کا فکری محور نظام خلافت راشدہ کے احیاء اور تحفظ ناموسِ صحابہؓ کے گرد گھومنے لگا۔ دنیا کا ہر اسلامی ملک جس طرح ایرانی افکار کے اثرات اور خمینی کے شیعی انقلاب سے بیزاری کا اظہار کر رہا ہے۔ سعودی عرب، مصر، لبنان، ترکی، بحرین، کویت، متحدہ عرب امارات، بنگلہ دیش، افغانستان، اور پاکستان کی کوئی قابل ذکر جماعت اور کوئی مستند ادارہ خمینی کے دعوی اسلامیت کی تائید کرتا ہوا نظر نہیں آتا۔ اسی طرح دنیا کے تمام اسلامی ملکوں میں ناموس صحابہؓ کے تحفظ کا نظریہ اور خلافت راشدہ کے احیاء کا عالم فکر بھی برابر پروان چڑھاہے۔ ہر عہد کے فتنوں کی طرح خمینی نظریات کو اسلام کے مقابلے میں ایک متوازی فکر قرار دیا گیا ہے۔ علماء اسلام کے تمام مکاتب فکر اس عنوان پر متحد، متفق نظر آتے ہیں۔ کہ حضرات خلفاء ثلاثہؓ کی تکفیر کا خمینی نظریہ کھلا کفر اور غیر اسلامی نقطہ نظر ہے۔ ایسے افکار کو اسلام قرار دینا اسلام سے بدترین مذاق ہے۔

صفحہ 1 از 3