اہل سنت والجماعت کا پیغام وحدت امت کی علامت ہے - ردِ رافضیت…

اہل سنت والجماعت کا پیغام وحدت امت کی علامت ہے

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 3

مصر کے ڈاکٹر فتحی اور لبنان کے علماء اہلِ سنت کی ایک بڑی جماعت کے علاوہ ایران اور شام کے مسلم اور سنی اقلیتوں نے بھی خمینی کے شیعی افکار کو کفر اور غیر اسلامی نقطہ نظر کا حامل قرار دیا ہے۔ اہلِ سنت والجماعت نے صحابہ کرامؓ، خلفائے راشدینؓ، اور اہل بیت عظامؓ کی توہین و تنقیص اور تکفیر و تفسیق کو قابل تعزیر جرم قرار دیا ہے۔ تو یہ اس کی ذاتی رائے یا تفرد نہیں، بلکہ اس نقطہ نظر پر بھی پوری قوم متفق نظر آتی ہے۔ عصر حاضر کے اس سب سے اہم دینی مسئلے کی طرف توجہ دلانا اہلِ سنت والجماعت کا شرعی فریضہ ہے۔

 امت مسلمہ پر لازم ہے کہ اسلام کی حفاظت کے سب سے بڑے معیار صحابہ کرام رضوان اللّٰه علیہم اجمعین کو قرآنی حکم کے مطابق معیار ہدایت سمجھے۔ اور پھر انہی کی تعلیمات کی روشنی میں قرآن و حدیث سے شناسائی حاصل کریں۔ نئی نسل کو صحابہ کرام ؓ کے کارناموں کے ذریعے اسلام سے وابستہ رکھنے کی جدوجہد کرے۔ جس طرح آنحضرتﷺ کے ختم نبوت کا مسئلہ امت مسلمہ کی وحدت کی علامت قرار پایا ہے۔ بعینہ تحفظ ناموس صحابہؓ اور عقیدہ خلافت راشدہ بھی مسلم فرقوں کے اتحاد کی علامت ہے۔

عصر حاضر کی یہی وہ وجہ مشترک ہے، جس کے جلو میں ملت اسلامیہ کا ہر فرد غلبہ اسلام کی جدوجہد کر سکتا ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللّٰه علیہم اجمعین کے آئینہ خانہ کے تناظر میں اسلام کی جدوجہد کرنے والا مسلمانوں کی اجتماعی ہمدردی حاصل کر سکتا ہے۔ اسلام کی وہ تعبیر جو صحابہ کرام رضوان اللّٰه علیہم اجمعین نے پیش کی ہیں، یہی تعبیر ہر قسم کے تعصبات اور فروعی اختلافات سے بچا کر صراط مستقیم پر گامزن کر سکتی ہے۔ ہماری اس تحریر کا مقصد یہ ہے کہ ہر مسلمان خواہ وہ کسی بھی گروہ سے تعلق رکھتا ہو اسلام کی عالمگیر دعوت کے فروغ کے لیے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دامن سے وابستہ ہو کر عصر حاضر کے سب سے بڑے دینی فریضہ سے عہدہ برا ہو سکتا ہے۔

 اہلِ سنت والجماعت اسلام کے دفاع، اسلام کے فروغ، اسلامی اقتدار کے احیاء، اسلامی شریعت کے نفاذ ،اسلامی تعلیمات کے ابلاغ، اور اسلام کے ہر شعبے کی حفاظت کے لیے، صحابہ کرام رضوان اللّٰه علیہم اجمعین، خلفائے راشدینؓ، اور اہل بیت عظامؓ، کے افکار کو مرکز و محور قرار دیتی ہے۔ اس لیے دنیا بھر کا ہر مسلمان جس نہج پر بھی اسلام کی خدمت کرنا چاہتا ہے۔ اہلِ سنت والجماعت اس کے لیے محمدی جماعت کی تعبیر و تشریح کا ایسا چراغ روشن کر رہی ہے کہ اس کی لمانیت سے دنیا کے ہر اندھیرے کو منور کیا جا سکتا ہے۔ اسلام کے ہر شعبوں میں بلا خوف و خطر آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ 

صحابہ کرام رضوان اللّٰه علیہم اجمعین کو معیار بنانے سے انسان جدید فرقہ بازی کی بحث، اور تعصبانہ گروہ بندی سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ عہد حاضر میں برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت کو اس تلخ حقیقت کا سامنا ہے، کہ اہلِ سنت میں بریلوی، دیوبندی، اہلِ حدیث تین طبقوں میں ہر ایک کو سچا سنی اور اہلِ سنت ہونے کا دعویٰ ہے۔چھوٹے چھوٹے مسائل کے اختلاف کے باوجود ہر ایک اپنے آپ کو حق و صداقت کا حامل قرار دے رہا ہے۔ نئی نسل کی بڑی تعداد حق کی تلاش میں کنفیوژن کا شکار ہے۔ ہر مولوی، ہر نہج، اور ہر محقق کے دعویٰ حقانیت کو پرکھنے کا راستہ کیا ہے؟ اختلافات کی اس وسیع خلیج میں صراط مستقیم کس نہج اور طریقے کو قرار دیا جائے گا؟

 کیا قران و حدیث کی وہ تشریحات جو آج کے دور میں ہر مکتب فکر پیش کر رہا ہے بلا چون چراں تسلیم کر لی جائے۔ ہر دعوے کو سچا مان لیا جائے؟ اس صورت میں تو حق کو صداقت کے حقیقی مرکز و مصدر کئی گروہ قرار پا جائیں گے۔ متضاد افکار ہی جادہ حق پر براجمان ہو جائیں گے۔ عام مسلمان، فکری انتشار، اور گروہی تنازعات کے کردار میں جان بلب ہو جائے گا۔ ظلمت دہر کے ایسے اندھیروں میں صحابہ کرام رضوان اللّٰه علیہم اجمعین کے افکار ہی روشنی مہیا کر سکیں گے۔ جن کو معیار اور کسوٹی قرار دینے والا کبھی صراط مستقیم کے بارے میں اضمحلال اور عدم تمانیت کا شکار نہیں ہو سکتا ہے۔

فرقہ وارانہ اختلافات فقہی اور فروعی مسائل کے تفاوت، سنت، اور بدعت کی تمیز، قرآن و حدیث کا صحیح مفہوم، متعین کرنے کا حقیقی اور سچا طریقہ بلا تعمل اس کے سامنے روشن ہو جائے گا۔

 ظاہر ہے کہ قرآن اور احادیث رسول اللّٰہﷺ پکے پہلے مخاطب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بہتر اس کے معانی و مفہوم اور مطالب و مفاہیم کو کون واضح کر سکتا ہے۔

قرآن و حدیث کی تعبیر کے لیے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی چوکھٹ پر سر رکھنے والا، محمدی جماعت کے آستانے پر جبہ سائی کرنے والا اسلام کے کسی بھی مسئلے میں فکری اور نظریاتی کم مائیگی اور علمی و ابدی ہدایت کی روشنی سے محروم نہیں ہو سکتا۔ زمانوں کے مدوجذر اور قوموں کے نشیب و فراز اس کے ایمان کو پژمردہ نہیں کر سکتے۔

 اہلِ سنت والجماعت دیانتداری کے ساتھ یہ سمجھتی ہے کہ قرآن و سنت کی حقیقی تعلیم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی رہنمائی کے بغیر میسر نہیں آ سکتی۔ جن لوگوں نے اس دریچے سے صرف نظر کیا وہ کبھی اہل قرآن کے نام پر منکر حدیث ہو گئے۔ دعوے مسیحت کے نام پر منکر ختم نبوت کہلائے۔ حب اہلِ بیتؓ کے دعوؤں کے فریب میں دشمن اسلام قرار پائے۔

 کسی نے معراج کا انکار کیا، کوئی معجزات رسولﷺ سے پہلو تہی کرنے لگا، کوئی نور و بشر کی بحث میں الجھ کر جادہ مستقیم سے ہٹ گیا، کوئی محبت اولیاء میں توحید الٰہی سے دامن کش ہوا، کوئی کرامات اولیاء میں کھوکر تصوف کی اصلی شاہرا سے ہٹ گیا، کسی نے سنت رسولﷺ سے منہ موڑ کر بدعت کو حرز جاں بنایا، کوئی قرآن کے ظاہری مفہوم کو دیکھ کر اس کے حقیقی مقتضٰی کا انکار کر بیٹھا۔

صفحہ 2 از 3