Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

رعایا کے ایک فرد کے ساتھ حقارت و استہزاء کی وجہ سے گورنر کی معزولی

  علی محمد الصلابی

 حضرت قیس بن ابی حازم رحمتہ اللہ کا بیان ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک انصاری نوجوان کو عامل افسر بنا کر بھیجا، وہ باشندگان حیرہ کے ایک رئیس عمرو بن حیان بن بقیلہ کے یہاں مہمان ہوئے، اس نے ان کی طلب کے مطابق خوب کھانا و پانی پیش کیا انہوں نے اس کا کافی مذاق اڑایا اور اسے بلا کر اس کی داڑھی پکڑ لی۔ وہ آدمی یہ بے عزتی برداشت نہ کر سکا اور حضرت عمرؓ کے پاس پہنچ گیا اور کہا: اے امیر المؤمنین! میں نے قیصر و کسریٰ کی بھی خدمت کی ہے لیکن آپؓ کی حکومت میں مجھے جس بے عزتی کا سامنا کرنا پڑا وہ ان میں کبھی نہ دیکھا تھا۔ آپؓ نے پوچھا: کیا بات ہے؟ اس نے بتایا کہ آپؓ کا فلاں عامل میرے یہاں مہمان بنا، ہم نے خور و نوش کی اشیاء اس کے سامنے پیش کیں تو اس نے میرا بہت مذاق اڑایا اور مجھے بلا کر میری داڑھی پکڑ لی۔ حضرت عمرؓ نے اس عامل کو بلوایا اور کہا: سنو! اس نے تمہارے سامنے کھانا و پانی پیش کیا جیسا کہ تم نے طلب کیا تو کیا تم نے اس کی داڑھی پکڑ ی ہے؟ اللہ کی قسم اگر داڑھی رکھنا نبی کریمﷺ کی سنت نہ ہوتی تو تمہاری داڑھی کے بال کا ایک ایک رواں اکھاڑ لیتا لیکن جاؤ اللہ کی قسم! آج سے تم کسی منصب کے قابل نہیں ہو۔

(تاریخ المدینۃ: جلد 3 صفحہ 813، یہ خبر سنداً صحیح ہے۔ الفاروق الحاکم العادل: صفحہ 11)