Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

غلطی کرنے کی صورت میں امراء و گورنران سے بدلہ دلانا

  علی محمد الصلابی

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: ’’سن لو! میں نے اپنے عمال افسران کو تمہارے پاس اس لیے نہیں بھیجا ہے کہ وہ مار مار کر تمہاری چمڑیاں ادھیڑیں اور تمہارا مال تم سے چھینیں بلکہ انہیں اس لیے بھیجا ہے تاکہ تمہیں سنت نبویﷺ اور دین کی باتیں سکھائیں۔ پس جس کے ساتھ اس کے خلاف برتاؤ کیا گیا ہو وہ اٹھے اور بتائے، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میری جان ہے، میں اسے ضرور بدلہ دلواؤں گا۔‘‘

(الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 127، الأموال: ابی عبید: صفحہ 63، 64) آپؓ نے گورنروں کو ڈرانے اور عوام پر ظلم روکنے والے سرکاری بیانات پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اسے عملی جامہ پہنایا جیسا کہ ہم نے ابو موسیٰ اشعری اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کی شکایت کرنے والوں کے گذشتہ واقعات میں بیان کیا ہے۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 126، 127)