والیان ریاست کے گھروں کے کچھ حصوں کو گرا دینا
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ یہ کارروائی انہی گھروں کے ساتھ کرتے تھے جن میں شرعی مخالفت پاتے۔ آپؓ چاہتے تھے کہ گورنران کے مکانات بغیر دروازوں اور بغیر پردوں کے رہیں چنانچہ جب حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے بارے میں آپؓ نے سنا کہ انہوں نے اپنے گھر میں دروازہ لگوایا ہے تو ان کے پاس محمد بن مسلمہؓ کو یہ حکم دے کر بھیجا کہ اس دروازے کو آگ لگا دیں۔
(فتوح البلدان: صفحہ 77، نہایۃ الأرب: جلد 8 صفحہ 19۔) حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے دروازہ لگانے کی وجہ یہ تھی کہ ان کا گھر بازار سے بالکل قریب تھا اور بازار کے شور و ہنگامے سعدؓ کو تکلیف دیتے تھے تو انہوں نے دروازہ لگوا لیا تھا تاکہ وہ ہنگامے اور آوازیں آپ تک نہ پہنچ سکیں۔ لیکن سیدنا عمرؓ کو سعدؓکے گھر اور دروازے کے بارے میں خبر مل گئی اور سنا کہ لوگ اسے ’’قصر سعد‘‘ (سعد کا محل) کہتے ہیں تو آپؓ نے محمد بن مسلمہؓ کو بلوایا اور کوفہ بھیجا اور کہا: سیدھا اس کے محل پہنچو اور اس کے دروازے کو آگ لگا دو پھر واپس آ جاؤ چنانچہ محمد بن مسلمہؓ کوفہ پہنچے، لکڑیاں خریدیں اور محل تک آئے پھر دروازے کو آگ سے جلا دیا
(الادارۃ الإسلامیۃ: مجدلاوی: صفحہ 216) ابن شبہ روایت کرتے ہیں کہ عمرؓ نے مجاشع بن مسعودؓ کو ایک کام کا ذمہ دار بنا کر بھیجا پھر آپؓ نے سنا کہ ان کی بیوی اپنے گھر کو بہت رنگ روغن کرتی ہے تو آپؓ نے مجاشعؓ کے نام خط لکھا: ’’عبداللہ امیر المؤمنین کی طرف سے مجاشع بن مسعودؓ کے نام!
سلام علیک اما بعد! مجھے خبر ملی ہے کہ ’’خضیراء‘‘ اپنے گھر کی بہت تزئین کرتی ہے لہٰذا جب تمہیں میرا یہ خط ملے تو اس خط کو ہاتھ سے زمین پر رکھنے سے پہلے اس کے دلکش پردوں کو پھاڑ دو۔‘‘ راوی کا بیان ہے کہ مجاشعؓ کے پاس جب خط پہنچا تو ان کے پاس اور کئی لوگ بیٹھے تھے۔ آپؓ نے خط کو غور سے پڑھا، لوگوں کو محسوس ہوگیا کہ شاید کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ چنانچہ خط کو ہاتھ میں دبایا اور لوگوں سے کہا: اٹھیے چلیے، وہ لوگ اٹھے اور آپ کے ساتھ چل پڑے، اللہ کی قسم انہیں بالکل نہیں معلوم تھا کہ وہ کس کام کے لیے جا رہے ہیں۔ آپ ان کو لے کر اپنے گھر کے دروازے پر آئے پھر خود گھر میں داخل ہوئے۔ داخل ہوتے ہی بیوی سے ملاقات ہو گئی، اس نے دیکھتے ہی ناراضی کو بھانپ لیا اور کہا: کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا: ہٹ جاؤ، تم نے مجھے تکلیف دی ہے اور غصہ دلایا ہے۔ وہ عورت ہٹ گئی۔ پھر آپ نے لوگوں سے کہا: اندر داخل ہو جاؤ، وہ سب اندر گئے۔ پھر آپ نے کہا: آپ لوگ اپنی اپنی طرف سے اس پردے کو کھینچیں اور اسے پھاڑ دیں چنانچہ انہوں نے اسے مکمل طور پر پھاڑ دیا اور زمین پر گرا دیا اور مجاشعؓ ابھی خط اپنے ہاتھ میں لیے تھے اسے زمین پر نہ رکھا تھا۔
اسی طرح شام کے سفر کے دوران سیدنا عمرؓ کو یزید بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما نے کھانے پر مدعو کیا۔ جب آپ گھر میں داخل ہوئے تو اس میں کچھ پردوں کو لٹکتے ہوئے دیکھا۔ آپ انہیں پھاڑنے لگے اور کہتے: تیرا برا ہو، کیا تم دیواروں کو وہ کپڑا پہناتے ہو کہ اگر اسے انسانوں کو پہناؤ تو گرمی و سردی میں وہ ان کی ستر پوشی کرے۔
(تاریخ المدینۃ: جلد 2 صفحہ 832، الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 128)