غیر مسلم فقیروں کو زکوٰۃ دینا
غیر مسلم فقیروں کو زکوٰۃ دینا
زکوٰۃ کا مصرف صرف مسلمان فقیر غریب ہیں، کسی غیر مسلم فقیر کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔ اگر کوئی شخص کسی غیر مسلم فقیر کو زکوٰۃ دے گا تو اس کی زکوٰۃ ادا نہیں ہو گی، اور اتنی زکوٰۃ دوبارہ مسلمان غریبوں کو دینا لازم ہو گا۔ قرآن مجید کی آیت اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلۡفُقَرَآءِ وَالۡمَسٰكِيۡنِ (سورۃ التوبہ، آیت نمبر 60) میں فقراء مساکین سے مراد بالاجماع مسلمان فقراء و مساکین ہیں، البتہ نفلی صدقہ کافروں کو دینا جائز ہے،
غیر مسلم فقیر و غریب کا قرضہ زکوٰۃ سے ادا کرنا جائز نہیں۔
اگر حکومت مسلمانوں سے زکوٰۃ کی رقم لے کر غیر مسلموں کو دیتی ہے یا صحیح مصرف میں خرچ نہیں کرتی تو زکوٰۃ دینے والوں کی زکوٰۃ ادا نہیں ہو گی، ایسے لوگوں پر ضروری ہو گا کہ اپنی زکوٰۃ دوبارہ صحیح مصرف میں ادا کریں۔
(زکوٰۃ کے مساںٔل کا انساںٔیکلوپیڈیا، صفحہ 335)