Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

تادیبی کارروائی میں مارنا پیٹنا

  علی محمد الصلابی

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی تادیبی کارروائیوں میں مار کو بھی استعمال کیا۔ آپؓ کے بارے میں یہ بات کافی مشہور تھی کہ کوڑا ہمیشہ آپؓ کے ساتھ ہوتا ہے اور اسی سے مارتے ہیں۔ بعض ناپسندیدہ حرکتوں کی وجہ سے آپؓ نے اپنے کچھ گورنروں کو مارا بھی ہے۔ چنانچہ جب آپؓ نے شام کا دورہ کیا تو اپنے بعض گورنران کے پاس ضرورت سے زیادہ سامان دیکھا، ان پر سخت ناراض ہوئے اور اپنے درّے سے ان کی پٹائی کی۔

(تاریخ المدینۃ: جلد 3 صفحہ 834) شام ہی کے سفر میں بعض سپہ سالاروں نے آپؓ کا استقبال کیا، سب سے پہلے یزید بن ابی سفیان اور ابوعبیدہ رضی اللہ عنہما ملے پھر حضرت خالد رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی یہ سب لوگ گھوڑوں پر سوار تھے اور نہایت قیمتی لباس زیب تن کیے ہوئے تھے جو مجاہدین کے لیے مناسب نہ تھا۔ آپؓ ان لوگوں کو دیکھ کر اونٹ سے اتر گئے اور پتھر اٹھا کر انہیں مارا اور کہا کتنی جلدی تم اپنی باتوں سے پلٹ گئے ہو۔ خبردار! اس پوشاک میں کبھی میرا استقبال نہ کرنا، دو سال میں تم لوگ کافی آسودہ ہو گئے۔

 اللہ کی قسم! اگر تم نے دوبارہ ایسا کیا تو تمہیں بدل کر دوسروں کو سپہ سالار مقرر کر دوں گا۔ ان لوگوں نے کہا:اے امیر المؤمنین! لباسوں کی یہ چمک دمک صرف اوپر ہی ہے، اندر سے ہم ہتھیاروں سے لیس ہیں۔ آپؓ نے فرمایا: تب ٹھیک ہے۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 129)