Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

عہدۂ گورنری سے ہٹا کر بکریوں کا چرواہا بنا دینا

  علی محمد الصلابی

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک گورنر کی تادیبی کارروائی میں یہ طریقہ بھی استعمال کیا۔ ابن شبہ روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت عیاض بن غنمؓ کو شام کا امیر بنا کر بھیجا پھر آپؓ کو خبر ملی کہ انہوں نے اپنے لیے اعلیٰ قسم کا ایک حمام بنایا ہے اور کچھ مخصوص لوگوں کو اپنا ہم نشین مقرر کیا ہے۔ آپؓ نے خط لکھ کر انہیں بلوایا، وہ آئے تو آپؓ نے انہیں تین دن کے لیے نظر بند کر دیا پھر باہر نکلنے کی اجازت دی اور ان کے لیے ایک اونی جبہ منگوایا اور کہا: اسے پہنو۔ پھر انہیں چرواہے کا تھیلا دیا اور ساتھ تین سو بکریاں دے کر کہا: لے جاؤ انہیں چراؤ اور ان کی دیکھ بھال کرو۔ حضرت عیاض بن غنمؓ انہیں لے کر چلے جب کچھ دور چلے گئے تو حضرت عمرؓ نے انہیں بلوایا۔ وہ دوڑ کر آپؓ کے پاس پہنچے۔ آپؓ نے فرمایا: اس اس طرح سے کام کرنا؛ جاؤ۔ چنانچہ وہ چلے گئے، ابھی تھوڑی ہی دور گئے تھے کہ آپؓ نے انہیں پھر بلا لیا اور کہا: عیاض ادھر آؤ، اس طرح کئی بار آپؓ ان کو کچھ سمجھاتے اور جانے کو کہتے، پھر بلاتے پھر جانے کو کہتے، یہاں تک کہ حضرت عیاضؓ کی پیشانی عرق آلود ہو گئی۔ پھر سیدنا عمرؓ نے کہا: جاؤ اور فلاں دن بکریوں کو لے کر میرے پاس آنا۔ حضرت عیاضؓ مقررہ دن پر بکریوں کو لے کر حاضر ہوئے۔ حضرت عمرؓ باہر نکلے اور کہا: ان بکریوں کے لیے پانی بھرو۔ حضرت عیاضؓ نے حوض بھرنا شروع کیا یہاں تک کہ اسے بھر دیا اور بکریوں کو پلایا۔ حضرت عمرؓ نے کہا: انہیں پھر لے جاؤ، چراؤ اور ان کی دیکھ بھال کرو اور فلاں دن لے کر آنا۔ اس طرح حضرت عیاض بن غنمؓ دو یا تین ماہ اس تادیبی سزا کو جھیلتے رہے۔ پھر حضرت عمرؓ نے انہیں بلایا اور کہا: سنو! تم نے اعلیٰ قسم کا حمام بنوایا تھا اور اپنے نواب اور ہم نشین مقرر کیے تھے۔ کیا پھر ایسا کرو گے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ تب آپؓ نے فرمایا: جاؤ اب اپنا کام سنبھالو۔

(تاریخ المدینۃ: جلد 3 صفحہ 817، 818، الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 130) چنانچہ اس تادیبی سزا کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس کے بعد حضرت عیاضؓ، حضرت عمرؓ کے افضل ترین والیان ریاست میں شمار ہونے لگے۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 130)