*محمد بن ابی بکر کے متعلق مشہور ہے کہ قتلِ عُثمان رض میں ساری سازش اُن کی تھی تو سیّدنا علی رض نے اسے سیّدہ عائشہ رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہا کے سپرد کیوں نہ کیا۔؟*
مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند♦️ *سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر خوارج کی طرف سے دسواں اعتراض* ♦️
*محمد بن ابی بکر کے متعلق مشہور ہے کہ قتلِ عُثمان رض میں ساری سازش اُن کی تھی تو سیّدنا علی رض نے اسے سیّدہ عائشہ رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہا کے سپرد کیوں نہ کیا۔؟*
محمد بن ابی بکر کے متعلق مشہور ہے کہ قتلِ عُثمان رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ میں ساری سازش اُن کی تھی۔ اگر یہ بات پایۂ تحقیق کو پہنچ چُکی تھی تو سیّدنا علی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ نے اسے سیّدہ عائشہ رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہا کے سپرد کیوں نہ کیا۔؟
♦️ *جوابات اہلسنّت* ♦️
جواب 1:
محمد بن ابی بکر رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کے متعلق قتلِ عُثمان رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کا الزام تو سراسر بے بنیاد ہے، البتہ کتب تواریخ سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اس پارٹی میں شریک تھے۔ رہا قتل تو اس کے متعلق کہیں بھی تشریح نہیں کہ انہوں نے کیا ہو۔
جواب 2:
حضرت نائلہ رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہا زوجۂ سیّدنا عُثمان رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کا بیان ہے کہ محمد بن ابی بکر رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ نے قریب آ کر داڑھی سے تو ضرور پکڑا۔ جب حضرت عُثمان رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کے منہ سے یہ الفاظ نِکلے کہ آج اگر ابوبکر صدیق رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ زِندہ ہوتا تو تُجھے یہ جرات نہ ہوتی۔ ان الفاظ کا اس کے دِل پر ایسا اثر پڑا کہ یکدم کانپنے لگا اور اس حالت میں چھوڑ کر چلا گیا۔ جِس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملے کی گواہی دینے والی صِرف حضرت نائلہ رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہا تھیں اور بس جِس سے نصاب شہادت پورا نہیں ہوتا۔ پس ان حالات کے پیشِ نظر اسے قطعی طور پر مجرم ٹھہرانا اور اس کے بعد سیّدنا علی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کے ذمہ اس الزام کا لگانا سراسر اظہارِ جہالت ہے۔
جواب 3:
مروان کے متعلق جب نصابِ شہادت پورا نہ ہوا تو سیّدنا عُثمان رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ نے سپرد نہ کیا اور محمد بن ابی بکر رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کے متعلق جب نصابِ شہادت پورا نہ ہوا تو سیّدنا علی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ نے سپرد نہ کیا۔