محمد بن ابی بکر کے متعلق مشہور ہے کہ قتلِ عُثمان رض میں ساری سازش اُن کی تھی تو سیدنا علی رض نے اسے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا کے سپرد کیوں نہ کیا؟
مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبندسیدنا علی رضی اللہ عنہ پر خوارج کی طرف سے دسواں اعتراض
محمد بن ابی بکر کے متعلق مشہور ہے کہ قتلِ عُثمان رضی اللہ عنہ میں ساری سازش اُن کی تھی تو سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے سیّدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے سپرد کیوں نہ کیا؟
محمد بن ابی بکر کے متعلق مشہور ہے کہ قتلِ عُثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ میں ساری سازش اُن کی تھی۔ اگر یہ بات پایۂ تحقیق کو پہنچ چُکی تھی تو سیّدنا علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اسے سیّدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے سپرد کیوں نہ کیا؟
جوابات اہلسنّت
جواب 1: محمد بن ابی بکر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے متعلق قتلِ عُثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کا الزام تو سراسر بے بنیاد ہے، البتہ کتب تواریخ سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اس پارٹی میں شریک تھے۔ رہا قتل تو اس کے متعلق کہیں بھی تشریح نہیں کہ انہوں نے کیا ہو۔
جواب 2:حضرت نائلہ رضی اللہ تعالٰی عنہا زوجۂ سیّدنا عُثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کا بیان ہے کہ محمد بن ابی بکر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے قریب آ کر داڑھی سے تو ضرور پکڑا۔ جب حضرت عُثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کے منہ سے یہ الفاظ نِکلے کہ آج اگر ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ زِندہ ہوتا تو تُجھے یہ جرأت نہ ہوتی۔ ان الفاظ کا اس کے دِل پر ایسا اثر پڑا کہ یکدم کانپنے لگا اور اس حالت میں چھوڑ کر چلا گیا۔ جِس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملے کی گواہی دینے والی صِرف حضرت نائلہ رضی اللہ تعالٰی عنہا تھیں اور بس جِس سے نصاب شہادت پورا نہیں ہوتا۔ پس ان حالات کے پیشِ نظر اسے قطعی طور پر مجرم ٹھہرانا اور اس کے بعد سیّدنا علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ذمہ اس الزام کا لگانا سراسر اظہارِ جہالت ہے۔
جواب 3: مروان کے متعلق جب نصابِ شہادت پورا نہ ہوا تو سیّدنا عُثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ نے سپرد نہ کیا اور محمد بن ابی بکر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے متعلق جب نصابِ شہادت پورا نہ ہوا تو سیّدنا علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے سپرد نہ کیا۔