والیان ریاست کا مال تقسیم کر لینا
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں والیان ریاست کا مال تقسیم کرا لینے کا نظام آپؓ کی طرف سے ایک احتیاطی اقدام تھا۔ آپؓ نے محسوس کیا کہ ہمارے بعض گورنران کے پاس مالی آمدنی میں بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ لوگ اپنے منصب کے سبب یہ مال حاصل کرتے ہیں۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 130) علامہ ابن تیمیہؒ نے سیدنا عمر فاروقؓ کی اس احتیاطی تدبیر پر گفتگو کرتے ہوئے لکھا ہے کہ خرید و فروخت، اجرت و ٹھیکہ داری، مضاربت و شراکت، کھیتیوں کی بٹائی وغیرہ دینے کے معاملات میں والیان ریاست کے ساتھ نرمی و سہولت کرنا، انہیں ہدیہ دینے کی ایک شکل ہے۔ اسی وجہ سے حضرت عمر بن خطابؓ نے اپنے دیندار اور مال دار گورنروں سے ان کا مال نصف نصف تقسیم کر لیا اور انہیں خیانت سے متہم نہیں کیا، کیونکہ انہیں صرف منصب ملنے کی وجہ سے سہولتیں اور نرمی مل جاتی تھی لہٰذا ان کے ساتھ یہی برتاؤ مناسب تھا۔ آپؓ کا ایسا کرنا بالکل بجا تھا، اس لیے کہ آپؓ عادل حکمران تھے اور سب کو حقوق برابر تقسیم کرتے تھے۔
(الفتاوی: جلد 28 صفحہ 157) حضرت عمرؓ نے اپنے جن گورنروں کا مال تقسیم کروایا تھا ان میں حضرت سعد بن ابی وقاص، ابو ہریرہ اور عمرو بن عاص رضوان اللہ علیہم اجمعین تھے، آپؓ جب کسی کو کہیں کا گورنر یا افسر بنا کر بھیجتے تو اس کی ذاتی جائیداد لکھ لیا کرتے تھے اور آمدنی سے زیادہ جائیداد ہونے کی صورت میں اسے تقسیم کرا لیتے اور کبھی مصلحت سمجھتے تو پوری جائیداد لے لیتے۔
(فتوح البلدان: صفحہ 220، 221، الولایۃ البلدان: جلد 3 صفحہ 131) بسا اوقات والیان ریاست کے اقرباء و رشتے داروں کا مال بھی تقسیم کرا لیتے تھے بشرطیکہ آپؓ کے سامنے اس اقدام کی کوئی معقول وجہ ہوتی چنانچہ آپؓ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مال سے آدھا حصہ لے لیا تھا تو سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے اعتراض کیا اور کہا: میں تو آپؓ کی کسی ذمہ داری پر مامور نہیں ہوں؟ آپؓ نے فرمایا: لیکن تمہارا بھائی تو اسلامی بیت المال اور ’’ابلہ‘‘ کی کسٹم آمدنی کا ذمہ دار ہے، وہ تمہیں بطور قرض مال دیتا ہے تاکہ تم اس سے تجارت کرو۔
(شہید المحراب: صفحہ 250)