زبانی اور تحریری ڈانٹ
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے گورنر جب آپ کے پاس اکٹھے ہوتے تو آپؓ ان کے بےجا تصرفات پر انہیں سختی سے ڈانٹتے تھے۔ حضرت عمرو بن عاصؓ کو کئی مرتبہ ڈانٹ پلائی، اسی طرح حضرت عیاض بن غنمؓ، حضرت خالد بن ولیدؓ اور حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ وغیرہ کو بھی ڈانٹا۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 131) آپؓ کی حکومت میں آپؓ کی تحریری ڈانٹ پلانے کی بہت سی مثالیں ہیں۔ انہی میں سے ایک یہ ہے کہ آپؓ کے ایک گورنر کے پاس کچھ لوگ آئے، انہوں نے عربوں کو عطیات سے نوازا اور غلاموں کو نہیں دیا تو آپؓ نے ان کو خط لکھ کر ڈانٹ پلائی: ’’حمد و صلاۃ کے بعد! آدمی کے برا ہونے کے لیے کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے۔ والسلام‘‘
(فتوح البلدان: صفحہ 443)
تادیبی کارروائیوں کی مذکورہ تمام مثالوں سے ہمیں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ والیان ریاست حکومتی محاسبہ اور مختلف شکل کی تادیبی کارروائیوں سے بالاتر نہ تھے۔ دور نبویﷺ کے بعد خلافت راشدہ نے عدل و مساوات کا جو تابناک منظر پیش کیا پوری انسانیت نے کبھی اسے دیکھا بھی نہ تھا اور اسی بے لاگ عدل و انصاف ہی نے دنیا کے سامنے اسلامی تہذیب و تمدن کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا۔
(فتوح البلدان: جلد 2 صفحہ 133)
حکومتی مشکلات و پیچیدگیوں سے متعلق بحث و مباحثہ کے بارے میں آزادی کا جو تصور بھی ہمارے ذہنوں میں آ سکتا ہے وہ ساری آزادیاں خلیفہ اور ان کے گورنران کے بحث و مباحثہ میں موجود تھیں۔ والیِ ریاست خلیفہ وقت کی قوت و اقتدار سے کبھی خوفزدہ نہ ہوتا تھا، اس کی ایک مثال یہ ہے کہ جب سیدنا عمرؓ نے شام کا دورہ کیا تو حضرت معاویہؓ نے اپنے ساتھ ایک جلوس لے کر آپ کا استقبال کیا اور جب دیکھا کہ حضرت عمرؓ پہنچ گئے تو اپنے گھوڑے سے اترے اور امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطابؓ کی طرف بڑھے اور کہا: ’’السلام علیکم!‘‘ لیکن حضرت عمرؓ آگے بڑھ گئے اور جواب نہ دیا۔ سیدنا معاویہؓ، امیر المؤمنین کے اونٹ کے پیچھے پیچھے دوڑتے رہے، وہ موٹے آدمی تھے، چلتے چلتے ہانپنے لگے۔ عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپؓ نے اسے تھکا دیا اگر آپؓ اس سے بات کر لیں تو؛ پھر حضرت عمرؓ نے کہا: اے معاویہ! کیا تم ہی اس جلوس کے سردار ہو جسے میں دیکھ رہا ہوں؟ انہوں نے کہا: ہاں اے امیر المؤمنین۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: باوجود یہ کہ تم اکثر گھر ہی میں رہتے ہو اور ضرورت مند تمہارے دروازے پر ہوتے ہیں؟ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں اے امیر المؤمنین! آپؓ نے پوچھا: تمہارا برا ہو، ایسا کیوں کرتے ہو؟ حضرت معاویہؓ نے جواب دیا: اس لیے کہ ہمارے شہروں میں دشمنوں کے بہت سارے جاسوس گھومتے ہیں اگر ہم پوری تیاری اور جماعت کے ساتھ نہ رہیں تو خوف ہے کہ ہماری تذلیل کی جائے اور ہم پر حملہ ہو جائے۔ رہی بات پردہ لگانے، گھر میں بیٹھنے اور ضرورت مندوں کے دروازوں پر کھڑے رہنے کی تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں رعایا کی نازیبا حرکتوں اور ان کی جرأت کا خوف ہے۔ اس سب کے باوجود میں آپؓ کا گورنر ہوں اگر آپؓ مجھے ان چیزوں سے روک دیں تو میں رک جاؤں گا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: میں نے جب بھی تم سے کسی چیز کے بارے میں استفسار کیا تو تم کسی نہ کسی طرح بچ گئے۔ بہرحال اگر تم اپنی بات میں سچے ہو تو تم نے عقلمندی کا کام کیا ہے اور اگر جھوٹے ہو تو کافی چالاک ہو، نہ میں تم کو کچھ حکم دیتا ہوں اور نہ کسی چیز سے روک رہا ہوں اور پھر آپؓ واپس لوٹ گئے۔
(الفاروق عمر بن خطاب: الشرقاوی: صفحہ 287)
اس مقام پر قابل غور پہلو یہ ہے کہ باوجودیکہ حضرت عمرؓ اپنے گورنران کے سلسلے میں سخت گیر اور دقت نظر سے ان کا محاسبہ کرنے والے تھے اور جس کے خلاف معقول شکایات آتیں یا جو بے اعتدالی کے لیے مشکوک ہوتا اس کے خلاف تادیبی اقدام کرتے، پھر بھی اپنے والیان ریاست کے لیے آپؓ کے دل میں لگاؤ اور گہری محبت تھی، جس کی وجہ سے آپؓ کے گورنران بھی اپنے خلیفہ کے اخلاص، حسن نیت اور سچی و عادلانہ سیاست پر بھروسہ کرتے تھے۔ چنانچہ اگر معرکہ کارزار سے مجاہدین کمانڈروں کے بارے میں اطلاع آنے میں دیر ہوتی تو ایسا لگتا تھا کہ آپؓ بے چینی سے وفات پا جائیں گے، آپؓ ان پر بہت شفیق و مہربان تھے۔ بعض عظیم جنگوں میں گہری نظر سے حالات کا جائزہ لینے خود نکلتے اور اطمینان قلب کی خاطر مجاہد کمانڈروں کے حالات معلوم کرتے رہتے، کبھی کبھار گورنروں و کمانڈروں سے اس طرح ملتے کہ ان کے درمیان محبت و شفقت دیکھنے کے لائق ہوتی۔ چنانچہ آپؓ بیت المقدس فتح کرنے نکلے اور جابیہ تک پہنچے تو آپؓ کے دونوں کمانڈر یعنی حضرت عمرو بن عاص اور شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہما سے آپؓ کی ملاقات ہو گئی۔ ان دونوں نے فرطِ عقیدت سے حضرت عمرؓ کے گھٹنوں کو چوم لیا اور پھر سیدنا عمرؓ نے جذبۂ محبت سے سرشار ہو کر ان دونوں کو سینہ سے چمٹا لیا۔