Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

کفار کے ساتھ تشبّه اختیار کرنے کی ممانعت


کفار کے ساتھ تشبّه اختیار کرنے کی ممانعت

واضح رہے کہ شرٹ پتلون یا سفاری سوٹ فساق و فجار اور غیر مسلم کفار کا لباس ہے اور شلوار قمیض (کرتہ) مسلمان دین دار صالحین اور اکابر کا لباس ہے۔ اس لئے مسلمانوں کو چاہئے کہ صالحین دیندار اور نیک کاروں کے لباس کو اختیار کریں۔ اور فساق و فجار اور کفار کے لباس اور طور طریق سے حتٰی المقدور پرہیز اور اجتناب کریں، کیونکہ حدیث شریف میں ہیں من تشبّه بقوم فھو منھم جس شخص نے کسی قوم کے ساتھ مشابہت اختیار کی ہے اس کا حشر بھی اس کے ساتھ ہو گا۔ 

اور غیر مسلموں کا لباس اختیار کرنا ان کے ساتھ محبت کی علامت ہے، جو شرعاً ممنوع اور حرام ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں ہے يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الۡيَهُوۡدَ وَالنَّصٰرٰۤى اَوۡلِيَآءَ ‌ؔۘ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلِيَآءُ بَعۡضٍ‌ؕ وَمَنۡ يَّتَوَلَّهُمۡ مِّنۡكُمۡ فَاِنَّهٗ مِنۡهُمۡ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ۞ (سورۃ المائدہ، آیت نمبر 51)

ترجمہ: اے ایمان والو مت بناؤ یہود اور نصاریٰ کو دوست وہ آپس میں دوست ہیں ایک دوسرے کے اور جو کوئی تم میں سے دوستی کرے ان سے تو وہ انہی میں ہے، اللہ ہدایت نہیں کرتا ظالم لوگوں کو،

کیونکہ یہود و نصاری اور کافروں کو دوست بنانے یا ان کی مشابہت و مماثلت اختیار کرنے سے مسلمانوں کے دل بھی ان کی طرح سخت ہو جاتے ہیں اور احکامِ شریعت کو قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔

جیسا کہ علامہ ابنِ حجر مکی ہیثمیؒ نے اپنی کتاب الزواجر عن اقتراف الکھاںٔر میں حضرت مالک بن دینارؒ کی روایت سے ایک نبی کی وحی نقل کی ہے، وہ یہ ہے کہ حضرت مالک بن دینارؒ کہتے ہیں کہ انبیائے سابقین میں سے ایک نبی کی طرف اللہ تعالیٰ جل شانہ کی طرف سے یہ وحی آئی کہ آپ اپنی قوم سے کہہ دیں کہ نہ میرے دشمنوں کے گھسنے کی جگہ گھسیں اور نہ میرے دشمنوں جیسا لباس پہنیں اور نہ میرے دشمنوں جیسے کھانے کھاںٔیں اور نہ میرے دشمنوں جیسی سواریوں پر سوار ہوں یعنی ہر چیز میں اُن سے ممتاز اور جدا رہیں، ایسا نہ ہو کہ یہ بھی میرے دشمنوں کی طرح میرے دشمن بن جائیں۔ 

واضح رہے کہ غیروں کی سی وضع قطع اور ان جیسا لباس اختیار کرنے میں بہت سے مفاسد ہیں، مثلاً

(1) پہلا نتیجہ یہ ہو گا کہ مسلمان اور کافر میں ظاہراً کوئی امتیاز نہیں رہے گا، حقیقت یہ ہے کہ تشبّه بالکفار کفر کی دہلیز اور اس کا دروازہ ہے۔

(2) غیروں کی مشابہت اختیار کرنا غیرت کے بھی خلاف ہے۔

(3) کافروں کا لباس اختیار کرنا دَر پردہ اس کی سیادت اور برتری کو تسلیم کرنا ہے۔

(4) اپنی کمتری، کہتری اور غلامی کا اقرار اور اعلان کرنا ہے، جس کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔ کیونکہ اسلام غالب ہوتا ہے، تابع اور مغلوب نہیں ہوتا۔

نیز تشبّه بالکفار کا ایک نتیجہ یہ ہو گا کہ رفتہ رفتہ کافروں سے مشابہت کا دل میں میلان اور داعیہ پیدا ہو گا، جو صراحتہً ممنوع ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہیں۔ وَلَا تَرۡكَنُوۡۤا اِلَى الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُۙ وَمَا لَـكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ اَوۡلِيَآءَ ثُمَّ لَا تُنۡصَرُوۡنَ‏ ۞ (سورۃ ھود، آیت نمبر 113)

ترجمہ: اور مت جھکو ان کی طرف جو ظالم ہیں پھر تم کو لگے گی آگ اور کوئی نہیں تمہارا اللہ کے سوا مددگار پھر کہیں مدد نہ پاؤ گے۔ 

مسند احمد بن حنبل میں ہے ابو عثمان نہدیؓ کہتے ہیں کہ ہم آذر بائیجان میں تھے کہ ہمارے امیر لشکر سیدنا عتبہ بن فرقدؓ کے نام سیدنا فاروقِ اعظمؓ کا یہ فرمان پہنچا

یا عتبة بن فرقد ایاکم التنعم وزی اھل الشرک ولبوس الحریر اے عتبہ بن فرقد! تم سب کا یہ فرض ہے کہ اپنے آپ کو عیش پرستی اور کافروں اور مشرکوں کے لباس اور ہںٔیت اور وضع قطع سے دُور اور محفوظ رکھیں اور ریشمی لباس کے استعمال سے پرہیز رکھیں۔

غرض یہ ہے کہ مسلمانوں پر ضروری ہے کہ فاسق و فاجر غیر مسلم اور کافروں کے لباس کو ہرگز ہرگز اختیار نہ کریں ورنہ قیامت کے دن اُن کے ساتھ حشر ہو گا۔

(فتاویٰ بینات جلد 4، صفحہ 371)