وبِہ نستعین - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

وبِہ نستعین

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 9
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

وَبِہٖ نَسْتَعِیْنُ

اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الْمُنْقِذِ مِنَ الضَّلَالِ الْمُرْشِدِ اِلَی الْحَقِّ، اَلْہَادِیْ مَنْ یَّشَآئُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ
علامہ زماں ، فاضل دوراں ‘ امام ‘ عالم شیخ الاجل ؛ حافظ فقیہ‘ امام ربانی شیخ الاسلام ابو العباس احمد بن عبد الحلیم بن عبدالسلام بن عبد اللہ بن ابی القاسم بن تیمیہ الحرانی رحمہ اللہ [اللہ تعالیٰ آپ کی قبر کو روشن کرے] فرماتے ہیں :
’’ تمام تر تعریفیں اللہ عزوجل کے لیے ہیں جس نے انبیاء کرام علیہم السلام کو خوشخبریاں دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر مبعوث فرمایا ‘ اور ان کے ساتھ کتابیں نازل کیں تا کہ وہ لوگوں کے مابین ان کے اختلافی مسائل میں کتب الٰہیہ کی روشنی میں فیصلے کرسکیں ۔ اور لوگوں کے درمیان اختلاف تو اسی وقت واقع ہوا جب ان کے پاس کھلی ہوئی کتابیں اور روشن دلائل آچکے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان میں سے جس کو چاہا حق کی طرف ہدایت دی ‘ اللہ تعالیٰ جسے چاہتے ہیں صراط مستقیم کی طرف ہدایت نصیب کرتے ہیں ۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ وحدہ لاشریک اکیلا معبود برحق ہے ‘ اس کا کوئی شریک نہیں ہے ۔ جیسا کہ اس کافرمان ہے :
﴿شَہِدَ اللّٰہُ اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ وَ الْمَلٰٓئِکَۃُ وَ اُولُواالْعِلْمِ قَآئِمًا بِالْقِسْطِ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ
’’اللہ گواہ ہے کہ اس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور فرشتے اوراہل علم بھی گواہ ہیں ؛ وہی قائم رکھنے والا ہے عدل وانصاف کو؛ اس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں وہ زبردست ہے حکمت والا۔‘‘
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے وہ سچے رسول ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے نبوت کا سلسلہ ختم کردیا ؛ اور آپ کے ذریعہ سے اپنے اولیاء کو ہدایت نصیب فرمائی ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
﴿لَقَدْ جَآئَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَؤُوفٌ رَّحِیْمٌ Oفَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَ ہُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْم﴾
تمہارے پاس ایک ایسے پیغمبر تشریف لائے ہیں جو تمہاری جنس سے ہیں جن کو تمہارے نقصان کی بات نہایت گراں گزرتی ہے جو تمہارے فائدے کے بڑے خواہش مند رہتے ہیں ؛ایمانداروں کے ساتھ بڑے شفیق اور مہربان ہیں ۔پھر اگر وہ روگردانی کریں تو آپ فرما دیجئے کہ میرے لئے اللہ کافی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وہ بڑے عرش کا مالک ہے ۔‘‘

[کتاب ’’منہاج السنہ ‘‘ کی تالیف کا سبب]

’’میرے سامنے ایک معاصر شیعہ ’’ابن المطہر‘‘[ابن المطہر کا پورا نام حسن بن یوسف بن علی ابن المطہر المتوفی (۶۴۸۔۷۲۶) ہے، یہ نصیر الدین طوسی المتوفی (۵۹۷۔ ۶۷۲) کا شاگرد خاص اور شیعہ کے کبار علماء میں سے ایک ہے، اس کی تربیت ہی صحابہ و تابعین کرام کے بغض و عناد پر ہوئی تھی، جو صحابہ نے کار ہائے نمایاں انجام دیے اور دنیائے انسانیت جن کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے، ابن المطہر اُن کو غضب آلود نگاہ سے دیکھتا ہے، ابن المطہر نے اپنی کتاب کے جو اوراق سیاہ کیے ہیں ، ان میں جگہ جگہ اس کی عداوتِ صحابہ کے مظاہر نظر آتے ہیں ، شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس کتاب کا تار و پود بکھیر کر رکھ دیا ہے، اور اسے اولین و آخرین کے لیے سامان عبرت بنا دیا ہے۔]کی کتاب پیش کی گئی۔یہ کتاب اس نے شیعہ امامیہ کے مذہب کی ترویج واشاعت کے لیے تحریر کی تھی۔جس میں اس نے ان لوگوں کو رافضی مذہب کی دعوت پیش کی ہے جن حکمرانوں اور اہل جاہلیت وغیرہ تک اس کی پہنچ ہوسکی ۔ یہ ایسے لوگ ہیں جنہیں علم اور دین کی بہت ہی کم معرفت ہوتی ہے ۔ اور انہیں مسلمانوں کے اصل دین کا کوئی علم نہیں ہوتا۔ اور اس پر مستزاد کہ وہ لوگ بھی اس کے مدد گار بنے جن کی عادت رافضیوں کی مدد کرنا ہے ۔ میری مراد وہ باطنیہ[تمہارے پاس ایک ایسے پیغمبر تشریف لائے ہیں جو تمہاری جنس سے ہیں جن کو تمہارے نقصان کی بات نہایت گراں گزرتی ہے جو تمہارے فائدے کے بڑے خواہش مند رہتے ہیں ؛ایمانداروں کے ساتھ بڑے شفیق اور مہربان ہیں ۔پھر اگر وہ روگردانی کریں تو آپ فرما دیجئے کہ میرے لئے اللہ کافی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وہ بڑے عرش کا مالک ہے ۔‘‘
[کتاب ’’منہاج السنہ ‘‘ کی تالیف کا سبب]
’’میرے سامنے ایک معاصر شیعہ ’’ابن المطہر‘‘[1]کی کتاب پیش کی گئی۔یہ کتاب اس نے شیعہ امامیہ کے مذہب کی ترویج واشاعت کے لیے تحریر کی تھی۔جس میں اس نے ان لوگوں کو رافضی مذہب کی دعوت پیش کی ہے جن حکمرانوں اور اہل جاہلیت وغیرہ تک اس کی پہنچ ہوسکی ۔ یہ ایسے لوگ ہیں جنہیں علم اور دین کی بہت ہی کم معرفت ہوتی ہے ۔ اور انہیں مسلمانوں کے اصل دین کا کوئی علم نہیں ہوتا۔ اور اس پر مستزاد کہ وہ لوگ بھی اس کے مدد گار بنے جن کی عادت رافضیوں کی مدد کرنا ہے ۔ میری مراد وہ باطنیہ[2]اور ملحد ہیں جو اسلام کا اظہار تو کرتے ہیں مگر اپنے دلوں صبائیت ‘مجوسیت اور الحاد کو چھپائے ہوئے ہیں ۔[3]
صفحہ 1 از 9