وبِہ نستعین - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

وبِہ نستعین

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 9
شیعہ نقلی دلائل پیش کرنے میں اکذب الناس ہیں [اس کی وجہ یہ ہے کہ مرویات و منقولات میں شیعہ کے یہاں ثقاہت و عدالت کا معیار حب اہل بیت اور بغض صحابہ ہے۔ جو شخص اپنے دل میں صحابہ کے لیے جس قدر زیادہ بغض و عداوت رکھتا ہو، وہ اسی قدر زیادہ مقبول الروایت ہے، جو اس ضمن میں نرمی برتتا ہے، اور سیدہ عائشہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہمااور دیگر صحابہ و تابعین رضی اللہ عنہم پر لعنت نہیں بھیجتا وہ اس مقبولیت سے محروم ہے۔]اور عقلی دلائل کے ذکر و بیان میں اجہل الناس۔[اجہل الناس ہونے کی وجہ یہ ہے کہ شیعہ مذہب کی اساس اباطیل و اوہام پر رکھی گئی ہے، چنانچہ آگے چل کر آپ اسی کتاب میں ملاحظہ فرمائیں گے، جہالت کی حدیہ ہے کہ شیعہ امامیہ کو دور حاضر میں اپنا بلا امام ہونا بھی تسلیم نہیں ، بخلاف ازیں وہ اپنے کو شیعہ امامیہ کہے جاتے ہیں اور اس امر کے مدعی ہیں کہ وہ امامیہ ہیں ، ان کا امام بارہ سو سال کی مدت مدید گزرنے کے باوصف ہنوز بقید حیات ہے، جوکہ سامرہ کے تہ خانہ میں پوشیدہ ہے، امامیہ شیعہ امام غائب کے خروج کے منتظر ہیں ، اور ان کے جلدی ظہور و خروج کے لیے دست بدعا رہتے ہیں ۔]
منقول میں سے ایسی چیزوں کی تصدیق کرتے ہیں جن کے متعلق علماء اضطراری طور پر جانتے ہیں یہ اباطیل (من گھڑت باتوں )میں سے ہیں ۔ اور ایسی روایات کی تکذیب کرتے چلے آئے ہیں جن کے متعلق علماء کرام حتمی طور پر جانتے ہیں کہ یہ روایات امت میں نسل در نسل تواتر کے ساتھ چلی آرہی ہیں ۔ شیعہ صاحبان اہل علم کی نقل کردہ روایات اور جھوٹ و باطل ؛ غلط اور جہالت پر مبنی خبروں میں معروف؛ من گھڑت خبریں پھیلانے والوں کی مرویات اور عادل حافظ ‘ ضابط اور علم ِ حدیث میں معروف محدثین کی روایات کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے ۔ اس بارے میں اصل میں یہ لوگ اپنے اسلاف کے مقلد ہیں ۔ خواہ یہ اپنی ان من گھڑت باتوں کو براہین [دلائل ] کا نام ہی کیوں نہ دیتے ہیں ۔
کبھی تو شیعہ حضرات معتزلہ اور قدریہ [قدریہ وہ فرقہ ہیں جو قدر کے مسائل میں بحث و مباحثہ کرتے ہیں او رتقدیر کا انکار کرتے ہیں ۔راجح قول کے مطابق اس فرقے کا پہلا انسان معبد الجہنی تھا جو ۸۰ؔہجری میں قتل ہوا۔[شرح مسلم از امام نووی ۱؍۱۵۰] پھر اس کے بعد ابن غیلان بن مسلم الدمشقی اس راہ پر چل پڑا؛ جسے عبد الملک بن مروان کے عہد میں قتل کیا گیا۔[الفرق بین الفرق ص۷۰] امام ابو الحسن اشعری نے مقالات میں اصول دین میں رافضیوں کا اختلاف ذکر کیا ہے ؛ اوریہ واضح کیا ہے کہ ان میں سے بعض قدریہ اور معتزلہ کی اتباع کرتے ہیں ۔ [مقالات ۱؍۱۰۵]]کی اتباع کرنے لگ جاتے ہیں ‘ اور کبھی مجسمہ[مجسمہ کاعقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی اجسام میں سے ایک جسم ہیں ۔ اشعری نے مقالات میں ان کا ذکر کیا ہے[۱؍۱۰۲] اور پھر عصر کے پانچ شیعہ فرقوں کی آراء نقل کی ہیں ؛ یہ سارے فرقے اللہ تعالیٰ کے لیے جسم مانتے ہیں ۔ جیسا کہ ہشام بن الحکم کا عقیدہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی لمبائی اور چوڑائی برابر ہے؛اورچوڑائی او رگہرائی بھی یکساں ہیں (معاذ اللہ )۔پھر اشعری نے مقالات [۱؍۱۰۵]میں نقل کیا ہے کہ:یہ لوگ توحید میں معتزلہ اور خوارج والا عقیدہ رکھتے ہیں ۔ جب کہ ان کے اولین لوگوں کا وہی تشبیہ والا عقیدہ تھا جیسا کہ ہم نے بیان کیاہے۔]اور جبریہ [جبریہ وہ فرقہ ہیں جو انسان کے لیے کسی کام کو ثابت نہیں مانتے؛ان کا عقیدہ ہے کہ انسان کو اصل میں کوئی قدرت یا اختیار حاصل نہیں ۔ وہ تمام تر افعال کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔ہمارے علم کی حد تک جبریہ کی طرح جداگانہ عقیدہ رکھنے وا لا کوئی فرقہ نہیں پایا جاتا۔ اور دیگر امور میں یہ لوگ جہمیہ نجاریہ اور ضراریہ کی طرح کے عقائد رکھتے ہیں جن کا عقیدہ جبر اورنفی صفات الٰہی کا جامع تھا۔ [الملل والنحل ۱؍۷۹۔]] کے پیروکار بن جاتے ہیں ۔ یہ لوگ نظری علوم میں سب فرقوں سے بڑھ کر گمراہ ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ عام اہل علم اور دین دار طبقہ کے لوگ انہیں اسلام میں داخل ہونے والے لوگوں میں سب سے جاہل گروہ کہتے چلے آئے ہیں ۔ ان میں ایسے لوگ بھی گزرے ہیں جن کی وجہ سے دین اسلام کو جو نقصان پہنچا ہے اس کا بخوبی اندازہ صرف رب العالمین ہی کو ہے۔
صفحہ 5 از 9