وبِہ نستعین - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

وبِہ نستعین

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 7 از 9
پھر ہم آپ کی بات کو کیسے رد کریں ‘ اور آپ کو کیسے جھٹلائیں ؟ اللہ کی قسم ! آپ ہر گز جھوٹے نہ تھے۔ یہ کلام عبد الجبار ہمدانی[قاضی عماد الدین ابو الحسن عبد الجبار بن احمد ہمدانی ؛ اپنے وقت میں معتزلہ کے بڑے عالم تھے۔ آپ کی کتاب ’’ تثبیت النبوۃ ‘‘ اس باب میں ایک لاجواب کتاب ہے ۔یہ جملہ دیکھنے کے لیے دیکھیں : ۲؍۵۴۹]نے اپنی کتاب ’’ تثبیت النبوۃ‘‘ میں نقل کیا ہے ؛اور کہا ہے : یہ کلام ابو القاسم بلخی نے جاحظ پر راوندی[اس کا نام ابو الحسین أحمد بن یحی بن اسحق الراوندی؛ متوفی ۲۹۸ہجری ہے۔ اس کا شمار معتزلہ کے ائمہ میں سے ہوتا تھا۔ پھر ان سے علیحدہ ہوکر ان کے مذہب پر حملہ زن ہوا۔ اور خود زندیق اورملحد ہوگیا۔ شہرستانی نے اسے شیعہ مصنفین میں سے شمار کیا ہے۔ [الملل النحل ۱؍۱۷۱۔ الفرق بین الفرق ۱۰۵۔ ۱۰۷۔ معجم الادباء ۱۶؍ ۷۴۔مقالات الاشعری ۱؍۱۲۷۔ الاعلام ۱؍۲۵۲۔]] کے اعتراض پر رد کرتے ہوئے ذکر کیا ہے ۔

کتاب کی اہمیت:

لوگوں نے مجھ سے گمراہی پر مبنی اس کتاب کا جواب لکھنے کے لیے اصرارکیا ؛ ان کا کہنا تھا کہ اس کا جواب اگر نہ لکھا گیا تو اس میں اہل ایمان کے لیے بہت بڑی سبکی ہوگی۔ اور اہل طغیان [سرکش اور دین سے باغی] لوگ یہ خیال کرنے لگیں گے کہ کوئی بھی اس کتاب میں موجود بہتان تراشیوں کا جواب دینے پر قادر نہیں ہے ۔
پھر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے میں نے اس کا جواب لکھا جو کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کئے گئے اس وعدے کے ساتھ وفاداری ہے جو اللہ تعالیٰ نے اہل علم و ایمان سے لیا تھا کہ وہ عدل کے ساتھ اللہ کے لیے گواہی دیں گے ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
﴿ یٰٓأَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُہَدَآئَ لِلّٰہِ وَ لَوْ عَلٰٓی اَنْفُسِکُمْ اَوِ الْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ اِنْ یَّکُنْ غَنِیًّا اَوْ فَقِیْرًا فَاللّٰہُ اَوْلٰی بِہِمَا فَلَا تَتَّبِعُوا الْہَوٰٓی اَنْ تَعْدِلُوْا وَ اِنْ تَلْوٗٓا اَوْ تُعْرِضُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا
’’اے ایمان والو! عدل پر مضبوطی سے جم جانے اوراللہ کی خوشنودی کے لئے سچی گواہی دینے والے بن جاؤ، گو وہ خود تمہارے اپنے یا اپنے والدین یاقرابت داروں کے خلاف ہو؛وہ شخص اگرامییا فقیر ہو تو دونوں سے اللہ کو زیادہ تعلق ہے؛پس تم خواہش نفس کے پیچھے پڑ کر انصاف نہ چھوڑ دینااور اگر تم نے کج بیانی کی یا پہلو تہی کی تو جان لو کہ جو کچھ تم کرو گے اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔‘‘
پہلو تہی : سے مراد گواہی کو بدلنا ہے۔اور اس سے منہ موڑنے سے مراد: گواہی کو چھپاناہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں میں سچ بولنے اور حق بیان کرنے کا حکم دیا ہے ؛ اور جھوٹ بولنے اور حق چھپانے سے منع کیا ہے؛ جن کی معرفت اور اظہار کی ضرورت ہوتی ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
((البیِعانِ بِالخِیارِ ما لم یتفرقا فِإن صدقا وبینا بورِک لہما فِی بیعِہِما وِإن کذبا وکتما محِقت برکۃ بیعِہِما)) [البخاری کتاب البیوع؛ باب إذا بین البیعان و لم یکتما.... ۳؍۵۸۔ مسلم کتاب البیوع ؛ باب البیعان بالخیار ما لم یتفرقا ۳؍۱۱۶۴۔ والحدیث في سنن الترمذي و ابن ماجۃ و ابي داؤد و مسند أحمد ؛ و النسائی۔]
’’ بیع کرنے والوں کو جدا ہونے تک اختیار ہے۔ پس اگر وہ دونوں سچ بولیں اور وضاحت کردیں تو ان کی بیع میں برکت دی جاتی ہے اور اگر انہوں نے جھوٹ بولا اور عیوب کو چھپایا تو ان کی بیع کی برکت مٹا دی جاتی ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
﴿ ٰٓیا أَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰہِ شُہَدَآئَ بِالْقِسْطِ وَ لَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓی اَلَّا تَعْدِلُوْا اِعْدِلُوْا ہُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی﴾ (المائدۃ ۸)
’’اے ایمان والو! تم اللہ کی خاطر حق پر قائم ہو جاؤ، راستی اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بن جا ؤ؛کسی قوم کی عداوت تمہیں خلاف عدل پر آمادہ نہ کر دے عدل کیا کرو جو پرہیزگاری کے زیادہ قریب ہے۔‘‘
یہی وہ سب سے بڑی گواہی ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنایا ہے ‘ جیسا کہ فرمان الٰہی ہے :
﴿وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَآئَ عَلَی النَّاسِ وَ یَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًا ﴾(البقرہ ۱۴۳)
’’اور ہم نے اسی طرح تمہیں عادل امت بنایاتاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو جاؤ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم پر گواہ ہو جائیں ۔‘‘
اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
﴿وَ جَاہِدُوْا فِی اللّٰہِ حَقَّ جِہَادِہٖ ہُوَ اجْتَبٰکُمْ وَ مَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ مِلَّۃَ اَبِیْکُمْ اِبْرٰہِیْمَ ہُوَ سَمّٰکُمُ الْمُسْلِمِیْنَ مِنْ قَبْلُ وَ فِیْ ھٰذَا لِیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ شَہِیْدًا عَلَیْکُمْ وَ تَکُوْنُوْا شُہَدَآئَ عَلَی النَّاسِ﴾ (الحج ۷۸)
’’اور اللہ کی راہ میں ویسا ہی جہاد کرو جیسے جہاد کا حق ہے اسی نے تمہیں برگزیدہ بنایا ہے اور تم پر دین کے بارے میں کوئی تنگی نہیں ڈالی؛ دین اپنے باپ ابراہیم (علیہ السلام)کا قائم رکھو؛ اس اللہ نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے۔ اس قرآن سے پہلے بھی اور اس میں بھی؛ تاکہ پیغمبر تم پر گواہ ہو جائے اور تم تمام لوگوں کے گواہ بن جاؤ۔‘‘
جمہور علماء کرام رحمہم اللہ کے نزدیک اس آیت کا معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کے نازل ہونے سے پہلے بھی اور قرآن میں بھی ان کا نام مسلمان رکھا۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
﴿ وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ کَتَمَ شَہَادَۃً عِنْدَہٗ مِنَ اللّٰہِ ﴾ (البقرۃ۱۴۰)
’’ اللہ کی طرف سے شہادت چھپانے والے سے زیادہ ظالم اور کون ہے؟‘‘
نیز فرمان الٰہی ہے :
﴿وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّہٗ لِلنَّاسِ وَ لَا تَکْتُمُوْنَہ﴾(آل عمران ۱۸۷)
’’اورجب اللہ نے اہل کتاب سے عہد لیا کہ تم اسے لوگوں سے ضرور بیان کرو گے اور اسے چھپاؤ گے نہیں ۔‘‘
اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
صفحہ 7 از 9