وبِہ نستعین - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

وبِہ نستعین

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 8 از 9
﴿اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْتُمُوْنَ مَآ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَالْہُدٰی مِنْ بَعْدِ مَا بَیَّنّٰہُ لِلنَّاسِ فِی الْکِتٰبِ اُولٰٓئِکَ یَلْعَنُہُمُ اللّٰہُ وَ یَلْعَنُہُمُ اللّٰعِنُوْنَo اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ بَیَّنُوْا فَاُولٰٓئِکَ اَتُوْبُ عَلَیْہِمْ وَ اَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیْم﴾ (البقرۃ ۱۵۹۔۱۶۰)
’’جو لوگ ہماری اتاری ہوئی دلیلوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں باوجودیکہ ہم اسے اپنی کتاب میں لوگوں کیلئے بیان کر چکے ہیں ، ان لوگوں پر اللہ کی اور تمام لعنت کرنے والوں کی لعنت ہے۔مگر وہ لوگ جو توبہ کرلیں اور اصلاح کرلیں اور حق بیان کر دیں تو میں ان کی توبہ قبول کر لیتا ہوں اور میں توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہوں ۔‘‘
اور خصوصاً اس وقت جب اس امت کے آخری لوگ پہلے لوگوں پر لعنت کرنا شروع کردیں ۔ جیسا کہ اثر میں ہے :
’’جب اس امت کے بعد میں آنے والے لوگ پہلے لوگوں پر لعنت کرنا شروع کردیں ‘ تو جس کے پاس علم ہو ‘ اسے چاہیے کہ اس کا اظہار کرے ۔ اس لیے کہ اس دن علم کو چھپانے والا بالکل اس آدمی کی مانند ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی کتاب کو چھپاتا ہے ۔‘‘[رواہ ابن ماجہ ‘۱؍۹۶؛ وھو ضعیف؛ المقدمۃ ؛ باب من سئل عن علم فکتمہ۔]
اس لیے کہ اس امت کے پہلے لوگ جنہوں نے تصدیق ‘ علم اور عمل اور تبلیغ کی بنیاد پر اس دین کو قائم کیا ‘ ان پر طعنہ زنی کرنا دین پر طعنہ زنی کرنا اور اس دین سے اعراض کا موجب ہے جو دین دیکر اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام کو مبعوث کیا تھا ۔
شیعیت کی مصیبت پھیلانے کاپہلا ہدف ہی یہی تھا۔ اس لیے کہ ان کا مقصد لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے دین سے روکنا اور انبیاء و مرسلین کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائی ہوئی تعلیمات کو باطل قرار دینا تھا۔ اسی لیے یہ لوگ ملت [اسلامیہ ] میں [علمی وعملی] کمزوری کے حساب سے اپنے عقائد و خیالات کا اظہار کیا کرتے ہیں ۔
حقیقت میں ملحدین میں ان ہی گمراہ کن بدعات کا ظہور ہوا۔ لیکن ان میں سے بہت ساری بدعات نے ان لوگوں میں رواج پکڑا جو کہ خود ملحداور منافق نہ تھے۔ [ان بدعات کے پھیلنے کی] وجہ یہ تھی کہ ان لوگوں میں شبہ اور جہالت پائی جاتی تھی جس کے ساتھ ہوائے نفس ملی ہوئی تھی؛ جس نے ان گمراہیوں کو قبول کرلیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
﴿وَالنجم اِِذَا ہَوٰی oمَا ضَلَّ صَاحِبُکُمْ وَمَا غَوٰی oوَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰی oاِِنْ ہُوَ اِِلَّا وَحْیٌ یُّوحٰی ....سے لیکرآگے تک....اَفَرَئَ یْتُمُ اللّٰتَ وَالْعُزّٰیoوَمَنَاۃَ الثَّالِثَۃَ الْاُخْرٰی oاَلَکُمُ الذَّکَرُ وَلَہُ الْاُنْثٰیo تِلْکَ اِِذًا قِسْمَۃٌ ضِیْزٰی oاِِنْ ہِیَ اِِلَّا اَسْمَآئٌ سَمَّیْتُمُوْہَآ اَنْتُمْ وَآبَاؤُکُمْ مَا اَنزَلَ اللّٰہُ بِہَا مِنْ سُلْطَانٍ اِِنْ یَتَّبِعُوْنَ اِِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَہْوَی الْاَنْفُسُ وَلَقَدْ جَآئَ ہُمْ مِّنْ رَّبِّہِمُ الْہُدٰی﴾ (النجم۱۔۲۳) 
’’قسم ہے تارے کی جب وہ نیچے کوچلے۔ تمھاراساتھی (یعنی پیغمبر) نہ تو بہکا ہے نہ بھٹکا۔ اورنہ (اپنے دل کی) خواہش سے وہ (کوئی) بات کرتا ہے۔اس کی جو بات ہے و ہ وحی ہے جو (اس پر بھیجی جاتی ہے۔ ........[آگے تک ] (مشرکو!) بھلا بتلاؤ تو سہی! لات اور عزیٰ اور تیسرا ایک اور بت منات (یہ کس کام کے ہیں ۔تم کو تومردو(بیٹے )ملے اور پروردگار کوعورتیں (بیٹیاں )۔یہ تواگر ایسا ہو تویہ ایک بھونڈی تقسیم ہے۔یہ بت تو نرے نام ہی نام ہے ( جن کی حقیقت کچھ نہیں ) جوتم اورتمھارے باپ دادا نے (اپنے دل سے) تراش لئے ہیں اللہ نے تو انکے (معبود ہونے کی) کوئی سند نہیں اتاری۔ یہ کافر صرف گمان پر چلتے ہیں اور جون کے دل میں آتا ہے وہ کرتے ہیں حالانکہ ان کے مالک کی طرف سے ان کو (ٹھیک) راستہ بھی بتلایا جا چکاتھا۔‘‘
ان آیات مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے کج روی اور گمراہی؛ جہالت اور اتباع ہویٰ(خواہشات کی پیروی) سے اپنے رسول کی تنزیہ و پاکیزگی بیان کی ہے ۔ جیساکہ [عام انسانوں کے بارے میں ] اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
﴿وَ حَمَلَہَا الْاِنْسَانُ اِنَّہٗ کَانَ ظَلُوْمًا جَہُوْلًا﴾ (الأحزاب ۷۲)
’’اور اسے انسان نے اٹھا لیا بیشک وہ بڑا ظالم بڑا نادان تھا۔‘‘
اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
﴿لِّیُعَذِّبَ اللّٰہُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَالْمُنٰفِقٰتِ وَالْمُشْرِکِیْنَ وَ الْمُشْرِکٰتِ وَ یَتُوْبَ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا﴾ (الأحزاب ۷۳)
’’تاکہ اللہ منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب دے اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کی توبہ قبول فرمائے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘
اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم نماز میں یوں دعا کیا کریں :
﴿صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ oغَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ﴾ (الفاتحۃ ۶۔۷)
’’ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا نہ جن پر تیرا غضب نازل ہوا اور نہ وہ گمراہ ہوئے۔‘‘
گمراہ وہ ہے جو حق بات کو نہ جان سکے ‘ جیسا کہ عیسائی ہیں ۔ اور مغضوب (جس پر غضب نازل ہوا ہو ) سے مراد وہ بھٹکا ہوا سرکش ہے جو حق بات کو جان لے ‘مگر پھر بھی اس کے خلاف عمل کرے۔ صراط مستقیم ان دونوں چیزوں کو متضمن ہے کہ حق بات کی معرفت حاصل کی جائے ۔ اور پھر اس کے مطابق عمل کیا جائے۔ اسی لیے ماثور دعاؤوں میں سے ایک یہ بھی ہے:
(( اللہم أرني الحق حقاً و وفقني اتباعہ ‘ و أرني الباطل باطلاً ووفقني اجتنابہ ‘ و لا تجعلہ مشتبہاً عليَّ فأتبع الہوی۔))
’’ اے اللہ مجھے حق کو حق کردیکھا اور پھر مجھے اس کی اتباع کرنے کی توفیق دے ‘ اور مجھے باطل کو باطل کر دیکھا ‘ اور پھر اس سے بچ کر رہنے کی توفیق دے ‘ اور مجھ پر اس کو مشتبہ نہ کردینا کہ میں خواہشات نفس کی پیروی کرنے لگ جاؤں ۔‘‘
صحیح مسلم میں ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تہجد کی نماز کے لیے بیدار ہوتے تو ان الفاظ میں دعا فرمایا کرتے :
صفحہ 8 از 9