پہلی معزولی - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

پہلی معزولی

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو پہلی مرتبہ شام کے سپہ سالار اعظم کے عہدے اور قیادت عامہ سے معزول کیا۔ یہ معزولی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بالکل آغاز میں 13 ہجری میں عمل میں آئی۔ یہ معزولی امراء و والیان ریاست کے ساتھ تعامل میں صدیقی و فاروقی منہج میں اختلاف کی وجہ سے ہوئی تھی۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کا اپنے والیان ریاست و افسران امور کے ساتھ تعامل کا یہ طریقہ تھا کہ آپؓ انہیں تمام تر ملکی نظام میں تصرف کا مکمل اختیار دیتے تھے بشرطیکہ وہ افراد و جماعات سب کے درمیان عدل و انصاف برقرار رکھیں۔ آپؓ کا یہ نظریہ تھا کہ عدل و مساوات کا علم بلند رہے خواہ وہ آپؓ کے ہاتھ میں ہو یا آپ کے گورنران و آفیسر ان کے ہاتھ میں ہو۔ گورنر و امیر کو خلیفہ کی طرف سے یہ اختیار و حق تھا کہ اپنے ریاستی معاملات میں جو تدبیر و سیاست مناسب سمجھے کرے، ہر چھوٹی چھوٹی چیز کے لیے خلیفہ کے حکم و اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ حضرت ابوبکرؓ کی بس یہی کوشش رہتی تھی کہ جب تک والیان و امراء رعایا میں عدل و انصاف قائم رکھتے ہیں انہیں مالی و غیر مالی اختیارات و ذمہ داریوں سے سبکدوش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

(خالد بن ولید: صادق عرجون: صفحہ 321، 322) سیدنا عمر فاروقؓ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کے بارے میں حضرت ابوبکر صدیقؓ سے فرمایا تھا کہ آپؓ ان کو خط لکھ دیں کہ وہ بغیر آپؓ کی اجازت کے کسی کو ایک بکری یا اونٹ تک نہ دیں۔ حضرت ابوبکرؓ نے حضرت خالدؓ کے نام یہ حکم لکھ بھیجا تو حضرت خالدؓ نے جواباً تحریر کیا: ’’میں جس طرح کام کرتا ہوں کرنے دیں یا آپ جانیں اور آپ کا کام‘‘ یہ جواب دیکھ کر سیدنا عمرؓ نے ابوبکرؓ سے کہا کہ حضرت خالدؓ کو معزول کر دیجیے۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 7 صفحہ 115) لیکن حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضرت خالدؓ کو اس منصب پر باقی رکھا۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 1 صفحہ 146) جب سیدنا عمر فاروقؓ نے خلافت سنبھالی تو خلیفہ کے فرائض میں یہ چیز بھی شمار کی کہ وہ اپنے امراء و گورنروں کے اختیارات محدود کر دیں اور ان پر واجب کر دیں کہ جب کوئی اہم واقعہ پیش آئے تو اسے خلیفہ کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ خلیفہ خود اس پر غور کرے اور جس نتیجہ پر پہنچے اسے امراء و گورنران خلیفہ کے حکم کے بموجب نافذ کریں۔ آپؓ کا خیال تھا کہ خلیفہ خود اپنے عمل اور اپنی رعایا پر مقرر کیے ہوئے حکام و گورنران کے عمل کا بھی ذمہ دار ہے اور یہ ذمہ داری اتنی عظیم ہے کہ کسی گورنر یا امیر کی خطرناک غلطی کر جانے کے بعد یہ کہنے سے چھٹکارا ملنے والا نہیں کہ میں نے تو بہتر والیٔ ریاست گورنر کے انتخاب میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی تھی۔ چنانچہ جب آپؓ منصب خلافت پر سرفراز ہوئے تو لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے کہا: ’’اللہ نے تمہارے ذریعہ مجھ کو اور میرے ذریعہ تم کو آزمایا ہے، میرے دونوں ساتھیوں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد اس نے مجھے باقی رکھا۔ اللہ کی قسم! اگر تمہارے معاملات میں سے کوئی بھی معاملہ مجھ تک پہنچنے والا تھا اور کسی نے اسے مجھ تک پہنچنے سے روک دیا تو میں اس میں امانت اور بدلہ کی پورا خیال رکھوں گا۔ اگر والیان ریاست نے اپنے عمل میں اچھائی کا مظاہرہ کیا تو میں ان سے اچھا برتاؤ کروں گا اور اگر برائی کا مظاہرہ کیا تو انہیں سخت سزا دوں گا۔‘‘

(خالد بن ولید: صادق عرجون: صفحہ 331) سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: ’’میں نے اپنی صوابدید سے کسی کو بہتر جان کر اگر تم پر افسر بنایا پھر اسے عدل کرنے کا حکم دے دیا تو کیا میں نے اپنی ذمہ داری ادا کر دی؟‘‘ حاضرین نے کہا: ہاں۔ آپؓ نے فرمایا: ’’نہیں، اس وقت تک ادا نہ کی جب تک کہ اس کے کام کو نہ دیکھ لوں کہ کیا اس نے میرے حکم کے مطابق کیا یا نہیں؟‘‘

(خالد بن ولید: صادق عرجونؓ صفحہ 332) چنانچہ خلافت سنبھالتے ہی آپؓ نے چاہا کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے مقرر کردہ والیان ریاست کو اپنے منہج اور طرز سیاست پر کاربند کریں۔ ان میں سے کچھ نے آپؓ کے نظریہ کو تسلیم کر لیا اور کچھ نے ماننے سے انکار کر دیا۔ انکار کرنے والوں میں حضرت خالد بن ولیدؓ بھی تھے۔

(خالد بن ولید: صادق عرجون: صفحہ 332) حضرت مالک بن انسؓ سے روایت ہے کہ جب حضرت عمرؓ فاروق نے خلافت سنبھالی تو حضرت خالد بن ولیدؓ کے نام خط لکھا: ’’میری اجازت کے بغیر کسی کو ایک اونٹ یا بکری تک نہ دینا۔‘‘ حضرت خالدؓ نے جواباً لکھا: ’’میں جس طرح کام کرتا ہوں یا تو مجھے اسی طرح کرنے دیں یا آپ کا کام آپ کے حوالے۔‘‘ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے حضرت ابوبکرؓ سے جس چیز کا اشارہ کیا تھا اگر اب اسے نافذ نہیں کر دیتا تو اللہ کے نزدیک میں سچا نہیں ہوں اور پھر آپؓ نے خالد بن ولیدؓ کو معزول کر دیا۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 511) پھر حضرت عمر فاروق، خالد رضی اللہ عنہما کو منصب قبول کرنے کو کہتے تھے تو وہ یہی کہتے تھے کہ میں خود جیسا مناسب سمجھوں گا وہی کروں گا لیکن حضرت عمرؓ ماننے سے انکار کر دیتے اور منصب دینے سے رک جاتے۔

صفحہ 1 از 3