پہلی معزولی - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

پہلی معزولی

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

(خالد بن ولید: صادق عرجون: صفحہ 332) چنانچہ معلوم ہوا کہ حضرت عمرؓ نے حضرت خالدؓ کو حکومتی سیاست اور اس نقطۂ نظر سے معزول کیا تھا کہ حاکم اپنی پوری سلطنت کا ذمہ دار اعلیٰ ہے اور اسے تمام تر ملکی معاملات میں تصرف کا اختیار حاصل ہے اور حاکم کی سیاسی زندگی میں اس طرح کا واقعہ کسی کے ساتھ اور کسی وقت بھی پیش آنا ایک فطری چیز ہے۔ پس حضرت خالدؓ کی معزولی میں بھی کوئی ایسی انوکھی چیز ظاہر نہیں ہوئی کہ اس کے اسباب کی وضاحت کے لیے غیر مستند روایات، فکری انحرافات اور ظن و وہم پر مبنی رجحانات کا سہارا لیا جائے اور ان کے متعلق من مانی رائے قائم کی جائے۔ ایک پہلو یہ بھی قابل غور ہے کہ سیدنا عمر فاروقؓ ایسے دور میں مسلمانوں کے خلیفہ بنے کہ اس میں لوگ کامل انسان تھے، فیض نبوت کے تربیت یافتہ تھے اور آپؓ کے اولین حقوق میں یہ چیز شامل تھی کہ جو امیر و گورنر آپ کے حکومتی و سیاسی نظریہ سے اتفاق رکھتا ہو آپؓ اسے منتخب کر لیں اور امت مسلمہ جب تک اعلیٰ صلاحیتوں سے مالا مال ہے تب تک آپؓ اس پر حکومت کریں کیونکہ کسی بھی حاکم و افسر کو اپنے منصب پر ہمیشہ باقی رہنے کا حق نہیں ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب کہ حاکم وقت اور اس کے ماتحت افسران کے سیاسی طرز عمل میں اتفاق نہ ہو اور حاکم وقت کا کوئی متبادل بھی نہ ہو۔

بہرحال تاریخی واقعات شاہد ہیں کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو توفیق الہٰی حاصل تھی اور اپنی مذکورہ سیاست میں ان کو بے نظیر کامیابی ملی۔ ایک کو معزول کیا تو فوراً دوسرے کو ذمہ دار بنایا اور جسے ذمہ دار بنایا وہ معزول کردہ شخصیت سے کم صلاحیت کا حامل نہ تھا۔ درحقیقت یہ سب کچھ اسلام کی روحانی تربیت کا نتیجہ تھا جس کی اساس ہی اس بات پر قائم ہے کہ وہ ہمیشہ اس امت مسلمہ کو فدائی قوتیں اور اعلیٰ سیاسی صلاحیتیں فراہم کرتی رہے۔

(خالد بن ولید: صادق عرجون: صفحہ 332، 333) حضرت خالد بن ولیدؓ نے اپنی معزولی کے حکم نامے کو بغیر کسی اعتراض کے نہایت خندہ پیشانی سے قبول کیا اور حضرت ابو عبیدہؓ کی قیادت میں جہاد کرتے رہے۔ یہاں تک کہ اللہ نے ان کے ہاتھوں سے ’’قنسرین‘‘ فتح کرایا۔ پھر ابو عبیدہؓ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو وہاں کا امیر بنا دیا اور امیر المؤمنین کے نام ’’قنسرین‘‘ کی فتح اور اس میں حضرت خالدؓ کے فاتحانہ کارنامے کے تذکرہ پر مشتمل ایک خط لکھا۔ خط پڑھ کر حضرت عمرؓ نے فرمایا: خالد نے اپنے آپؓ کو خود ہی امیر بنا لیا ہے، اللہ تعالیٰ ابوبکرؓ پر رحم فرمائے، وہ مجھ سے زیادہ مردم شناس تھے۔

(خالد بن ولید: صادق عرجون: صفحہ 321) گویا حضرت عمر فاروقؓ یہ کہنا چاہتے تھے کہ حضرت خالدؓ بہادری و جانبازی اور حرب و جنگ کے جن فنون و صلاحیتوں سے فطری طور پر نوازے گئے ہیں ان کے لیے انہوں نے خود کو وقف کر دیا ہے اور اسی لیے خطرناک سے خطرناک مواقع پر بھی پیش قدمی کرنے اور جان جوکھوں میں ڈالنے سے بالکل نہیں گھبراتے اور باوجودیکہ حضرت خالدؓ کی معزولی کے لیے سیدنا ابوبکرؓ سے انہوں نے بہت اصرار کیا پھر بھی حضرت ابوبکرؓ نے خالدؓ کو معزول نہ کیا، وہ شاید اسی یقین و اعتماد کی بنا پر کہ حضرت خالدؓ فوجی قوت اور جنگی صلاحیت کے شاہکار ہیں اور امت مسلمہ کے بہادروں میں گنے چنے مخصوص افراد ہی ان جیسی ہستیوں کے متبادل ہو سکتے ہیں۔

(خالد بن ولید: صادق عرجون: صفحہ 321) اس طرح حضرت خالدؓ، حضرت ابو عبیدہؓ کی قیادت میں چار سال تک کام کرتے رہے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ کبھی ایک مرتبہ بھی حضرت ابو عبیدہؓ سے کوئی اختلاف و معارضہ نہیں ہوا اور حضرت خالدؓ پر معزولی کے اثر کو کم کرنے میں حضرت ابو عبیدہؓ کے فضل عظیم کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ حضرت خالدؓ کے دل کو پالش کرنے اور صاف کرنے میں حضرت ابو عبیدہؓ کے عزت دینے، ان کے مقام و مرتبہ کو پہچاننے، ان کی بات کو فوقیت دینے اور مشورہ پر عمل کرنے نیز امارت سنبھالنے کے بعد اسلامی جنگوں میں انہیں پیش پیش رکھنے کا اتنا عمدہ اثر ہوا کہ اس نے انہیں میدان جنگ کا ایک بے مثال بہادر انسان بنا دیا۔ دمشق، قنسرین اور فحل کے معرکوں میں آپؓ کے فاتحانہ کارنامے آپؓ کی اس اعلیٰ روحانی تربیت کے سچے گواہ ہیں جس کے ذریعہ آپ نے معزولی کو خندہ پیشانی سے قبول کیا تھا۔

اور یہی وجہ تھی کہ آپ معزولی سے قبل اور بعد دونوں حالتوں میں سیف اللہ ہی بن کر زندہ رہے۔

(خالد بن ولید: صادق عرجون: صفحہ 346) اس مقام پر تاریخ نے ہمارے لیے حضرت ابو عبیدہؓ کا وہ زریں قول بھی محفوظ رکھا ہے جسے آپؓ نے حضرت خالدؓ کی معزولی کے وقت ان کی ہمدردی میں کہا تھا۔ آپؓ نے کہا تھا: ’’میں دنیا کی بادشاہت نہیں چاہتا اور نہ دنیا کے لیے کام کرتا ہوں، آپؓ جو کچھ دیکھ رہے ہیں بالآخر اس کا انجام فنا ہے، ہم دونوں آپس میں بھائی ہیں اور اللہ کے حکم کو قائم کرنے والے ہیں۔ کسی آدمی کے لیے یہ کوئی عیب کی بات نہیں کہ اس پر اس کا دینی بھائی حاکم ہو۔ والی گورنر جانتا ہے کہ خطرات و ہلاکتوں کے وقت وہی آزمائش سے زیادہ قریب اور غلطیوں میں واقع ہونے والا ہے، مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ جسے محفوظ کر دے اور ایسے لوگ بہت کم ہیں‘‘

(خالد بن ولید: صادق عرجون: صفحہ 323)

صفحہ 2 از 3