پہلی معزولی - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

پہلی معزولی

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

اور جس وقت حضرت ابو عبیدہؓ نے اپنی امارت کی ماتحتی میں سیدنا خالدؓ سے جنگی مہم کے نفاذ کا مطالبہ کیا تو حضرت خالدؓ نے جواب دیا: ’’میں ان شاء اللہ اس کے لیے حاضر ہوں، میں آپ کے حکم کا منتظر تھا۔‘‘ حضرت ابو عبیدہؓ نے کہا: اے ابو سلیمان! آپؓ کو کچھ حکم دیتے ہوئے میں شرما رہا تھا، تو حضرت خالدؓ نے جواب دیا: اگر میرے اوپر ایک چھوٹا بچہ بھی امیر بنا دیا جاتا تو میں اس کی اطاعت کرتا، پھر بھلا آپ کی مخالفت کیوں کر سکتا ہوں، حالانکہ آپ کا ایمان مجھ سے پہلے ہے، آپ مجھ سے پہلے اسلام لائے، اسلام میں سبقت لے جانے والوں کے ساتھ آپؓ نے سبقت کی اور جلدی ایمان قبول کرنے والوں کے ساتھ ایمان قبول کرنے میں جلدی کی۔ رسول اللہﷺ نے آپ کو ’’امین‘‘ کا لقب دیا، میں آپ کے مقام و مرتبہ کو کیونکر پا سکتا ہوں۔ اس وقت آپؓ کے سامنے گواہی دیتا ہوں کہ میں نے خود کو اللہ کے راستے میں وقف کر دیا ہے، میں کبھی آپؓ کی مخالفت نہیں کر سکتا اور نہ اب کبھی کسی امارت کو سنبھال سکتا ہوں۔‘‘ سیدنا خالدؓ نے صرف ان باتوں کے کہنے پر اکتفاء نہ کیا بلکہ اسے کر دکھایا اور فوراً مطلوبہ مہم کے نفاذ کے لیے نکل پڑے۔

(نظام الحکم فی عہد الخلفاء الراشدین: صفحہ 84)

اس واقعہ میں سیدنا خالدؓ کے قول و عمل سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ خالد اور ابو عبیدہ رضی اللہ عنہما دونوں کے طرز فکر و عمل پر مذہب و اخلاق کا رنگ غالب تھا اور حضرت خالدؓ باوجود یہ کہ فوجی قیادت سپہ سالاری سے معزول ہو جانے کے بعد ذاتی طور پر حاکم سے محکوم بن چکے تھے پھر بھی خلیفہ و والی کی اطاعت کے اصول پر قائم تھے۔

(نظام الحکم فی عہد الخلفاء الراشدین: صفحہ 84)

دراصل پہلی مرتبہ سیدنا خالدؓ کی معزولی اس وجہ سے نہیں ہوئی تھی کہ خلیفہ کو آپؓ پر کوئی شک تھا یا ان کے خلاف کوئی جاہلی کینہ دل میں مخفی تھا یا ان پر محرمات شریعت کے ارتکاب کی کوئی تہمت تھی، یا ان کے عدل و تقویٰ پر کوئی سوالیہ نشان تھا۔ نہیں ہرگز نہیں۔ بلکہ دو عظیم شخصیتوں کے سوچنے و عمل کرنے کا الگ الگ انداز تھا اور وہ دونوں ایسی قوی شخصیتیں تھیں کہ ان میں سے ہر ایک اپنے ہی طرز فکر و عمل کو نافذ کرنا ضروری سمجھتا تھا۔ پس ایسی صورت حال میں ضروری تھا کہ کوئی ایک اپنے طرز فکر و عمل سے پیچھے ہٹ جائے اور چونکہ امیر المؤمنین اور فوجی قائد کا ٹکراؤ تھا اس لیے مناسب یہی تھا کہ فوجی قائد بغیر کسی کینہ، دشمنی اور باطنی کدورت کے امیر المؤمنین کے سامنے جھک جائے۔

(أباطیل یجب أن تمحی من التاریخ: صفحہ 132) بے شک سیدنا خالدؓ کے بعد حضرت ابو عبیدہؓ کو شامی افواج کا قائد و سپہ سالار بنانا بھی حضرت عمرؓ کے ساتھ توفیق الہٰی کا ایک مظہر تھا۔ بایں طور کہ یہ سب کچھ جنگ یرموک کے بعد پیش آیا تھا اور وہ وقت صلح کرنے، دشمن کے سینوں سے حسد و کدورت مٹانے، ان کے زخموں کو بھرنے اور دلوں کو جوڑنے کا متقاضی تھا اور حضرت ابو عبیدہؓ کی یہ خوبی تھی کہ اگر دشمن کی طرف سے صلح و مصالحت کے دروازے کھلتے تو آپؓ صلح کو ترجیح دیتے اور اگر اسبابِ جنگ جنگ پر مجبور کرتے تو اس سے بھی پیچھے نہ ہٹتے گویا اگر صلح و مصالحت مناسب ہوتی تو وہی کرتے ورنہ جنگ کے لیے تیار رہتے اور چونکہ شامی شہروں کے باشندوں کے درمیان حضرت ابو عبیدہؓ کی بردباری کا بڑا چرچا تھا، اس لیے وہ خود کو آپؓ کے سامنے جھکانے کے لیے تیار رہتے اور دوسروں کے مقابلہ میں ان کے سامنے اپنی بات کو پیچھے کر لیتے۔ اس طرح حضرت ابو عبیدہؓ کی شام کی گورنری فاروقی طرز سیاست کا نمونہ تھی اور اس مرحلہ میں ریاست شام کی سابقہ حکومتوں کے مقابلہ میں آپؓ کی ولایت گورنری سب سے بہتر تھی۔

(عبقریۃ خالد: العقاد: صفحہ 154، 155، 156)


صفحہ 3 از 3