Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

شواہدالنبوة مصنفہ عبدالرحمٰن جامی

  محمد علی

شواہدالنبوة مصنفہ عبدالرحمٰن جامی

مولانا عبدالرحمٰن جامی کی یہ کتاب مختلف مضامین پر مشتمل ہے حضورﷺ کے فضائل خلفاء راشدینؓ کے اوصاف اور بارہ ائمہ کے حالات لکھے گئے ہیں علامہ جامی بہت بڑے فاضل تھے جن کا 898 ھ میں وصال ہوا ان کی شخصیت بھی شیعہ سنی کے درمیان متنازع ہے ویسے تو انہیں ہر شخص اہلِ سنت میں سے ہی شمار کرتا ہے ان کے کلام کو واعظین اور علما کرام بڑے بڑے خوبصورت انداز میں بیان کرتے ہیں ان کے اشعار میں جو محبتِ مصطفیٰﷺ اور آداب بارگاہِ رسالت ٹپکتے ہیں آدمی انہیں سن کر داد دیے بغیر نہیں رہ سکتا ہم نے اگرچہ اس سے قبل بھی ان کی مذکورہ تصانیف کا ذکر کرتے ہوۓ لکھا ہے کہ ان کی یہ کتاب اہلِ سنت کے نزدیک معتبر نہیں ہے خاص کر علامہ موصوف کے اشعار جب عوام سنتے ہیں تو ان کے بارے میں قطعاً یہ سننا گوارا نہیں کریں گے کہ جامی کے بارے میں کوئی اعتراض کرے اس لیے ہم مختلف فیہ عقائد میں پہلے ان کے عقیدہ پر علماء کرام کا فیصلہ بمعہ ان کی اصل عبارت اور پھر اس کے نتائج پر گفتگو کریں گے تاکہ عوام تو عوام علماء بھی لعن و تشنیع کا بہانہ نہ بنا سکیں علاوہ ازیں ان کے بارے میں شیعوں کی عقیدت کا بھی ذکر ہوگا ہم نے اس سے قبل جو بارہ ائمہ کے بارے میں کچھ لکھا ہےاس میں علامہ جامی کی ہی عبارت سے ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ ان کے کچھ نظریات و عقائد شیعوں جیسے ہیں اس لیے ہم نے ان کی کتاب "شواہدالنوة" کو اپنی تصنیف "میزان الکتب" میں شامل کیا ہے علامہ جامی کے بارے میں بہت سے علماء نے تحقیق کی ہے جس میں ان کا مسلک اہلِ سنت سے مختلف اور اہلِ تشیع کے قریب بلکہ ان کے جیسا نظر آتا ہے۔ جیسا کہ "شواہدالنبوة" کا مترجم لکھتا ہے کہ "شیعہ تذکرہ نگاروں نے آج تک حضرت جامی کے کمالات کا اعتراف صرف اس تعصب میں ڈوب کر نہ کیا کہ وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مداح سرا ہیں لیکن دوسری طرف راست فکر شیعوں نے آپ کی محبت اہلِ بیتؓ کی روشنی میں شیعہ کہنے سے دریغ نہ کیا اور آپ کے کلام کو دل کھول کر خراجِ عقیدت پیش کیا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مدح کو تقیہ پر محمول کرتے رہے یہ عبارت بتاتی ہے کہ جامی نے اگرچہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین خصوصاً خلفائے اربعہؓ کی تعریف کی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے جہاں اپنے نظریات ذکر کیے اس کے پیشِ نظر پختہ شیعوں نے انہیں شیعہ ہی کہا اور ان کی تعریفِ صحابہؓ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو تقیہ پر محمول کیا ہے یعنی صرف اہلِ بیتؓ سے محبت کی وجہ سے انہیں شیعہ نہیں کہا ہے یہ تو ہر سنی کا جزءِ ایمان ہے فقیر بھی جہاں کہیں تقریر کرنے جاتا ہے شیعت کا رد میرا اوّلین مقصود ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنی تقریر میں اہلِ بیت کرام سے محبت اور عقیدت کا تذکرہ ابتداۓ تقریر میں ضرور کرتا ہوں ہمارے واعظین جو محبتِ اہلِ بیتؓ سے سرشار ہیں اور اس بنا پہ جب وہ اپنے خطاب میں مبالغہ آمیزی سے کام لیتے ہوں کہ جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہ ہو انہیں صرف مبالغہ آمیزی کی بنا پر ہم شیعہ کہنے پر تیار نہیں صرف بےاحتیاطی سے تعبیر کریں گے لیکن علامہ جامی میں صرف محبتِ اہلِ بیتؓ ہی کی بات نہیں بلکہ اس میں ان عقائد کا ذکر ہے جو شیعہ لوگوں کے عقائد ہیں آئندہ حوالہ جات میں آپ خود اس بات کو دیکھیں گے کہ ہم جو کہ رہے ہیں اس میں کہاں تک صداقت ہے۔

"شواہدالنوة" کے مصنف علامہ جامی کے حالاتِ زندگی کتاب بنام جامی فارسی میں "اصغرحکمت" نے لکھے لیکن اردو میں تفصیلی حالات نہیں ملتے تھے اب مکتبہ العلمیہ نے ایک کتاب شائع کی مترجم کا نام سید عارف نوشاہی ہے اس کتاب میں علامہ جامی کے فضاٸل و مناقب پر بہت زور دیا گیا اس کے باوجود اس کتاب میں "جامی کے مذہبی عقائد" کی سرخی لگا کر اس کے تحت چند حوالہ جات نقل کیے ہیں ہم ان حوالہ جات میں سے چند کو ذیل میں پیش کر رہے ہیں۔

حوالہ نمبر 1: جامی کی کتاب "شواہدالنبوة" حضرت رسول اللہﷺ کے حالات اور ان کی محبت کے دلائل پر مبنی ہے اس کے چھٹے رکن میں انھوں نے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین رسولﷺ اور اہلِ بیتؓ کے حالات و مناقب اور ان سے منسوب کمالات اور خوارقِ عادت بیان کیے ہیں اس رکن کی تدوین جس نہج پر ہوئی ہے وہ جامی کے اس طرزِ فکر اور مذہبی رجحان کی کی ترجمان ہے کہ وہ شیعہ مائل سنی تھے (جامی صفحہ254)

مندرجہ بالا اِقتباس جامی کے ذہبی میلان کو واضح کر رہا ہے کہ وہ تھے تو سنی لیکن شیعت کی طرف ان کا میلان تھا شیعہ ایک مسلک ہے ان کے نظریات ہیں شیعہ اور سنی کے درمیان اختلاف دراصل عقائد کا اختلاف ہے تو معلوم ہوا کہ ان کے عقائد شیعوں سے ملتے جلتے تھے۔

حوالہ نمبر 2: مختصر یہ کہ مذکورہ کتاب "شواہدالنبوة" کے مندرجات سے بخوبی پتہ چلتا ہے کہ اس کا مصنف ایک سنی ہے جس کا دل تعصب سے پاک ہے مگر ساتھ ہی وہ عقائد امامیہ کی طرف بھی راغب ہے (جامی صفحہ 254)

حوالہ نمبر 3: جامی کے اشعار میں بھی خاندانِ رسالتﷺ کے مناقب بیان ہوئے ہیں اگرچہ وہ اپنی ساتوں مثنویوں کے شروع میں خلفاء ثلاثہ کی مدح لکھتے ہیں لیکن ان کی غزلیات اور قصائد میں امیرالمٶمنین علی بن ابی طالب، حسین بن علی اور علی بن موسیٰ کے مناقب بکثرت ملتے ہیں جو جامی کے افکار میں دونوں عقیدوں شیعہ سنی کے امتزاج کی دلیل ہے۔ (جامی صفحہ 255)

حوالہ نمبر 4: جو ایرانی شیعہ جامی سے عقیدت رکھتے ہیں وہ جامی کو باطنی طور پر ایک خالص العقیدہ شیعہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کے خیال میں خلفاء ثلاثہؓ کی مدح میں یہ مقالات اور اشعار جامی کا تقیہ ہیں چنانچہ سجتہ الابرار (مصنفہ جامی) کے مندرجہ قطعہ کے آخری شعر کو یہ حضرات خلفاء ثلاثہ کی قدح اور امیرالمٶمنین علی کی طرف اشارہ کنایہ قیاس کرتے ہیں وہ شعر یہ ہے۔

پنجہ درکن اسداللہ را

پوست برکن دوسہ رو باہی را

 (جامی صفحہ 256)

ترجمہ شعر: اللہ کے شیر کے پنجہ سے دو تین لومڑیوں کی کھال اتار دے۔

قاریٸن کرام! عقائد امامیہ سے کون واقف نہیں جامی کا ان کی طرف راغب ہونا کس طرف اشارہ کر رہا ہے؟ یونہی ان کے افکار میں شیعہ سنی دونوں کے نظریات و عقائد کا امتزاج جو ملتا ہے اسے ایرانی شیعوں نے یہ ثابت کیا کہ سنیوں کے نظریات جامی نے بر بناۓ تقیہ کہے ورنہ وہ درحقیقت شیعہ تھے ان کے تقیہ پر جس شعر سے استدلال لاۓ ہیں اس میں سیدنا علی المرتضیٰؓ کا لقب "اسداللہ" اس طرح ذکر کیا گیا ہے کہ ان کے مقابل "دوسہ روباہی" دو تین لومڑیاں کہہ کر اشارتاً اور کنایةً اصحابِ ثلاثہؓ کی توہین کی ہے سیدنا علی المرتضیٰؓ کی افضلیت کا معاملہ اور ہے یہاں اصحابِ ثلاثہؓ کی توہین اور قدح پیشِ نظر ہے اور یہی مقصودِ شیعت ہے اس لیے جامی کو سنی نما شیعہ کہنے کے بجاۓ ایرانی شیعہ اور کٹر شیعہ کہا ہے۔

حوالہ نمبر 5: نویں صدی ہجری کے اواخر میں ہرات ایک ایسا شہر تھا جہاں خراسانی اور ایرانی شیعہ اور افغانستانی اور ترکستانی سنیوں کے عقائد کا امتزاج پایا جاتا تھا جامی جنہوں نے اپنی زندگی کا بہترین حصہ اسی شہر میں گزارا وہ اس وقت کے مذہبی رجحانات کے اثر سے کیوں کر بچ سکتے تھے زمان و مکان کے اعتبار سے وہ اس موام پر کھڑے تھے جہاں طریقہ اہلِ سنت والجماعت سے منہ پھیر سکتے تھے اور نہ مبادیاتِ امامیہ کو مکمل طور پر جھٹلا سکتے تھے۔(جامی صفحہ250 مکتبہ علمیہ لاہور)

قارئینِ کرام: مولانا جامی کے حالات جو "جامی" نامی کتاب میں علی اصغر حکمت نے درج کیے ہیں انہیں منصفانہ طور پر لکھنے کی کوشش کی اگرچہ اس مصنف نے زیادہ زور جامی کے فضاٸل و صفات میں لگایا لیکن مذکورہ پانچ عدد باتیں جو اس نے لکھیں ان میں اس نے تسلیم کیا ہے کہ جامی جن حالات میں رہتے تھے اور جس ماحول میں وہ تھے اس میں "مبادیاتِ امامیہ کو چھوڑا نہیں جا سکتا ہے اور نہ سنیت سے منہ موڑا جا سکتا ہے۔

 "مبادیاتِ امامیہ" کیا ہیں؟ ان میں سے اعلیٰ درجہ کی چیز مسلہ امامت ہے جس طرح شیعہ لوگ بارہ اماموں کے قائل ہیں اور ان کی خلافت کے معتقد ہیں کچھ ایسے بھی جامی نظریہ بیان کرتے ہیں اس عقیدہ کے پیشِ نظر شیعوں نے حضرت علی المرتضیٰؓ کو وصیِ رسولﷺ اور خلیفہ بلافصل خلیفہ اول کہا پھر سیدنا حسنؓ سیدنا حسینؓ سیدنا زین العابدینؒ محمدباقرؒ جعفرصادقؒ، موسیٰ کاظمؒ، موسیٰ رضاؒ، تقیؒ نقیؒ، حسن عسکریؒ تک گیارہ امام ہیں اور بارہویں امام "مہدی" ہیں جن کے متعلق شیعوں کا نظریہ یہ ہے کہ وہ 258ھ کے لگ بھگ پیدا ہوۓ اور 265ھ "سرمن راۓ" غار میں چھپ گئے ان کی طرف سے ایک سفیر مقرر ہوا جو 326ھ تک ان کی باتیں لوگوں تک پہنچاتا رہا آخری سفیر علی بن محمد پر سفارت ختم ہو گٸ اب اس بارہویں امام کی تشریف آوری کا شدید انتظار کیا جا رہا ہے اسی لیے شیعہ لوگ انہیں امام المنتظر امام الحجة الامام القائم امام مہدی اور قاٸم آلِ محمدﷺ ایسے القاب سے یاد کرتے ہیں ان تمام باتوں کو جامی نے "شواہدالنبوة" میں لکھا ہے مکمل تفصیل جو جامی نے لکھی اس کا ذکر کرنا باعثِ طوالت ہو گا اس لیے صرف چند عبارات بطورِ نمونہ ذکر کی جا رہی ہیں ان عبارات کو پڑھنے کے بعد آپ جامی کے عقائد و نظریات اور شیعوں کے معتقدات کا موازنہ کریں گے تو یقیناً آپ کو وہی کچھ نظر آۓ گا جس کی پچھلے پانچ حوالہ جات میں جامی نامی کتاب کے مصنف نے لکھا بلکہ جامی کی عقیدت میں واضح طور پر شیعت نظر آۓ گی۔

شواہد النبوة کی چند عبارت

عبارت اول: ایک راہب کلیسا سے اتر کر امیر المومنین کے حضور میں آیا اور سامنے کھڑے ہو کر پوچھا کیا آپ پیغمبر و رسل ہیں؟ امیر نے فرمایا نہیں اس نے پوچھا کیا آپ ملکِ مقرب ہیں حضرت امیر نے فرمایا نہیں پس گفت توچہ کسے؟ فرمود برمن وصی پیغمبر مرسلم محمد بن عبداللہ خاتم النبیین ﷺ راہب گفت دست بیارکہ مسلمان می شوم حضرت امیر کرم اللہ وجہہ دست بوی واو گفت اشھدان لّاالٰہ الّااللّٰہ واشھد انّ محمد عبدہ ورسولہ واشهد انک على وصى رسول الله

دیوان کامل جامی:و بعضی بر انند کہ مولوی نخست بطریق سنت و جماعت بودہ ودر و اخر عمر مذہب تشیع اختیار نمودہ و قصیدہ ئی کہ ور جتن ورود بہ نجف ور مدح امیر المومنین گفتہ کہ دوبیت آنرا ند کورمی نماید مشاہد ارند اصبحت زارا لک یا شحنۃ النجف بہر نثار مقدم تو نقد جان بکف من بوسم آستانہ قصر جلال تو دردیدہ اشک عذر ز تقصیر ما سلف۔

(دیوان کامل جامی صفحہ 193 بخشش دہم مذہب جامی مطبوعہ ایران) 

ترجمہ: بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ جامی ابتدا اہلِ سنت و الجماعت کے طریقہ پر تھے اور آخری عمر میں مذہب تشیع اختیار کیا تھا اور اس پر دلیل جامی کا وہ قصیدہ لاتے ہیں جو انہوں نے نجف میں وارد ہوتے وقت سیدنا علی کی تعریف میں کہا اس کے دو بیت یہ ہیں "اے نجف کے سردار! میں صبح سویرے آپ کی زیارت کے لیے اپنی جان اپنی ہتھیلی پر لیے آپ پر قربان کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوں میں آپ کے روضہ مبارکہ کے آستانہ کو چومتا ہوں اور میری آنکھوں میں گزری عمر کی تقصیر کے عذر کے آنسو ہیں۔

2: دیوان کامل جامی: (کچھ لوگوں نے جامی کو تقیہ باز شیعہ ثابت کرنے کی کوشش کی) محمد حسین حسینی خاتون آبادی کہتا ہے کہ جامی کی وہ عبارات جو ان کے ناصبی (اہلِ سنت) ہونے پر دلالت کرتی ہیں ان کو تقیہ پر محمول کیا جائے گا اور اس حمل کی دلیل وہ پیش کرتا ہے وہ آنکہ حکایت برائے تائید ایں مدعا نقل میکند از قول علی بن عبدالعالی بچند روایت کر دے گوید کہ در سفر نجف بجامی ہمسفر بودم ومن تقیہ کردہ ازروئے عقیدہ خود را پنہاں می اشتم تاداد بغداد شدیم و روز ےساحلش بیروں شدہ برائے تفریح برلب دجلہ نشتے الخ۔

(دیوان کامل جامی صفحہ 194 بخشش دہم) 

ترجمہ: اس مدعا پر جو حکایت نقل کرتے ہیں وہ یہ کہ علی بن عبدالعالی کہتا ہے کہ نجف کے سفر میں جامی کے ساتھ میں بھی شریک تھا اور میں نے اپنا عقیدہ تقیہ کر کے چھپا رکھا تھا حتیٰ کہ ہم بغداد میں داخل ہوئے ایک دن دجلہ کے ساحل کی طرف ہم نکل پڑے الخ 

نوٹ: یہ واقعہ ہم اس سے قبل شیخ عباس قُمی کی کتاب الکنی والا القاب سے نقل کر چکے ہیں۔

2: دیوان کامل جامی: دراوا فر عہد تیموریان آخرین سلطان بزرگ ایں سلسلہ یعنی سلطان حسین بایقر اتما یلی شدید بشیر داشت وہنگام نیز برآں شد کہ آں روتں را پزیرہ شو داتا وزیر بزرگ او میر علی شیر ما نعش گروید بعض پسینیں شاعر نامدار و بزرگ ایں عصر یعنی نور الدین عبدالرحمن جامی نیز متمایل بمذہب شیعہ بود۔

 (دیوان کامل جامی صفحہ 88 بخشش چہارم مذہب و تصوف جامی) 

ترجمہ: تیموری خاندان کے آخری فرماں روا سلطان حسین بایقرا شیعیت کی طرف بہت زیادہ جھکاؤ رکھتا تھا اور حالات بھی اس بات کے قبول کرنے کا تقاضا کرتے تھے لیکن اس کا ایک بڑا وزیر میر علی شیر اس میں اڑے ایثا اس کے بعد ایک مشہور اور بزرگ شاعر نور الدین عبدالرحمٰن جامی بھی شیعہ مذہب کی طرف میلان رکھتے تھے۔ 

4: دیوان کامل جامی: (جامی کے زمانہ میں صوفیاء اور فقہاء کے درمیان اختلاف زوروں پر تھا اور عقائد کی بےثباتی کی وجہ سے جامی کی روش یہ تھی گامے ازسر تعصب قتل عام بیدنیاں و نابا وران مذہب را تجویز میکندو گاہے ازدے رندو قلندرانہ از چنگ مذاہب اظہار تنفر کردہ واز سنی وشیعہ ہر دو بد میگوئید اے مغبچہ وہر بہ دہ جام میم کہ آمد نر نزاع سنی و شیعہ بہم گویند کہ جامیاں چہ مذہب داری صد شکر کہ سگ سنی وخر شیعہ نیم۔

 (دیوان کامل جامی: صفحہ 89 مذہب و تصوف جامی) 

ترجمہ: کبھی تو وہ تعصب کی بنا پر بےدینوں اور مذہب کو نہ ماننے والوں کے قتل کرنے کو جائز قرار دیتے اور کبھی ازروئے رند و قلندری مذہب کے چنگل سے نفرت کا اظہار کرتے اور شیعہ سنی دونوں کو برا کہتے اے شرابی! مجھے شراب کا پیالہ دے کیونکہ میں شیعہ سنی کے جھگڑے سے بیزار ہو چکا ہوں لوگ پوچھتے ہیں کہ جامی تیرا کون سا مذہب ہے؟ تو وہ جواب دیتے اللہ کا لاکھ شکر کہ میں نہ سنی کا کتا اور نہ شیعہ کا گدھا ہوں۔ 

قارئین کرام! مولانا عبد الرحمٰن جامی کا مسلک خود ان کی تحریرات سے چونکہ واضح اور صراحتاً ملتا ہے لیکن ان کی عبارت دونوں مکتبہ فکر کے عقائد و نظریات کی حامل ہیں یہی وجہ ہے کہ مولانا جامی کے بارے میں ناقدین نے کسی ایک مسلک پر اتفاق نہیں کیا ان کے عبارت کو دیکھا جائے جن میں انہوں نے خلفائے ثلاثہؓ کے فضائل و بیانات بیان کیے اور خود ان کے سلسلہ بیعت کے معاملہ میں غور کیا جائے تو اہلِ سنت کے بہت بڑے عالم کی صورت میں نظر آتے ہیں ایمان ابی طالب کی بحث بھی اسی کی تائید کرتی ہیں اس صورتحال کے پیش نظر بعض ناقدین نے یہ کہا کہ جامی ابتداء میں سنی اور آخر میں شیعہ ہو گئے تھے اور بعض نے کہا کہ جامی شیعہ تھا سنیوں والی عبارات اس نے ازروئے تقیہ لکھیں بہرحال شیعہ تو تقیہ کر سکتا ہے لیکن سنی کو تقیہ زیب نہیں دیتا اس لیے جامی کی وہ عبارات جو شیعیت پر دلالت کرتی ہیں یا شیعہ عقائد کی تائید میں ملتی ہیں یہ عبارات اگرچہ انہوں نے اپنے دور میں شیعوں کے خوف کے پیش نظر لکھی ہوں اس سے پتہ یہ چلتا ہے کہ جامی عند اللہ تو سنی ہوگا اور اس کے اہلِ سنت ہونے کا احتمال "احتمال بعید" ہو گا لیکن بظاہر کٹر سنی نظر نہیں آتا اس لیے جامی کی کتب مثل شواہد النبوۃ وغیرہ غیرمعتبر اور غیرمسلم ہیں ان کی کوئی عبارت ہم اہلِ سنت پر حجت نہیں بن سکتی۔

فاعتبروا يا اولي الابصار

مصنف کی طرف سے علامہ جامی کے بارہ میں ایک تاویل:

 یاد رہے کہ جامی کے بارے میں اس وقت تک جو کچھ آپ نے پڑھ لیا ہے اس بات پر واضح دلیل ہے کہ جامی خالص سنی نہیں ہے لیکن اس کے حالات زندگی بتاتے ہیں کہ اس نے ایک ایسے شہر میں زندگی بسر کی ہے کہ جس کو شیعوں کا شہر قرار دیا جاتا ہے جیسا کہ اعیان الشیعہ میں رات کو شیعوں کا شہر قرار دیا جاتا ہے جیسا کہ اعیان شیعہ میں ہراۃ کو شیعوں کا شہر قرار دیا گیا ہے اس کے پیش نظر یہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ شیعوں نے اس کی کتب میں مذکورہ عبارات داخل کر دی ہوں دوسرا اکابرین اہلِ سنت پیر مہر علی مجدد الف ثانیؒ ملا علی قاریؒ وغیرہ نے بڑے اچھے الفاظ سے جامی کا نام لیا ہے یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ مذکورہ عبارات جامی کی نہیں ہیں تو اس صورت میں جامی کی مذکورہ عبارات کی وجہ سے اس کو شیعہ نہیں کہا جا سکتا اس مذکورہ تاویل کی رو سے جامی سنی ثابت ہوا بہر صورت جامی کی کتب سے کوئی شیعہ اپنا مسلک ثابت کرتے ہوئے اہلِ سنت پر حجت قائم نہیں کر سکتا کیونکہ جامی کی کتب میں ایسی عبارات کثیر تعداد میں پائی جاتی ہیں جو اہلِ تشیع کے مسلک کی تائید کرتی ہیں جن کا تفصیلی ذکر آپ پڑھ چکے ہیں جب فرض کر لیا جائے کہ حجت ہی اہلِ تشیع کی مدخولہ ہیں تو اہلِ سنت پر حجت کیسے ہو سکتی ہیں؟

 والله اعلم بالصواب