شواہدالنبوة مصنفہ عبدالرحمٰن جامی - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شواہدالنبوة مصنفہ عبدالرحمٰن جامی

  محمد علی

صفحہ 2 از 3

قاریٸن کرام! عقائد امامیہ سے کون واقف نہیں جامی کا ان کی طرف راغب ہونا کس طرف اشارہ کر رہا ہے؟ یونہی ان کے افکار میں شیعہ سنی دونوں کے نظریات و عقائد کا امتزاج جو ملتا ہے اسے ایرانی شیعوں نے یہ ثابت کیا کہ سنیوں کے نظریات جامی نے بر بناۓ تقیہ کہے ورنہ وہ درحقیقت شیعہ تھے ان کے تقیہ پر جس شعر سے استدلال لاۓ ہیں اس میں سیدنا علی المرتضیٰؓ کا لقب "اسداللہ" اس طرح ذکر کیا گیا ہے کہ ان کے مقابل "دوسہ روباہی" دو تین لومڑیاں کہہ کر اشارتاً اور کنایةً اصحابِ ثلاثہؓ کی توہین کی ہے سیدنا علی المرتضیٰؓ کی افضلیت کا معاملہ اور ہے یہاں اصحابِ ثلاثہؓ کی توہین اور قدح پیشِ نظر ہے اور یہی مقصودِ شیعت ہے اس لیے جامی کو سنی نما شیعہ کہنے کے بجاۓ ایرانی شیعہ اور کٹر شیعہ کہا ہے۔

حوالہ نمبر 5: نویں صدی ہجری کے اواخر میں ہرات ایک ایسا شہر تھا جہاں خراسانی اور ایرانی شیعہ اور افغانستانی اور ترکستانی سنیوں کے عقائد کا امتزاج پایا جاتا تھا جامی جنہوں نے اپنی زندگی کا بہترین حصہ اسی شہر میں گزارا وہ اس وقت کے مذہبی رجحانات کے اثر سے کیوں کر بچ سکتے تھے زمان و مکان کے اعتبار سے وہ اس موام پر کھڑے تھے جہاں طریقہ اہلِ سنت والجماعت سے منہ پھیر سکتے تھے اور نہ مبادیاتِ امامیہ کو مکمل طور پر جھٹلا سکتے تھے۔(جامی صفحہ250 مکتبہ علمیہ لاہور)

قارئینِ کرام: مولانا جامی کے حالات جو "جامی" نامی کتاب میں علی اصغر حکمت نے درج کیے ہیں انہیں منصفانہ طور پر لکھنے کی کوشش کی اگرچہ اس مصنف نے زیادہ زور جامی کے فضاٸل و صفات میں لگایا لیکن مذکورہ پانچ عدد باتیں جو اس نے لکھیں ان میں اس نے تسلیم کیا ہے کہ جامی جن حالات میں رہتے تھے اور جس ماحول میں وہ تھے اس میں "مبادیاتِ امامیہ کو چھوڑا نہیں جا سکتا ہے اور نہ سنیت سے منہ موڑا جا سکتا ہے۔

 "مبادیاتِ امامیہ" کیا ہیں؟ ان میں سے اعلیٰ درجہ کی چیز مسلہ امامت ہے جس طرح شیعہ لوگ بارہ اماموں کے قائل ہیں اور ان کی خلافت کے معتقد ہیں کچھ ایسے بھی جامی نظریہ بیان کرتے ہیں اس عقیدہ کے پیشِ نظر شیعوں نے حضرت علی المرتضیٰؓ کو وصیِ رسولﷺ اور خلیفہ بلافصل خلیفہ اول کہا پھر سیدنا حسنؓ سیدنا حسینؓ سیدنا زین العابدینؒ محمدباقرؒ جعفرصادقؒ، موسیٰ کاظمؒ، موسیٰ رضاؒ، تقیؒ نقیؒ، حسن عسکریؒ تک گیارہ امام ہیں اور بارہویں امام "مہدی" ہیں جن کے متعلق شیعوں کا نظریہ یہ ہے کہ وہ 258ھ کے لگ بھگ پیدا ہوۓ اور 265ھ "سرمن راۓ" غار میں چھپ گئے ان کی طرف سے ایک سفیر مقرر ہوا جو 326ھ تک ان کی باتیں لوگوں تک پہنچاتا رہا آخری سفیر علی بن محمد پر سفارت ختم ہو گٸ اب اس بارہویں امام کی تشریف آوری کا شدید انتظار کیا جا رہا ہے اسی لیے شیعہ لوگ انہیں امام المنتظر امام الحجة الامام القائم امام مہدی اور قاٸم آلِ محمدﷺ ایسے القاب سے یاد کرتے ہیں ان تمام باتوں کو جامی نے "شواہدالنبوة" میں لکھا ہے مکمل تفصیل جو جامی نے لکھی اس کا ذکر کرنا باعثِ طوالت ہو گا اس لیے صرف چند عبارات بطورِ نمونہ ذکر کی جا رہی ہیں ان عبارات کو پڑھنے کے بعد آپ جامی کے عقائد و نظریات اور شیعوں کے معتقدات کا موازنہ کریں گے تو یقیناً آپ کو وہی کچھ نظر آۓ گا جس کی پچھلے پانچ حوالہ جات میں جامی نامی کتاب کے مصنف نے لکھا بلکہ جامی کی عقیدت میں واضح طور پر شیعت نظر آۓ گی۔

شواہد النبوة کی چند عبارت

عبارت اول: ایک راہب کلیسا سے اتر کر امیر المومنین کے حضور میں آیا اور سامنے کھڑے ہو کر پوچھا کیا آپ پیغمبر و رسل ہیں؟ امیر نے فرمایا نہیں اس نے پوچھا کیا آپ ملکِ مقرب ہیں حضرت امیر نے فرمایا نہیں پس گفت توچہ کسے؟ فرمود برمن وصی پیغمبر مرسلم محمد بن عبداللہ خاتم النبیین ﷺ راہب گفت دست بیارکہ مسلمان می شوم حضرت امیر کرم اللہ وجہہ دست بوی واو گفت اشھدان لّاالٰہ الّااللّٰہ واشھد انّ محمد عبدہ ورسولہ واشهد انک على وصى رسول الله

دیوان کامل جامی:و بعضی بر انند کہ مولوی نخست بطریق سنت و جماعت بودہ ودر و اخر عمر مذہب تشیع اختیار نمودہ و قصیدہ ئی کہ ور جتن ورود بہ نجف ور مدح امیر المومنین گفتہ کہ دوبیت آنرا ند کورمی نماید مشاہد ارند اصبحت زارا لک یا شحنۃ النجف بہر نثار مقدم تو نقد جان بکف من بوسم آستانہ قصر جلال تو دردیدہ اشک عذر ز تقصیر ما سلف۔

(دیوان کامل جامی صفحہ 193 بخشش دہم مذہب جامی مطبوعہ ایران) 

ترجمہ: بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ جامی ابتدا اہلِ سنت و الجماعت کے طریقہ پر تھے اور آخری عمر میں مذہب تشیع اختیار کیا تھا اور اس پر دلیل جامی کا وہ قصیدہ لاتے ہیں جو انہوں نے نجف میں وارد ہوتے وقت سیدنا علی کی تعریف میں کہا اس کے دو بیت یہ ہیں "اے نجف کے سردار! میں صبح سویرے آپ کی زیارت کے لیے اپنی جان اپنی ہتھیلی پر لیے آپ پر قربان کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوں میں آپ کے روضہ مبارکہ کے آستانہ کو چومتا ہوں اور میری آنکھوں میں گزری عمر کی تقصیر کے عذر کے آنسو ہیں۔

2: دیوان کامل جامی: (کچھ لوگوں نے جامی کو تقیہ باز شیعہ ثابت کرنے کی کوشش کی) محمد حسین حسینی خاتون آبادی کہتا ہے کہ جامی کی وہ عبارات جو ان کے ناصبی (اہلِ سنت) ہونے پر دلالت کرتی ہیں ان کو تقیہ پر محمول کیا جائے گا اور اس حمل کی دلیل وہ پیش کرتا ہے وہ آنکہ حکایت برائے تائید ایں مدعا نقل میکند از قول علی بن عبدالعالی بچند روایت کر دے گوید کہ در سفر نجف بجامی ہمسفر بودم ومن تقیہ کردہ ازروئے عقیدہ خود را پنہاں می اشتم تاداد بغداد شدیم و روز ےساحلش بیروں شدہ برائے تفریح برلب دجلہ نشتے الخ۔

(دیوان کامل جامی صفحہ 194 بخشش دہم) 

ترجمہ: اس مدعا پر جو حکایت نقل کرتے ہیں وہ یہ کہ علی بن عبدالعالی کہتا ہے کہ نجف کے سفر میں جامی کے ساتھ میں بھی شریک تھا اور میں نے اپنا عقیدہ تقیہ کر کے چھپا رکھا تھا حتیٰ کہ ہم بغداد میں داخل ہوئے ایک دن دجلہ کے ساحل کی طرف ہم نکل پڑے الخ 

نوٹ: یہ واقعہ ہم اس سے قبل شیخ عباس قُمی کی کتاب الکنی والا القاب سے نقل کر چکے ہیں۔

صفحہ 2 از 3