شواہدالنبوة مصنفہ عبدالرحمٰن جامی - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شواہدالنبوة مصنفہ عبدالرحمٰن جامی

  محمد علی

صفحہ 3 از 3

2: دیوان کامل جامی: دراوا فر عہد تیموریان آخرین سلطان بزرگ ایں سلسلہ یعنی سلطان حسین بایقر اتما یلی شدید بشیر داشت وہنگام نیز برآں شد کہ آں روتں را پزیرہ شو داتا وزیر بزرگ او میر علی شیر ما نعش گروید بعض پسینیں شاعر نامدار و بزرگ ایں عصر یعنی نور الدین عبدالرحمن جامی نیز متمایل بمذہب شیعہ بود۔

 (دیوان کامل جامی صفحہ 88 بخشش چہارم مذہب و تصوف جامی) 

ترجمہ: تیموری خاندان کے آخری فرماں روا سلطان حسین بایقرا شیعیت کی طرف بہت زیادہ جھکاؤ رکھتا تھا اور حالات بھی اس بات کے قبول کرنے کا تقاضا کرتے تھے لیکن اس کا ایک بڑا وزیر میر علی شیر اس میں اڑے ایثا اس کے بعد ایک مشہور اور بزرگ شاعر نور الدین عبدالرحمٰن جامی بھی شیعہ مذہب کی طرف میلان رکھتے تھے۔ 

4: دیوان کامل جامی: (جامی کے زمانہ میں صوفیاء اور فقہاء کے درمیان اختلاف زوروں پر تھا اور عقائد کی بےثباتی کی وجہ سے جامی کی روش یہ تھی گامے ازسر تعصب قتل عام بیدنیاں و نابا وران مذہب را تجویز میکندو گاہے ازدے رندو قلندرانہ از چنگ مذاہب اظہار تنفر کردہ واز سنی وشیعہ ہر دو بد میگوئید اے مغبچہ وہر بہ دہ جام میم کہ آمد نر نزاع سنی و شیعہ بہم گویند کہ جامیاں چہ مذہب داری صد شکر کہ سگ سنی وخر شیعہ نیم۔

 (دیوان کامل جامی: صفحہ 89 مذہب و تصوف جامی) 

ترجمہ: کبھی تو وہ تعصب کی بنا پر بےدینوں اور مذہب کو نہ ماننے والوں کے قتل کرنے کو جائز قرار دیتے اور کبھی ازروئے رند و قلندری مذہب کے چنگل سے نفرت کا اظہار کرتے اور شیعہ سنی دونوں کو برا کہتے اے شرابی! مجھے شراب کا پیالہ دے کیونکہ میں شیعہ سنی کے جھگڑے سے بیزار ہو چکا ہوں لوگ پوچھتے ہیں کہ جامی تیرا کون سا مذہب ہے؟ تو وہ جواب دیتے اللہ کا لاکھ شکر کہ میں نہ سنی کا کتا اور نہ شیعہ کا گدھا ہوں۔ 

قارئین کرام! مولانا عبد الرحمٰن جامی کا مسلک خود ان کی تحریرات سے چونکہ واضح اور صراحتاً ملتا ہے لیکن ان کی عبارت دونوں مکتبہ فکر کے عقائد و نظریات کی حامل ہیں یہی وجہ ہے کہ مولانا جامی کے بارے میں ناقدین نے کسی ایک مسلک پر اتفاق نہیں کیا ان کے عبارت کو دیکھا جائے جن میں انہوں نے خلفائے ثلاثہؓ کے فضائل و بیانات بیان کیے اور خود ان کے سلسلہ بیعت کے معاملہ میں غور کیا جائے تو اہلِ سنت کے بہت بڑے عالم کی صورت میں نظر آتے ہیں ایمان ابی طالب کی بحث بھی اسی کی تائید کرتی ہیں اس صورتحال کے پیش نظر بعض ناقدین نے یہ کہا کہ جامی ابتداء میں سنی اور آخر میں شیعہ ہو گئے تھے اور بعض نے کہا کہ جامی شیعہ تھا سنیوں والی عبارات اس نے ازروئے تقیہ لکھیں بہرحال شیعہ تو تقیہ کر سکتا ہے لیکن سنی کو تقیہ زیب نہیں دیتا اس لیے جامی کی وہ عبارات جو شیعیت پر دلالت کرتی ہیں یا شیعہ عقائد کی تائید میں ملتی ہیں یہ عبارات اگرچہ انہوں نے اپنے دور میں شیعوں کے خوف کے پیش نظر لکھی ہوں اس سے پتہ یہ چلتا ہے کہ جامی عند اللہ تو سنی ہوگا اور اس کے اہلِ سنت ہونے کا احتمال "احتمال بعید" ہو گا لیکن بظاہر کٹر سنی نظر نہیں آتا اس لیے جامی کی کتب مثل شواہد النبوۃ وغیرہ غیرمعتبر اور غیرمسلم ہیں ان کی کوئی عبارت ہم اہلِ سنت پر حجت نہیں بن سکتی۔

فاعتبروا يا اولي الابصار

مصنف کی طرف سے علامہ جامی کے بارہ میں ایک تاویل:

 یاد رہے کہ جامی کے بارے میں اس وقت تک جو کچھ آپ نے پڑھ لیا ہے اس بات پر واضح دلیل ہے کہ جامی خالص سنی نہیں ہے لیکن اس کے حالات زندگی بتاتے ہیں کہ اس نے ایک ایسے شہر میں زندگی بسر کی ہے کہ جس کو شیعوں کا شہر قرار دیا جاتا ہے جیسا کہ اعیان الشیعہ میں رات کو شیعوں کا شہر قرار دیا جاتا ہے جیسا کہ اعیان شیعہ میں ہراۃ کو شیعوں کا شہر قرار دیا گیا ہے اس کے پیش نظر یہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ شیعوں نے اس کی کتب میں مذکورہ عبارات داخل کر دی ہوں دوسرا اکابرین اہلِ سنت پیر مہر علی مجدد الف ثانیؒ ملا علی قاریؒ وغیرہ نے بڑے اچھے الفاظ سے جامی کا نام لیا ہے یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ مذکورہ عبارات جامی کی نہیں ہیں تو اس صورت میں جامی کی مذکورہ عبارات کی وجہ سے اس کو شیعہ نہیں کہا جا سکتا اس مذکورہ تاویل کی رو سے جامی سنی ثابت ہوا بہر صورت جامی کی کتب سے کوئی شیعہ اپنا مسلک ثابت کرتے ہوئے اہلِ سنت پر حجت قائم نہیں کر سکتا کیونکہ جامی کی کتب میں ایسی عبارات کثیر تعداد میں پائی جاتی ہیں جو اہلِ تشیع کے مسلک کی تائید کرتی ہیں جن کا تفصیلی ذکر آپ پڑھ چکے ہیں جب فرض کر لیا جائے کہ حجت ہی اہلِ تشیع کی مدخولہ ہیں تو اہلِ سنت پر حجت کیسے ہو سکتی ہیں؟

 والله اعلم بالصواب


صفحہ 3 از 3