Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

دوسری معزولی

  علی محمد الصلابی

17 ہجری میں ’’قنسرین‘‘ میں سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کی دوسری معزولی کا حکم آیا۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 41)  امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خبر ملی کہ خالد اور عیاض بن غنم رضی اللہ عنہما روم میں دشمن کے علاقہ میں کافی اندر تک گھس گئے ہیں اور بے شمار مال غنیمت لے کر واپس ہوئے ہیں، ادھر سیدنا خالدؓ کی شہرت سن کر لوگ مختلف علاقوں سے انہیں دیکھنے آتے تھے، انہیں میں سے اشعث بن قیس الکندی بھی تھے، حضرت خالد بن ولیدؓ نے بطور عطیہ و بخشش اشعث کو دس ہزار درہم دیے۔ واضح رہے کہ حضرت خالدؓ کا کوئی کام سیدنا عمر فاروقؓ کی نگاہ سے پوشیدہ نہیں رہتا تھا۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 42) بہرحال حضرت خالدؓ کی اس عطیہ نوازی کی خبر پا کر حضرت عمرؓ نے اپنے سپہ سالار اعظم ابو عبیدہؓ کو حکم دیا کہ جس مال سے خالد نے اشعث کو نوازا ہے اس کی آمدنی کی بابت تحقیق کریں اور فوج میں کام کرنے سے انہیں فوراً معزول کر کے مدینہ بھیج دیں۔ پھر خالدؓ، ابو عبیدہؓ کے سامنے جواب دہی کے لیے حاضر کیے گئے اور خلافت کی طرف سے مقررہ افراد کی کمیٹی معاملہ کی تحقیق کرنے لگی، اس کی قیادت سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا ایک غلام کر رہا تھا چنانچہ معاملہ کی تحقیق میں حضرت خالدؓ اس بات سے بری ثابت ہوئے کہ انہوں نے مسلمانوں کے مال غنیمت میں ناجائز تصرف کر کے اشعث کو دس ہزار درہم دیے ہوں۔

(خالد بن ولید: صادق عرجون: صفحہ 324) اور جب سیدنا خالدؓ نے اپنی معزولی کی خبر سنی تو اہل شام کو الوداع کہا اور اس موقع پر زیادہ سے زیادہ جس افسوس کا اظہار کیا اسے ان لفظوں میں بیان کر دیا: ’’بے شک امیر المؤمنین نے مجھے شام کا امیر بنایا اور جب ملک شام مکھن اور شہد دینے لگا تو مجھے معزول کر دیا۔‘‘ یہ سن کر ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا: ’’اے امیر! صبر کریں، اس بات سے ایک فتنہ برپا ہو سکتا ہے۔‘‘خالدؓ نے کہا: ’’نہیں، سن لو! ابن خطاب جب تک زندہ ہیں کوئی فتنہ برپا نہیں ہو سکتا۔‘‘

(خالد بن ولید: صادق عرجون: صفحہ 347، الکامل فی التاریخ: جلد 2 صفحہ 156 ) یہ ہے زور آور اور قوی ایمان کی ایک جھلک، جس سے چنیدہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نوازے گئے تھے۔ غور کا مقام ہے کہ ایسے نازک موڑ پر کون سی روحانی قوت سیدنا خالدؓ کے اعصاب پر غالب تھی؟ اور حضرت خالدؓ کی زبان پر کون سا الہام ہوا کہ آپ نے یہ خوش گوار و حکیمانہ جواب دیا؟

(خالد بن ولید: صادق عرجون صفحہ 347) سیدنا خالدؓ کی زبان سے فاروقی خلافت کی بنیادوں کو استحکام عطا کرنے والے ان کلمات کو سن کر حیرت و غصہ سے بھڑکتے ہوئے لوگوں کے دل ٹھنڈے پڑ گئے اور انہوں نے جان لیا کہ ان کا معزول سپہ سالار ان لوگوں میں سے نہیں ہے جو فتنوں اور تباہ کن انقلابات کی بوسیدہ و منتشر ہڈیوں پر اپنی عظمت کے محل تیار کرتے ہیں، بلکہ ان عبقری زماں لوگوں میں سے ہے جو تعمیر و اصلاح کے لیے پیدا کیے گئے ہیں اگر زندگی ان کی اصلاحی و تعمیری کارناموں کو ڈھانا چاہے تو اپنی ذات کا اس بات پر سودا کر لیتے ہیں کہ اس کے غرور کا سر نیچا ہو جائے۔۔

(خالد بن ولید: صادق عرجون: صفحہ 347) سیدنا خالدؓ مدینہ کی طرف نکل پڑے اور وہاں پہنچ کر امیر المؤمنین عمرؓ سے ملاقات کی، سیدنا عمرؓ نے آپ کی شان میں یہ شعر پڑھا:

صنعت فلم یصنع کصنعک صانع

وما یصنع الأقوام فاللّٰه یصنع 

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 43) ’’یقیناً تم نے ایسا کارنامہ انجام دیا ہے جسے تمہاری طرح کوئی نہ کر سکا۔ لیکن معلوم ہے کہ قومیں جو کچھ بھی کارنامے انجام دیتی ہیں اللہ ہی حقیقت میں اس کا کارساز ہے۔‘‘

سیدنا خالدؓ نے حضرت عمرؓ سے کہا: میں نے آپ کے بارے میں اپنا گلہ شکوہ مسلمانوں کے سامنے پیش کیا ہے اور اے عمر! اللہ کی قسم! میرے معاملہ میں آپ اچھا نہیں کر رہے۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پوچھا: پھر تمہارے پاس یہ مال کہاں سے آ گیا؟ خالد رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: مال غنیمت سے ملے ہوئے میرے حصے میں سے ساٹھ ہزار سے جتنا زیادہ ہو وہ آپ لے لیں۔ چنانچہ عمرؓ نے حساب کیا تو حضرت خالدؓ کے پاس صرف بیس ہزار زیادہ نکلے اور پھر آپ نے اسے بیت المال میں داخل کر لیا۔ فرمایا: اے خالد! اللہ کی قسم تم مجھ پر مہربان ہو اور تم میرے نزدیک بہت محبوب ہو آج کے بعد تم مجھے کسی چیز پر ملامت نہ کرنا۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 43) اور پھر سیدنا عمرؓ نے تمام شہروں میں حضرت خالدؓ کی معزولی پر معذرت کا خط بھجوا دیا، جس کا عنوان تھا: ’’میں نے خالد کو ناراضی اور خیانت کی پاداش میں معزول نہیں کیا، بلکہ اس لیے کہ لوگ ان کے ذریعہ فتنہ میں واقع ہو رہے تھے، میں ڈرا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ انہی کی ذات پر بھروسا کر لیں اور ان کی وجہ سے آزمائش میں پڑ جائیں۔ میں نے مناسب سمجھا کہ لوگ جان لیں کہ اللہ ہی حقیقی کارساز فتح دینے والا ہے، وہ فتنہ کا نشانہ نہ بنیں۔‘‘

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 43)