سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کی معزولی کے اسباب کا اجمالی بیان و بعض فوائد
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سیرت و سیاست کو سامنے رکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی معزولی چند اہم اسباب کی بنا پر عمل میں آئی تھی، مثلاً:
توحید کی حفاظت
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا کہ: ’’لوگ ان کے ذریعہ فتنے میں واقع ہو رہے تھے، میں ڈرا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ انہی کی ذات پر بھروسہ کر لیں اور ان کی وجہ سے آزمائش میں پڑ جائیں۔‘‘ یہ قول اس بات کا غماز ہے کہ آپؓ کو حضرت خالدؓ کی ذات سے لوگوں کے فتنے میں واقع ہونے کا اندیشہ تھا، وہ یہ کہ لوگ کہیں ایسا نہ گمان کر لیں کہ یہ فتوحات اور مدد حضرت خالدؓ ہی کے ساتھ ہیں اور ان کا ایمان و یقین اس بات پر کمزور ہو جائے کہ مدد و فتوحات تو اللہ کے ہاتھ میں ہیں، سیدنا خالدؓ اسلامی فوج کے قائد رہیں یا نہ رہیں اور آپؓ کی یہ احتیاطی کارروائی آپؓ کی کوشش و تمنا کے بالکل موافق تھی، جس میں آپؓ اپنے پورے حکومتی ادارے کو خالص اسلامی عقائد والی سلطنت میں رنگ دینا چاہتے تھے۔ خاص طور پر ان حالات میں جب کہ عقیدہ اور عقیدہ کی قوت کے نام پر اسلامی سلطنت اپنے دشمنوں سے خون ریزی اور طویل لڑائیوں میں مصروف تھی اور بہت ممکن تھا کہ حضرت خالدؓ جیسے عظیم قائد غرور کے فتنے میں خود مبتلا ہو کر عوام کے فتنے کا سبب بن جائیں اور اپنے کو قوت و شجاعت کا ناقابل تسخیر پہاڑ سمجھنے لگیں۔ بالخصوص اس لیے بھی کہ وہ سپہ سالارانہ عبقری شخصیت اور داد و دہش کے مالک ہیں اور پھر نتیجہ یہ ہو گا کہ خود حضرت خالدؓ اور دولت اسلامیہ کو بھی خسارے کا سامنا کرنا پڑے۔
دراصل جس طرح لوگ اپنے خلیفہ یعنی حضرت عمرؓ سے مربوط اور ان سے خوش تھے اور خالدؓ سپہ سالاری کے اصولوں کے پابند اور تقویٰ کے جذبہ سے سرشار تھے ان کے ہوتے ہوئے اگرچہ سیدنا عمرؓ کے اندیشے ایک بعید احتمال معلوم ہوتے ہیں تاہم یہ عین ممکن تھا کہ آپؓ کی زندگی کے بعد اور حضرت خالدؓ جیسے فاتح دوراں سپہ سالار کے ساتھ کبھی یہ فتنے اور اندیشے حقیقی شکل اختیار کر لیں، لہٰذا ضرورت تھی کہ اسی دور میں اور حضرت خالدؓ جیسے عبقری زماں افراد کے ساتھ ہی ان فتنوں کو جڑ سے اکھاڑ دیا جائے۔
(الدولۃ الإسلامیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین: حمدی شاہین: صفحہ 149) واضح رہے کہ ایک چھوٹا فوجی قائد جو اللہ کے راستے میں اچھی طرح آزمایا نہ گیا ہو اور جس کے کارناموں کی کوئی شہرت نہ ہو، اس کے مقابلہ میں ایک لیاقت مند باصلاحیت سپہ سالار کے بارے میں اس قسم کے فتنوں کا زیادہ ہی اندیشہ رہتا ہے۔
(عبقریۃ عمر: صفحہ 158) چنانچہ شاعر مصر حافظ ابراہیم نے اپنے دیوان میں سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے اس اندیشے کی طرف اس طرح اشارہ کیا ہے:
وقیل خالقت یا فاروق صاحبنا
فیہ وقد کان أعطی القوس باریہا
’’اور کہا گیا کہ اے فاروق آپ نے ہمارے ساتھی قائد کے سلسلے میں صحیح فیصلہ نہیں کیا، یا کہ ان کی مخالفت کی حالانکہ کمان کے خالق نے ہی اسے کمان عطا کیا تھا۔‘‘
فقال خفت افتتان المسلمین بہ
وفتنۃ الناس أعیب من یداویھا
(حروب الإسلام فی الشام، باشمیل: صفحہ 566) ’’تو سیدنا عمرؓ نے جواب دیا: میں ان کی وجہ سے مسلمانوں کے فتنہ میں پڑ جانے سے ڈرا اور جب عوام فتنے میں پڑ جائیں تو اس کا کوئی علاج کرنے والا نہیں ہوتا۔‘‘