خاک کربلا مصنفہ صاحبزادہ فتخار الحسن صاحب - ردِ رافضیت |…

خاک کربلا مصنفہ صاحبزادہ فتخار الحسن صاحب

  محمد علی

صفحہ 1 از 5

خاکِ کربلا مصنفہ صاحبزادہ فتخار الحسن صاحب

 صاحبزادہ افتخار الحسن صاحب کا طریقہ اور ان کی عادت یہ تھی کہ امام عالی مقام اور ان کے اہل و عیال کا ذکر اس انداز سے کیا جائے کہ لوگ خوب روئیں اور جی بھر کے شہداء کربلا کی شہادت پر نوحہ کریں اس مقصد کی خاطر وہ اکثر غلط واقعات اور وہ بھی ایسے درد ناک لہجے اور پر سوز انداز میں بیان کرتے کہ حاضرین کی چیخیں نکل جاتیں اسی طرح انہوں نے اپنی تصنیف خاکِ کربلا میں بھی یہی انداز تحریر اپنایا یہ کتاب بازار میں دستیاب ہے شیعہ لوگ جو گستاخ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں وہ ایسی کتابوں سے حوالہ پیش کر کے کہتے ہیں کہ اہلِ سنت کے فلاں محدث اور محقق نے یہ بات اپنی فلاں تصنیف میں لکھی ہے۔

قارئین کرام! آپ اس بات کے گواہ ہوں گے محرم الحرام کے دوران ہمارے کچھ سنی واعظین شہادت کے موضوع پر ایسا دردناک سماں باندھتے ہیں کہ شیعہ ذاکرین کو بھی پیچھے چھوڑ دیتے ہیں ان وعظین نے عوام کو اپنے ایسے پر درد واعظوں سے یہ تاثر دیا ہے کہ جو علماء اہلِ سنت اس رنگ ڈھنگ سے وعظ و تقر نہیں کرسکتے وہ دل میں محبت و عشق اہلِ بیت نہیں رکھتے اس طرح ان غیر محتاط واعظین نے مسلک اہلِ سنت کی حقانیت کو سخت نقصان پہنچایا واقعات جو جھوٹے اور اہلِ بیت کے مقام و منصب کے خلاف لکھے گئے ان کی فہرست طویل ہے لیکن اس جگہ ہم خاکِ کربلا کے چند اِقتباسات پیش کرتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں: جن سے آپ اندازہ لگا لیں گے کہ ہم نے جو کچھ کہا وہ ٹھیک ہی کہا ہے۔

  •  مجھے تو اس بات میں کوئی تعجب اور حیرانی نظر نہیں آتی کہ سیدہ فاطمہؓ کے لال کو روکنے والے تمام اسی دنیا کے روکنے والے تھے اور اسی زمین پر بسنے والے تھے بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ اگر آپؓ کو آسمان سے جبرئیلؑ بھی روکتا تو نہ رُکتے اور آپ کو رکنا بھی نہ چاہیے تھا میری ذاتی رائے میں اللہ کے اس شیر کو روکنے والے خود ہی غلطی پر تھے (خاکِ کر بلاصفحہ 210) 
  • عمرو ابنِ سعد جب اپنے لشکر کو اتار چکا اور خیمے لگا لیے تو اس نے مظلوم کربلا سیدنا حسینؓ سے ملاقات کے لیے قاصد بھیجا آپ نے منظور فرما لیا اور پھر علیحدہ خیمے میں شرافت و وحشت کا ملاپ ہوا اور نیکی اور بدی کی ملاقات ہوئی امام عالی نے فرمایا کہ میری یہ تین درخواستیں ابنِ زیاد تک پہنچا دو۔
  • میں واپس لوٹ جاتا ہوں
  •  مجھے مسلمانوں کی کسی سرحد پر پہنچا دیا جائے
  • میں دمشق جا کر یزید سے خود معاملہ طے کرلوں گا۔ 

(خاک کربلا: صفحہ 213) 

صفحہ 1 از 5