خاک کربلا مصنفہ صاحبزادہ فتخار الحسن صاحب - ردِ رافضیت |…

خاک کربلا مصنفہ صاحبزادہ فتخار الحسن صاحب

  محمد علی

صفحہ 2 از 5

ان دونوں اِقتباسات کو بار بار پڑھیں سب سے پہلی بات یہ جان لیں کہ سیدنا عالی مقام نے واپس لوٹنے کا ارادہ کوئی تقیہ کے طور پر نہ کیا تھا جبکہ اس کے پیچھے ایک تاریخی حقیقت ہے وہ یہ کہ جب ملعون کوفی شیعوں نے غداری کرتے ہوئے سیدنا عالی مقام کی بیعت توڑ کر یزید پلید کی بیعت کر لی اور دشمن سیدنا عالی مقام بن گئے تو ایسے میں آپ نے ارشاد فرمایا "قَدْ خَذَلتنا شیعتنا" ہمیں ہمارے ہی شیعوں نے ذلیل و رسوا کیا ہے یہ بات سنی شیعہ دونوں کی بہت سی کتب میں مرقوم ہے حوالہ کے لیے البدایہ والنہایہ اور مقتل ابی مخنف دیکھا جاسکتا ہے لہٰذا وقت کی نزاکت کے پیش نظر آپ نے مدینہ منورہ واپس آنے کی درخواست کی یعنی اگر ابنِ زیاد میری درخواست مان لیتا ہے لہٰذا میں واپس لوٹ جاتا ہوں افتخار الحسن صاحب مرحوم کی پہلی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ حامل وحی سید الملائکہ جبرئیل امینؑ بھی اگر سیدنا عالی مقام کو روکتے تو وہ نہ رکھتے اس میں سب سے پہلے سوچنے کا یہ مقام ہے کہ کیا جبرئیل امینؑ نے سیدہ مریمؑ کے علاوہ کسی غیر نبی کو اللہ کا پیغام پہنچایا ہے جب سلسلہ وحی حضورﷺ کے وصال شریف پر ختم ہو گیا تو جبرئیلؑ ان کو روکنے کے لیے کیوں آتے؟ اور اگر بالفرض وہ آتے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے آتے اور حسین اللہ تعالیٰ کا حکم سن کر بھی نہ رکتے؟ اگر ایسا ہوتا تو حسین خدا کے حکم کے نافرمان ہوتے یہ بات انہوں نے محض واعظانہ رنگ اور قصہ خوانی انداز میں لکھ دی ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ ایمان کے لیے خطرہ ہے اگر بالفرض تسلیم کر لیا جائے کہ سیدنا عالی مقام کو کربلا میں شہید ہونے کا حکم دیا جا چکا ہے جس کو پورا کرنے کے لیے وہ کسی کی بھی سننے کو تیار نہ تھے حتیٰ کہ جبرئیلؑ کے روکنے پر بھی آپ رکنے پر نہ تھے تو پھر آپ خود ہی درخواست کر رہے ہیں کہ مجھے مدینہ منورہ جانے دو ان دونوں باتوں میں باہم کیا تعلق ہے بلکہ آپ کی ان تین درخواستوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس ارادہ سے نہیں آئے تھے کیونکہ مدینہ منورہ واپسی ہو جاتی تب بھی معاملہ ختم ہو جاتا اور اگر مسلمانوں کی کسی سرحد پر پہنچا دیا جاتا تب بھی لڑائی ختم اور اگر یزید کے پاس لے جایا جاتا تو گفتگو سے معاملہ ٹل جاتا یہ صرف دو عبارات کا تقابل ذکر ہوا اسی طرح اس کتاب میں بہت سے واقعات اور بہت سی واعظانہ بات میں ایک دوسرے سے ٹکراتی ہیں کیونکہ دروغ گورا حافظہ نباشد جھوٹے کی یاداشت نہیں ہوتی اگر تحقیق مقصود ہوتی تو پھر اس موضوع پر کتب کا مطالعہ کر کے پھر کوئی نتیجہ نکال کر اسے تحریر کیا جاتا واعظانہ رنگ نہ دیا جاتا اب میں آپ کو ان واقعات میں سے صرف ایک واقعہ کی طرف لے جانا چاہتا ہوں جو صاحبزادہ صاحب نے اس درد ناک انداز سے لکھا ہے کہ شیعہ ذاکر بھی اسے پڑھ کر آنسو بہانہ شروع کر دیں اور اس کا ہر قاری پڑھتے پڑھتے آنسو بہانے سے نہیں رک سکے گا اور پھر کہا جائے گا کہ یہ واقعہ قرآن و حدیث کی طرح بالکل حقیقت ہے حالانکہ بالکل بے سروپا اور افسانہ ہے اور اس پر مزید یہ کہ کوئی سنی جب اس کو پڑھے پڑھائے گا اور یہ دیکھے گا کہ اس کا لکھنے والا بہت بڑا سنی عالم ہے تو اس کی مخالفت کرنے والے کو فوراً شیعہ کہہ دے گا اور سیدنا عالی مقام سے محبت و عشق سے خالی ہونے کا فتویٰ جڑ دے گا یہ علماء اہلِ سنت کے لیے اتنی بڑی بلاء ہے کہ جس سے جان چھڑانی مشکل؛ اگر اس قسم کے قصہ جات کی تردید کرتے ہیں تو ان پر خارجی ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے اگر تردید نہیں کرتے تو حق کا دامن بھی ہاتھ سے جاتا ہے اور شیعہ لوگوں کے مسلک کی تائید بھی ہوتی ہے جو اہلِ حق کے لیے زہر قاتل ہے اور اس لیے ہی عوام نہیں سمجھ سکے کہ شیعوں کا مسلک صحیح ہے یا غلط کیونکہ واقعہ کربلا کے بیان کرنے میں سنی واعظین اور شیعہ ذاکرین دونوں کا مقصد واحد رولانا پٹانا ہے یہ واقعہ سیدہ صغریٰ کا واقعہ ہے جسے "سیدہ صغریٰ کا قصہ" عنوان دے کر گیارہ (11) صفحات پر پھیلا کر بیان کیا گیا ہے خاکِ کربلا صفحہ207 تا صفحہ 209، اور صفحہ 293 تا صفحہ 300 کی فوٹو کاپی ہم ساتھ لگا رہے ہیں۔ تاکہ آپ اصل عبارت کو پڑھ کر ہماری بات کی تصدیق کریں کہ واقعہ میں جو کچھ ہم نے کہا ہے اس سے کہیں زیادہ ہمارے سنی واعظین نے لکھا ہے لہٰذا درج ذیل فوٹو کا بیاں ملاحظہ فرمائیں۔

صفحہ 2 از 5