خاک کربلا مصنفہ صاحبزادہ فتخار الحسن صاحب - ردِ رافضیت |…

خاک کربلا مصنفہ صاحبزادہ فتخار الحسن صاحب

  محمد علی

صفحہ 5 از 5

 جس بچی نوں چھڈ آیا میں اسدا خط لیا ایا

  آقا میں مدینے پاک سے آیا ہوں اور آپ کی بیٹی سیدہ صغریٰ کا قاصد ہوں مظلوم کربلا کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی اور فرمایا میرے قریب آؤ تم میری بیٹی سیدہ صغریٰ کے قاصد ہو میرا دل چاہتا ہے کہ میں تمہارے قدم چوم لوں بھائی! تم نے میرے لئے بہت تکلیف اٹھائی اور مجھ پر احسان کیا اور احسان کا بدلہ میں قیامت کے دن ادا کروں گا بتاؤ میری بیٹی کیسی ہے؟ قاصد نے اپنی جیب سے سیدہ صغریٰ کا خط نکال کر سیدنا حسین کے ہاتھوں میں دے دیا سیدنا عرش مقام نے بیٹی کے خط کو سینے سے لگایا اور پھر چوما اور پھر کھول کر پڑھا لکھا تھا ابا جان! آپ کی بچھڑی ہوئی بیٹی سلام عرض کرتی ہے ابا جان! آپ تو کہہ گئے تھے کہ ایک مہینے کے بعد سیدنا علی اکبر آئے گا اور تمہیں لے جائے گا مگر تین مہینے گزر گئے ہیں پر نہ اکبر نہ اصغر آیا تے نہ آئی بہن سکینہ

  باہجھ بھراواں سُنجا لگدا مینوں شہر مدینہ

 اور لکھا تھا کہ میں ساری ساری رات آپ کے انتظار میں سوتی نہیں ہوں صبح سے آپ کی راہ تکتی رہتی ہوں اور ہر آنے جانے والے سے آپ کا پتہ پوچھتی ہوں مگر کوئی آپ کا پتہ نہیں دیتا اب میں اچھی ہوں خدا کے لئے اب مجھے اپنے پاس بلالو بھائی اکبر کو بھیجو مجھے آ کر لے جائے اور آپ تو بچوں کے ساتھ دل بہلاتے ہوں گے گھر میں تنہا اور اکیلی اداس رہتی ہوں اماں جان بھی اور پھوپھی جان بھی جا کر مجھے بھول گئی ہیں بھولیں کیوں نہ ان کے پاس اکبر و اصغر ہیں اور سیدنا عون و سیدنا محمد ہیں اور ان کے ساتھ اپنا جی بہلاتی ہوں گی مگر مجھ دکھیاری کا کسی نے پتہ تک نہیں کیا اچھا میں آؤں گی تو شکایت کرونگی اور بھائی سیدنا علی اکبر سے کہنا کہ بھائی اپنی بہنوں کے ساتھ ایسے ہی وعدے کیا کرتے ہیں تم نے تو کہا تھا کہ میں خود ایک مہینے کے بعد آ کر تمہیں لے جاؤں گا مگر تمہارا راستہ دیکھتے دیکھتے تین مہینے ہو گئے ہیں اور لکھا تھا ابا جی میں نے بھیا دیدنا اصغر کے لئے کپڑے سیئے ہیں اور کھلونے خریدے ہیں جب آؤں گی تو اپنے ہاتھوں سے اس کو پہناؤں گی اب تو وہ چلتا ہوگا۔ اور باتیں بھی کرتا ہوگا حسین نے بیٹی کا خط پڑھا تو کلیجہ پھٹ گیا اور فرمایا بھائی! خدا تمہارا بھلا کرے اور تیرے بچوں کی عمر دراز کرے جس بچی کا تو خط لے کر آیا ہے وہ میری بیٹی سیدہ صغریٰ ہے اب میں تمہاری اس خدمت گذاری اور تکلیف اٹھانے کا کیسے شکریہ ادا کروں اور تمہاری کیا خدمت کروں گرمی کا موسم ہے تم دور سے آئے ہو تمہیں پیاس تو ضرور ہوگی مگر افسوس کہ میں تمہیں پانی بھی نہیں پلا سکتا اس لئے کہ عمر و سعد نے آج تین دن سے اہلِ بیت پر پانی بند کر دیا ہوا ہے اور آج عین اس وقت جبکہ عون و محمد دین کی آبرو پر قربان ہو چکے، قاسم و عباس اسلام کی عظمت پر نثار ہو چکے ہیں جب علی اکبر شریعت مصطفیٰ کی آن پر شہید ہو چکا ہے جب معصوم اصغر حق و صداقت کی سربلندی کی خاطر میری جھولی میں دم توڑ چکا ہے اور جب حسین اپنے عزیزوں کو شدت پیاس سے تڑپتا دیکھ چکا ہے  اور جب حسین اپنے ساتھیوں کی لاشیں اپنے کاندھوں پر اٹھا اٹھا کر تھک چکا ہے اور جب حسین کو خود بھی خلافت اسلامیہ اور امانتِ الہٰیہ کی حفاظت کی خاطر اپنا سر بھی کٹوانے کو تیار کھڑا ہے اس وقت اگر حسین کی کوئی آخری خواہش تھی تو یہ تھی کہ آخری وقت میں اپنی بیمار بیٹی صغریٰ کو دیکھ لوں اس لئے اے خدا کے نیک بندے تو نے مجھ غریب پر بڑا احسان کیا ہے کہ میری بیٹی کا خط لے کر اس خونی میدان میں آ گیا آج تو نہیں کل اس احسان کا بدلہ حوض کوثر کے جام پلا کر ادا کروں گا اب ایک نیکی اور بھی کرو کہ میرا پیغام بھی میری بیٹی تک پہنچا دو اور جو کچھ تم نے دیکھا ہے اس کو جا کر بتا دو اور کہنا کہ عون و محمد شہید ہو چکے ہیں قاسم و عباس دفن ہو چکے ہیں علی اکبر شہید ہو چکا ہے اور جس اصغر کے لئے تم نے کپڑے سیئے ہیں اور کھلونے خریدے ہیں وہ دم توڑ چکا ہے اور جن کو تو یاد کرتی ہے وہ سب ختم ہوچکے ہیں اور تیرا باپ حسین بھی چند ساعتوں کا مہمان ہے مگر یہ گواہی دینا کہ تمہارے باپ نے تمہارے خط کو پہلے سینے سے لگایا تھا اور چوم کر کھولا تھا اے میری بیٹی کے قاصد! اب تو یہاں سے جلدی نکل جا کہیں ایسا نہ ہو کہ دشمن تجھے بھی قتل کر دیں اور میرا پیغام میری بیٹی تک نہ پہنچ سکے بیٹی کے قاصد کو وداع کر کے حسین نے علی اکبر کی لاش پر گئے اور کہا

 لے اکبر ایہہ خط صغریٰ دا تینوں یاد کربندی

 اوہ اجے بھی اس ملن دی رکھ دی تیرا پتہ پوچھیندی

 دیہہ جواب صُغریٰ دیا ویرا حضرت آکھ سُنایا

 تڑپتی لاش علی اکب دی ایہہ آوازہ آیا 

صغریٰ معاف کریں اکبر نوں نہیں اس وعدہ پورا کیتا 

ہے افسوس بن ملیاں تینوں میں جام شہادت پیتا

پھر بیٹی صغریٰ کا خط لے کر خیموں میں گئے اور تمام کو پڑھ کر سنایا خط کو سن کر تمام اہلِ بیت رونے لگے ایک کہرام مچ گیا اور ایک حشر برپا ہو گیا ہر ایک نے اپنی بچھڑی ہوئی صغریٰ کے خط کو سینے سے لگایا اور چوما

قارئین کرام! آپ نے صاحبزادہ افتخار الحسن صاحب کا گیارہ صفحات پر مشتمل مضمون پڑھا جس میں انہوں نے اسے پُر اثر بنانے کے لیے جتنے بھی ادیبانہ الفاظ لا سکتے تھے لانے میں پوری کوشش کی اور میں سمجھتا ہوں کہ اس واقعہ کو جس صاحبزادہ صاحب نے تحریر کیا ہے بشرطیکہ کوئی ثقہ عالم نہ ہو تو بغیر ماتم کیے نہیں رہ سکتا حالانکہ سیدہ فاطمہ صغریٰ بنتِ حسینؓ کے اس من گھڑت واقعہ میں رائی بھر بھی حقیقت نہیں پائی جاتی۔ بلکہ اول تا آخر اپنے من گھڑت تخیلات کا پلندہ ہے کہ جس کا حکم اعلیٰ حضرت عظیم البرکت نے اپنے فتاویٰ میں گناہوں کے درجات کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ 

 فاعتبروا يا ولى الابصار


صفحہ 5 از 5