مال خرچ کرنے میں نظریے کا تضاد
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سوچتے تھے کہ مال و عطا کے ذریعہ تالیف قلب اور کمزور عقیدہ لوگوں کی حوصلہ افزائی کا دور ختم ہو چکا اور اسلام اب ایسے لوگوں کا محتاج نہیں رہا، لوگ خود اپنے ایمان و ضمیر کی حفاظت کریں تاکہ جس حد تک لوگوں کے دلوں میں ایمان راسخ ہو چکا ہے کم از کم اس حد تک مثالی انسانوں کا ایک نمونہ پیش کر کے اسلامی تربیت اپنے پیغام کو عام کر سکے، جب کہ دوسری طرف حضرت خالدؓ یہ سوچتے تھے کہ جو جیالے مجاہدین آپؓ کے ساتھ میدان جنگ میں برسر پیکار رہتے ہیں اور محض اللہ کی رضا کے لیے ان کی نیتیں شاید ابھی خالص نہیں ہیں، مال کے ذریعہ ان کی ہمت افزائی کرنے، ان کی عزیمت میں پختگی لانے اور ان کے جذبات کو زندہ رکھنے کی ضرورت ہے۔
(اباطیل یجب أن تمحی من التاریخ: صفحہ 134) اسی طرح حضرت عمرؓ یہ سوچتے ہیں کہ دوسروں کے بالمقابل کمزور مہاجرین مال کے زیادہ مستحق ہیں، اسی لیے جب جابیہ میں لوگوں کے سامنے حضرت خالدؓ کی معزولی کا عذر بیان کیا تو کہا: ’’میں نے انہیں حکم دیا تھا کہ اس مال کو بے بس مہاجرین میں تقسیم کریں لیکن وہ طاقتوروں کو دیتے تھے۔‘‘
(البدایہۃ و النہایۃ: جلد 7 صفحہ 115) بہر صورت سیدنا عمر اور خالد رضی اللہ عنہما دونوں کا اپنا اپنا اجتہاد تھا لیکن سیدنا عمرؓ نے اپنے اجتہاد سے جن امور کا ادراک کر لیا حضرت خالدؓ اس کا نہیں کر سکے۔
(التاریخ الاسلامی: جلد 11 صفحہ 147)