سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کا لال مصنفہ مفتی حبیب…

سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کا لال مصنفہ مفتی حبیب سیالکوٹی

  محمد علی

صفحہ 1 از 6

سیدہ فاطمہ کا لال مصنفہ مفتی حبیب سیالکوٹی

 اس کتاب کی تقریظات میں اگرچہ مفتی صاحب کی تعریف کہ اس تصنیف کی وجہ سے صفحات بھر دیے گئے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ جو کہا گیا ہے اس کتاب کا ہر واقعہ بحوالہ نقل کیا گیا ہے یہ صرف حسنین کریمین کی تعریف اور اوصاف تک محدود ہے رہی یہ بات کہ واقعہ کربلا کو مفتی صاحب نے ذکر کیا ہے اور جن جن واقعات کو رنگیلاپنی سے ذکر کیا ہے اس کی حیثیت خاکِ کربلا وغیرہ سے زیادہ نہیں ہے کہ جو رنگیلاپنی کے ساتھ کے ساتھ کربلا کے موضوع پر لکھی گئی جن کا تذکرہ ہم کر چکے بہرحال مفتی صاحب ایک بہترین خطیب ہیں انہوں نے اپنے خطیبانہ رنگ میں رنگیلاپنی سے کام لیتے ہوئے واقعات کو اس طرح بیان کیا کہ جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اس لیے ہم ان کی عبارات کو نقل کرنا باعث طوالت سمجھتے ہیں لیکن سیدہ فاطمہ صغریٰ بنتِ حسینؓ کے من گھڑت قصہ کی ایک عبارت نقل کرتے ہیں اس کے پڑھنے سے ہی قارئین سمجھ جائیں گے کہ اس کتاب میں جو کچھ لکھا ہے اس کی حیثیت کیا ہے؟ اس لیے ہم نے کثیر کتب کا ذکر نہیں کیا جو کربلا کے موضوع پر لکھی گئیں کیونکہ ان کا تانہ بانہ بھی مذکورہ کتب سے ملتا جلتا ہے لہٰذا جن جن کتب میں مذکورہ واقعات منقول ہیں سمجھ لیں یہ کتب اہلِ سنت کے نزدیک غیر معتبر ہیں آج کل کے سنی واعظین کی محرم کی تقریروں کی کامیابی کے لیے سیدہ صغریٰ بنتِ حسینؓ کا من گھرٹ واقعہ زینت بنا ہوا ہے۔ امام یہ دیکھ کر بہت دل برداشتہ ہوئے اور الم پر الم سہتے ہوئے گھر سے نکلنے لگے تاکہ معصوم سیدہ صغریٰ کو کسی کے سپرد کیا جاسکے عفت مآب عورت اُم اسحاق نے عرض کی حضور میرا خیال ہے کہ آپ گورنر مدینہ سے کچھ دنوں کی مہلت لے لیں جب بچی کی حالت کچھ سنبھل جائے گی تو ہم چلے جائیں گے آپ نے فرمایا اے ام اسحاق میں چونکہ آج پہلے جانے کا وعدہ کر چکا ہوں ( قول مرداں جال دارد) اب میں ہرگز مزید مہلت طلب کرنے کے لئے تیار نہیں اسی بے قراری کے عالم میں اٹھے اور نانی اماں ام المومنین سیدہ ام سلمی کے گھر تشریف لے گئے جب سیدہ ام سلمی نے سیدنا حسین دروازے پر دیکھا تو حیران ہو کر پوچھنے لگیں اے میرے بیٹے میں تجھے الوداع کہنے آنے والی تھی تو نے کیوں تکلیف کی آپ بقلب بریاں ذنچشم گریاں کہنے لگے اے نانی جان آج آپ کے دروازے پر نواسۂ رسول جگر گوشتہ بتول اور علی کا لاڈلہ نہیں بلکہ ایک بیمار بچی کا باپ حاضر ہوا ہے رات سے معصوم صغریٰ فاطمہ سخت بیمار ہے میں سفر کے لئے تیار ہوں بچی اس قابل نہیں ہے کہ سفر پر ساتھ لے کے جاؤں اس لئے جب تک میں مکہ شریف نہ پہنچ جاؤں آپ بچی کو اپنی آغوش شفقت میں جگہ دیں میں مکہ پہنچتے ہی اسے وہاں بلانے کا انتظام کروں گا نانی اماں ام سلمی نے کہا بیٹا اس میں پوچھنے والی کون سی بات تھی اسی وقت میری بچی کو میرے پاس لاؤ اسی وقت حسین گھر کی جانب لوٹے علی اکبر اور قاسم کو بلایا اور اور فرمایا اے صغریٰ کے بھائیو بیمار بہن کی چارپائی اٹھا کر نانی اماں کے گھر لے چلو معلوم نہیں کہ اس کی ڈولی اٹھانا تمہیں نصیب ہو کہ نہ ہو بھائیوں نے چارپائی اٹھائی اور سیدہ ام سلمی کے گھر لے آئے ساتھ ہی چھوٹا سا قافلہ بھی چل پڑا جب بھائیوں نے سیدہ صغریٰ کی چارپائی وہاں رکھی تو اچانک معصوم کی آنکھ کھل گئی بچی یہ سارا نقشہ دیکھ کر ششدر رہ گئی دل ہی دل میں سوچنے لگی یااللہ میرے بھائی علی اکبر نے صندوق کیوں اٹھا رکھا ہے بھائی قاسم نے بستر کیوں باندھ رکھے ہیں۔ میرے ابا جان کدھر جا رہے ہیں امی جان کا کیا ارادہ ہے؟ آخر یہ کیا ہونے والا ہے بچی چونک پڑی اٹھی اور گھبرا کر دائیں بائیں دیکھنے لگی اس کی نگاہ کبھی ماں کے پژمردہ چہرے پر پڑتی تو کبھی پھوپھی سیدہ زینب کے غم آلودہ بشرے میں جذب ہو کر رہ جاتی کبھی بھائی اکبر کی زبوں حالی کا نقشہ دیکھتی تو کبھی والد محترم کی بیقراری پر نگاہ دوڑاتی مگر کچھ سمجھ میں نہ آتا تھا چلا کر پکاری اے اباجان یہ کیا ہو رہا ہے کیا میں عالم بیداری میں ہوں یا کہ ایک خواب دیکھ رہی ہوں عالی مقام کا دل بھر آیا آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے بچی کے سر پر شفقت کا ہاتھ پھیرتے ہوئے فرمانے لگے اے جان! آپ کو مدینہ چھوڑ کر مکہ جارہا ہوں تیری طبیعت اچھی نہیں تو صعوباتِ سفر برداشت کرنے کے قابل نہیں اس لئے تم نانی اماں کے پاس رہو مکہ پہنچ کر میں تمہارے بھائی علی اکبر کو بھیج کر اپنے پاس جلد بلوا لوں گا یہ سن کر بچی اٹھنے لگی اور کہنے لگی اے ابا جان میں بیمار کب ہوں میں ابھی آپ کو اٹھ کر دکھاتی ہوں آپ مجھے یہاں اکیلا نہ چھوڑ جایے بچی جب اٹھی تو دھڑام سے اُلٹے پاؤں نیچے گر پڑی اور بیہوش ہو گئی جب بچی کو ہوش آیا تو پہلی کیفیت ذہن میں تازہ ہوئی تو معصوم زار زار رونے کی اور مرغ بسمل کی طرح تڑپتی ہوئی پدر شفیق کے قدموں پر گر کر عرض کرنے لگی۔ 

تھراتی ہوئی اٹھ کے گری شاہ کے قدم پر

 کی عرض کہ مر جاؤں گی اسے سبط پیغمبر

 تنہائی میں میرا دل بہلے گا کیوں کر؟ 

سب بیٹیاں ہیں آپ کی کیا میں نہیں دختر؟

 بے آپ کے اس گھر میں نہ سرکار رہوں گی

اچھا میں کنیزوں کے ہمراہ ہی رہوں گی 

سب رونے لگے سن گئے یہ بیمار کی تقریر 

چلا کے سکینہؓ نے کہا صدقے تیرے ہمشیر !

 گھبرا کے یہ کہنے لگے حضرت شبیرؓ 

تم بیٹی کو سمجھاؤ اے بانوئے دلگیر 

کمسن سے مسافر مجھے تشویش بڑی ہے 

دن چڑھتا ہے اور آج کی منزل بھی کڑی ہے۔

 اقلیم قدیت کا تاجدار صناع ازل کا شاہکار صبرو رضا کی مجسم تصویر بنے ہوئے بیمار صغریٰ کے سر پر شفقت کا ہاتھ پھیر کر رخصت ہوئے۔

از ساز و برگ قافلہ بے خوداں مپرس 

لیے ناله مئ رود جرسِ کاروانِ ما

صفحہ 1 از 6