سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کا لال مصنفہ مفتی حبیب سیالکوٹی
محمد علیسیدہ فاطمہ کا لال مصنفہ مفتی حبیب سیالکوٹی
اس کتاب کی تقریظات میں اگرچہ مفتی صاحب کی تعریف کہ اس تصنیف کی وجہ سے صفحات بھر دیے گئے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ جو کہا گیا ہے اس کتاب کا ہر واقعہ بحوالہ نقل کیا گیا ہے یہ صرف حسنین کریمین کی تعریف اور اوصاف تک محدود ہے رہی یہ بات کہ واقعہ کربلا کو مفتی صاحب نے ذکر کیا ہے اور جن جن واقعات کو رنگیلاپنی سے ذکر کیا ہے اس کی حیثیت خاکِ کربلا وغیرہ سے زیادہ نہیں ہے کہ جو رنگیلاپنی کے ساتھ کے ساتھ کربلا کے موضوع پر لکھی گئی جن کا تذکرہ ہم کر چکے بہرحال مفتی صاحب ایک بہترین خطیب ہیں انہوں نے اپنے خطیبانہ رنگ میں رنگیلاپنی سے کام لیتے ہوئے واقعات کو اس طرح بیان کیا کہ جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اس لیے ہم ان کی عبارات کو نقل کرنا باعث طوالت سمجھتے ہیں لیکن سیدہ فاطمہ صغریٰ بنتِ حسینؓ کے من گھڑت قصہ کی ایک عبارت نقل کرتے ہیں اس کے پڑھنے سے ہی قارئین سمجھ جائیں گے کہ اس کتاب میں جو کچھ لکھا ہے اس کی حیثیت کیا ہے؟ اس لیے ہم نے کثیر کتب کا ذکر نہیں کیا جو کربلا کے موضوع پر لکھی گئیں کیونکہ ان کا تانہ بانہ بھی مذکورہ کتب سے ملتا جلتا ہے لہٰذا جن جن کتب میں مذکورہ واقعات منقول ہیں سمجھ لیں یہ کتب اہلِ سنت کے نزدیک غیر معتبر ہیں آج کل کے سنی واعظین کی محرم کی تقریروں کی کامیابی کے لیے سیدہ صغریٰ بنتِ حسینؓ کا من گھرٹ واقعہ زینت بنا ہوا ہے۔ امام یہ دیکھ کر بہت دل برداشتہ ہوئے اور الم پر الم سہتے ہوئے گھر سے نکلنے لگے تاکہ معصوم سیدہ صغریٰ کو کسی کے سپرد کیا جاسکے عفت مآب عورت اُم اسحاق نے عرض کی حضور میرا خیال ہے کہ آپ گورنر مدینہ سے کچھ دنوں کی مہلت لے لیں جب بچی کی حالت کچھ سنبھل جائے گی تو ہم چلے جائیں گے آپ نے فرمایا اے ام اسحاق میں چونکہ آج پہلے جانے کا وعدہ کر چکا ہوں ( قول مرداں جال دارد) اب میں ہرگز مزید مہلت طلب کرنے کے لئے تیار نہیں اسی بے قراری کے عالم میں اٹھے اور نانی اماں ام المومنین سیدہ ام سلمی کے گھر تشریف لے گئے جب سیدہ ام سلمی نے سیدنا حسین دروازے پر دیکھا تو حیران ہو کر پوچھنے لگیں اے میرے بیٹے میں تجھے الوداع کہنے آنے والی تھی تو نے کیوں تکلیف کی آپ بقلب بریاں ذنچشم گریاں کہنے لگے اے نانی جان آج آپ کے دروازے پر نواسۂ رسول جگر گوشتہ بتول اور علی کا لاڈلہ نہیں بلکہ ایک بیمار بچی کا باپ حاضر ہوا ہے رات سے معصوم صغریٰ فاطمہ سخت بیمار ہے میں سفر کے لئے تیار ہوں بچی اس قابل نہیں ہے کہ سفر پر ساتھ لے کے جاؤں اس لئے جب تک میں مکہ شریف نہ پہنچ جاؤں آپ بچی کو اپنی آغوش شفقت میں جگہ دیں میں مکہ پہنچتے ہی اسے وہاں بلانے کا انتظام کروں گا نانی اماں ام سلمی نے کہا بیٹا اس میں پوچھنے والی کون سی بات تھی اسی وقت میری بچی کو میرے پاس لاؤ اسی وقت حسین گھر کی جانب لوٹے علی اکبر اور قاسم کو بلایا اور اور فرمایا اے صغریٰ کے بھائیو بیمار بہن کی چارپائی اٹھا کر نانی اماں کے گھر لے چلو معلوم نہیں کہ اس کی ڈولی اٹھانا تمہیں نصیب ہو کہ نہ ہو بھائیوں نے چارپائی اٹھائی اور سیدہ ام سلمی کے گھر لے آئے ساتھ ہی چھوٹا سا قافلہ بھی چل پڑا جب بھائیوں نے سیدہ صغریٰ کی چارپائی وہاں رکھی تو اچانک معصوم کی آنکھ کھل گئی بچی یہ سارا نقشہ دیکھ کر ششدر رہ گئی دل ہی دل میں سوچنے لگی یااللہ میرے بھائی علی اکبر نے صندوق کیوں اٹھا رکھا ہے بھائی قاسم نے بستر کیوں باندھ رکھے ہیں۔ میرے ابا جان کدھر جا رہے ہیں امی جان کا کیا ارادہ ہے؟ آخر یہ کیا ہونے والا ہے بچی چونک پڑی اٹھی اور گھبرا کر دائیں بائیں دیکھنے لگی اس کی نگاہ کبھی ماں کے پژمردہ چہرے پر پڑتی تو کبھی پھوپھی سیدہ زینب کے غم آلودہ بشرے میں جذب ہو کر رہ جاتی کبھی بھائی اکبر کی زبوں حالی کا نقشہ دیکھتی تو کبھی والد محترم کی بیقراری پر نگاہ دوڑاتی مگر کچھ سمجھ میں نہ آتا تھا چلا کر پکاری اے اباجان یہ کیا ہو رہا ہے کیا میں عالم بیداری میں ہوں یا کہ ایک خواب دیکھ رہی ہوں عالی مقام کا دل بھر آیا آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے بچی کے سر پر شفقت کا ہاتھ پھیرتے ہوئے فرمانے لگے اے جان! آپ کو مدینہ چھوڑ کر مکہ جارہا ہوں تیری طبیعت اچھی نہیں تو صعوباتِ سفر برداشت کرنے کے قابل نہیں اس لئے تم نانی اماں کے پاس رہو مکہ پہنچ کر میں تمہارے بھائی علی اکبر کو بھیج کر اپنے پاس جلد بلوا لوں گا یہ سن کر بچی اٹھنے لگی اور کہنے لگی اے ابا جان میں بیمار کب ہوں میں ابھی آپ کو اٹھ کر دکھاتی ہوں آپ مجھے یہاں اکیلا نہ چھوڑ جایے بچی جب اٹھی تو دھڑام سے اُلٹے پاؤں نیچے گر پڑی اور بیہوش ہو گئی جب بچی کو ہوش آیا تو پہلی کیفیت ذہن میں تازہ ہوئی تو معصوم زار زار رونے کی اور مرغ بسمل کی طرح تڑپتی ہوئی پدر شفیق کے قدموں پر گر کر عرض کرنے لگی۔
تھراتی ہوئی اٹھ کے گری شاہ کے قدم پر
کی عرض کہ مر جاؤں گی اسے سبط پیغمبر
تنہائی میں میرا دل بہلے گا کیوں کر؟
سب بیٹیاں ہیں آپ کی کیا میں نہیں دختر؟
بے آپ کے اس گھر میں نہ سرکار رہوں گی
اچھا میں کنیزوں کے ہمراہ ہی رہوں گی
سب رونے لگے سن گئے یہ بیمار کی تقریر
چلا کے سکینہؓ نے کہا صدقے تیرے ہمشیر !
گھبرا کے یہ کہنے لگے حضرت شبیرؓ
تم بیٹی کو سمجھاؤ اے بانوئے دلگیر
کمسن سے مسافر مجھے تشویش بڑی ہے
دن چڑھتا ہے اور آج کی منزل بھی کڑی ہے۔
اقلیم قدیت کا تاجدار صناع ازل کا شاہکار صبرو رضا کی مجسم تصویر بنے ہوئے بیمار صغریٰ کے سر پر شفقت کا ہاتھ پھیر کر رخصت ہوئے۔
از ساز و برگ قافلہ بے خوداں مپرس
لیے ناله مئ رود جرسِ کاروانِ ما
خلاصہ: سیدہ صُغریٰ بچی تھی جس کو عالی مقام بچی ہونے کی وجہ سے پیچھے چھوڑ گئے تھے وہ ہر وقت روتی رہتی ہر کوفہ جانے والے کو اپنا درد سناتی اپنی داستان پیش کرتی وہاں جانے کی تمنا کرتی اور ایسے درد بھرے الفاظ کہتی کہ ہر سننے والا رونے لگتا اور کہتی کہ یہاں مجھ غریب کا پوچھنے والا کوئی نہیں میں اکیلی غموں کے پہاڑ میں پھنسی ہوئی ہوں وغیرہ وغیرہ یعنی مدینہ منورہ میں جس قدر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اہلِ بیت کے افراد تھے ان میں کسی کو اس بچی پر ترس نہ آتا نہ اس کا کوئی پرسان حال ہوتا اس قصہ کو سنی واعظ جب بیان کرتے ہیں تو اس میں خوب رنگ بھرنے کے لیے اور اپنے واعظ کا رنگ جمانے کے لیے غمناک اشعار اور وہ بھی ترنم سے گائے جاتے ہیں اس واقعہ کو زبانی بیان کرنے کے علاوہ تحریری طور پر بھی سنی علماء نے بیان کیا اس واقعہ کو چونکہ رونے رلانے کے لیے بہت بڑھا چڑھا کر اور جھوٹ موٹ بنا کر پیش کیا جاتا ہے لہٰذا میں نے چاہا کہ اس کی حقیقت واضح کروں جس کو پڑھ کر آپ خود جان جائیں گے کہ واعظین و ذاکرین کہتے کیا ہیں اور اس کی حقیقی تصویر کیا ہے؟
سیدہ صغریٰ بنتِ حسین تاریخ کی نظر میں: سیدنا حسین کی اولاد کے بارے میں کمی بیشی کا ذکر مرزا تقی صاحب ناسخ التواریخ نے کیا ہے لیکن ارشاد شیخ مفید اعلام الوریٰ جو کہ طبری کی تصنیف ہے اور عمدۃ الطالب احمد بن مہنی وغیرہ شیعہ علماء نے آپ کے اولاد کی تعداد چھ بتائی ہے چار لڑکے اور دولڑکیاں ملاحظہ ہو۔
منتخب التواريخ: شیخ مینی در ارشاد و امین الاسلام طبرسی در اعلام الورٰی واحمد بن مہنی در عمدة الطالب و بعض دیگر از علماء اعلام فرموده اندکه آنحضرت پیش اولاد واشته چہار پسرود و دختر جناب علی بن حسین الاکبر کہ کنیت اش ابو محمد بوده علی بن حسین الاصغر کہ کنیتش ابوالحسن بوده و در کربلا شہید شده و جعفر بن الحسين وعبد الله بن الحسین و مخدره فاطمه خاتون و مکرمه سکینه خاتون بنتی الحسین
(منتخب التواريخ صفحہ 242 باب پنجم فصل پنجم در اولاد امجاد سید الشہداء اسمائے شریعہ ان مطبوعہ طہران)
ترجمہ: شیخ مفید نے ارشاد میں اور امین الاسلام طبرسی نے اعلام الوریٰ میں اور احمد بن مہنی نے عمدة المطالب میں اور بعض دیگر مشہور علماء نے فرمایا ہے سیدنا حسینؓ کے چھ بچے تھے چار لڑکے اور دو لڑکیاں سیدنا علی بن حسین اکبرؓ جن کی کنیت ابو محمد تھی سیدنا علی بن حسین اصغر جن کی کنیت ابوالحسن تھی اور دونوں کربلا میں شہید ہوئے تھے سیدنا جعفر بن حسین اور سیدنا عبدالرحمٰن بن حسین ایک صاحبزادی سیدہ فاطمہ خاتون اور دوسری سیدہ سکینہ تھی۔
قارئین کرام حوالہ مندرجہ بالا اس کتاب کا ہے کہ جس کے ٹائٹل پر لکھا ہوا ہے کہ یہ تاریخ کی ایسی کتاب ہے جو اصول معتبرہ تاریخ معتبرہ کے واقعات پر مشتمل ہے اور اس کا مصنف العالم العامل الشقه الجليل الکامل، ركن الاسلام والمسلين محمد ہاشم بن على خراسانی ہے۔
تاریخ ائمہ: سیدنا حسین کی پانچ بیویوں سے چھ اولاد تھی چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہوئیں پہلی زوجہ سیدہ شہربانو سے سیدنا زین العابدین دوسری زوجہ سیدہ لیلیٰ سے سیدنا علی اکبر تھے جو کربلا میں شہید ہوئے تیسری زوجہ قبیلہ قضاعہ سے تھیں جن سے ایک فرزند سیدنا جعفر پیدا ہوئے تھے چوتھی زوجہ سیدہ زباب سے سیدنا علی اصغر اور چھوٹی بیٹی سیدہ سکینہ تھی پانچویں زوجہ سے سیدہ اُم اسحاق سے بڑی بیٹی سیدہ فاطمہ تھی۔ (ارشاد القلوب: صفحہ 277 )
سیدنا علی اصغر کربلا میں تیر کھا کر شہید ہوئے اور دونوں صاحبزادیوں میں سے بڑی سیدہ فاطمہ کی شادی سیدنا حسنؓ کے بیٹے سیدنا حسن مثنیٰ کے ساتھ کربلا سے پہلے سیدہ سکینہ کی شادی سیدنا حسن کے بیٹے سیدنا عبداللہ کے ساتھ واقعہ کربلا سے پہلے ہوچکی تھی۔
(تاریخ ائمہ: صفحہ 280 مصنفه علی حیدر نقوی کتب خانہ شاه نجف لاہور اندرون موچی دروازه)
سیدنا حسین کی اولاد کا ذکر
بحار الانوار: عَدَدُ أَوْلَادِه صلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِ وَجْعَلُ أَحْوَالِهِمْ وَاحوَالُ أَزْوَاجِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَقَدْ أَوْرَدْنَا بَعْضَ أَحْوَالَهُنَّ فِي بَابِ تَارِيخِ السَّجَادِ عليه السلام كان لِلْحُسَينِ عليه السلام سنة اولاد على بن الحسين الاكبر كنيته أبو محمد امه شهربانو بنت کسرٰی یزدجرد وعلى بن الحسين الاصغر قُتِلَ مَع أبيه بالطف وَقَد تَقَدَّمَ ذِكْرُهُ فِيمَا سَلَفَ وَأُمُّهُ لَيْلَىٰ بنت الي مرة بن عروة بن مسعود الثقفية وجعفر بن الحسين لا بقيَّةَ لَهُ وَأُمه قضاعية وكانت وَفَاتُه في حيٰوة الحسين وعبد الله بن الحسين قُتِلَ مَعَ أَبِيهِ صَغِيرَا جَاءسَهُمْ وَهُوَ فِي حَجْرٍ أَبِيهِ فَذَبَحَة و سكينه بنت الحسين وأمها امام بنت امراء القيس بن عدى كلبية معدية و هي أم عبد الله ابن الحسين و فاطمة بنت الحسين وأمها ام اسحاق بنت طلحة بن عبد الله تميمية.
(بحار الانوار: جلد 1 صفحہ 303 قلمی تاریخ سیدنا حسین ابنِ علیؓ وعدد اولاد مطبوعه ایران قدیم)
ترجمہ: حسین کی اولاد اور ان کے حالات آپ کی بیویوں کے بعض حالات ہم تاریخ سجاد میں بیان کر چکے ہیں۔ سیدنا حسین کے چھ بچے تھے۔
- سیدنا علی بن حسین اکبر ان کی کنیت ابو محمد ہے۔ ماں کا نام سیدہ شہر بانو دختر کسریٰ یزد جرد ہے۔
- سیدنا علی بن حسین اصغر جو اپنے والد کے ساتھ مقامِ کربلا میں شہید کر دیے گئے ان کا تذکرہ گزر چکا ہے ان کی والدہ کا نام سیدہ اُم لیلیٰ بنت ابی مرة بن عروہ بن سعد ثقفی تھا۔
- سیدنا جعفر بن حسین ان کی نسل آگے نہ چلی ان کی والدہ قضاعیہ سے تھیں ان کی وفات سیدنا حسین کی زندگی میں ہو گئی تھی۔
- سیدنا عبد اللہ بن حسین جو اپنے والد کے ساتھ بچپن میں شہید کر دیے گئے اس طرح کہ ایک تیر ان کی طرف آیا جبکہ آپ سیدنا حسینؓ کی گود میں تھے اس تیر نے انہیں شہید کر دیا۔
- سیدہ سکینہ بنت حسین ان کی والدہ کا نام سیدہ رباب بنت امراء القیس بن عدی کلبی سعدیہ تھا اور یہی سیدنا عبداللہ بن حسین کی والدہ تھیں۔
- (سیدہ فاطمه بنتِ حسین ان کی والدہ کا نام سیدہ اُم اسحاق بنتِ طلحہ بن عبدالله تمیمی تھا۔
ناسخ التواريخ: ازایں حدیث مکشوف افتاد که حدیث دامادی قاسم بن حسن در کربلا و تزویج کرون حسین علیه السلام فاطمه را باد ازا کاذیب رواه است و حسین علیه السلام رادو دختر افزوں بود یکے فاطمہ زوجہ حسن مثنیؓ واں دیگر سکینه بود۔
( ناسخ التواریخ جلد دوم صفحہ 324 شرح حال ابنِ حسین علیهم السلام مطبوعه تہران)
ترجمہ: اس حدیث سے واضح ہوا کہ سیدنا قاسم بن محمد کا میدان کربلا میں سیدنا حسینؓ داماد بننا اور سیدنا حسینؓ کی شادی کربلا میں ان سے سر انجام پانا راویوں کی بکواسات میں سے ہے۔ سیدنا حسینؓ کی دو صاحبزادیاں تھیں ایک سیدہ فاطمہ زوجہ حسن مثنیٰ اور دوسری سیدہ سکینہ تھی۔
قارئین کرام! ان معتبر اور مشہور تواریخ شیعہ سے واضح ہوا کہ سیدنا حسینؓ کی صرف دو صاحبزادیاں تھیں ایک سیدہ فاطمہؓ جو سیدنا حسنؓ کے بیٹے سیدنا حسن مثنیٰ کی زوجہ تھیں اور دوسری صاحبزادی کا نام سیدہ سکینہؓ تھا ان کی شادی سیدنا حسنؓ کے دوسرے صاحبزادے سیدنا عبداللہ سے ہوئی تھی۔
سیدنا حسینؓ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ واقعہ کربلا میں موجود تھیں (از کتب سنی و شیعہ
حوالہ نمبر 1 متنخب التواريخ:
و کافی است در فضیلت ابی مخذره که حضرت سید الشهداء و صببت خطش دا بایں مخدره سپرد چنانچه در اصول کافی ازحضرت زین العابدین مرض اسهال داشت و مردم گمان نمیبردند که ازآں مرض صحت یا بدوبعد از صحت جناب فاطمہ وصیت نامه را بوی تسلیم کر دووا کنوں آں وصیت خط نزد ماموجو داست۔
(منتخب التواريخ: صفحہ 243 باب فصل پنجم در ذکر اولاد سید الشہداء مطبوعه تہران)
ترجمہ: سیده فاطمہ بنتِ حسین کی فضیلت کے لیے یہی ایک واقعہ کافی ہے کہ سیدنا حسین نے وصیت نامہ ان کے سپرد فرمایا جیسا کہ سیدنا باقر سے اصول کافی میں روایت کیا گیا ہے کہ جب سیدنا حسین اپنی شہادت کے وقت وصیت نامہ انہیں عطاء فرمایا جب سیدنا زین العابدین پیچش کے مرض میں مبتلا تھے لوگوں کا یہ خیال نہیں تھا کہ وہ تندرست ہوں گے سیدہ فاطمہ بنتِ حسین نے وصیت نامہ ان کے سپرد کر دیا اور اب اس وصیت نامہ کی تحریر ہمارے پاس موجود ہے یہ حوالہ واضح طور پر بتا رہا ہے کہ سیدہ فاطمہؓم میدانِ کربلا میں موجود تھیں آپ کو سیدنا حسین نے بوقت شہادت وصیت نامہ عطا فرمایا اگر یہ مخدره مدینہ منوره کو امام تشریف فرما ہوتیں تو بوقت شہادت وصیت نامہ ان کے سپرد نہ ہوتا۔
حوالہ نمبر 2 ناسخ التواريخ: ایں ہنگام بروایت ابنِ طاؤس از مردم شام مردے سرخروئے برخاست دروئے بایزید کرد و گفت یا امیر المومنین این کینزک رابمن بخش و از ایں سخن فاطمہ دختر حسین را خواست فاطمه چون ایں بشنید بر خویشتن بلرزید و دامن عمه خود زینب را بگرفت۔
(ناسخ التواریخ در احوالات سید الشہداءؓ جلد سوم صفحہ 141 طلب کردن شامی فاطمهؓ را بکتیری مطبوعه تہران جدید)
ترجمہ: اس وقت ابنِ طاوس کی روایت کے مطابق ایک سرخ چہرے والا شامی اٹھا اور یزید کی طرف منہ کر کے کہنے لگا اے امیر المؤمنین! یہ لڑکی مجھے عنایت کر دو وہ سیدہ فاطمہ بنتِ حسین کو مانگ رہا تھا جب سیدہ فاطمہ نے سنا توان پر کپکپی طاری ہو گئی اور اپنی پھوپھی سیدہ زینب کا دامن تھام لیا۔
حوالہ نمبر 3 بحار الانوار: عن عبد الله بن الحسن عن أمه فاطمة بنت الحسين قَالَ دَخَلَتِ الْعَامَةُ عَلَيْنَا القسنطاس وان جَارِيَةٌ صَغِيرَةٌ وَفِي رجْلِي خَلخَا لَان مِنْ ذَهَبٍ فَجَعَلَ رَجُلٌ يَفَضُّ خَلَخالَيْنِ مِنْ رِجْلِي وَهُوَ يَبكی فَقُلْتُ مَا يُبْكِيكَ يَا عَدُواللَّهِ ؟ فَقَالَ كَيْفَ لَا ابْكِي وَأَنَا أَسْلُبُ بِئْتَ رسول الله فَقُلْتُ لَا تَلُبْنِي قَالَ أَخَافَ أَنْ يَحْيَى غَيْرِي فَيَأْخُذُهُ۔
(بحار الانوار: جلد 11 صفحہ 236 ماجرى عليه بعد بيعة الناس وليزيد)
ترجمہ: سیدہ فاطمہ بنتِ حسین سے ان کے بیٹے سیدنا عبداللہ بن حسن بیان کرتے ہیں میں چھوٹی عمر کی تھی پر کچھ لوگ ہمارے پاس آئے اس وقت میرے پاؤں میں سونے کی دو جھانجریں تھیں ایک شخص میری جھانجروں کو میرے پاؤں سے اتارنا چاہتا تھا اور وہ رو بھی رہا تھا میں نے پوچھا کیوں رو رہے ہو اے اللہ کے دشمن! کہنے لگا روؤں کیوں نہ حالانکہ میں رسول اللہ کی بیٹی کے پاؤوں سے زیور اتارنا چاہتا ہوں میں نے کہا پھر نہ اتار کہنے لگا مجھے ڈر ہے کہ کوئی آ کر انہیں اتار کر لے جائے گا۔
حوالہ نمبر 4 بحار الانوار: قال على ابن الحسين أدخلنا على يزيد وَنَحْنُ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا مُغَلَّلُونَ فَلَمَّ وَقَفَنَا بَيْنَ يَدَيْهِ قُلْتُ انْشِدُكَ الله يا يزيد ما ظنك برسول الله دَوْرَأَنَا عَلَى هَذِهِ الْحَالِ وَقَالَتْ فاطمة بنت حسين يا يزيد بنات رسول الله سَبَايَا فَبَكَى النَّاسُ وَ بكي اهل الدار۔
(بحار الانوار: جلد 11 صفحہ 250 مطبوعہ ایران قدیم الوقائع المتاخره عن قتلہ)
ترجمہ: سیدنا علی بن حسین بیان کرتے ہیں کہ ہم بارہ آدمیوں کو گلے میں طوق ڈال کر یزید کے سامنے حاضر کیا گیا جب ہم اس کے سامنے کھڑے تھے تو میں نے کہا یزید تجھے اللہ کی قسم تو بتا کہ اگر ہمیں رسول اللہ اس حالت میں دیکھتے تو تو کیا گمان کرتا اور سیدہ فاطمہ بنتِ حسین نے کہا اے یزید! رسول اللہ کی بیٹیاں قیدی؟ پس لوگ بھی رو پڑے اور گھر والے بھی رو دیے۔
حوالہ نمبر 5 البدايہ والنهايہ: فَلَمَّا دَخَلَتِ النِّسَاءُ على يزيد قالت فاطمة بنتِ الحسين وكانَتْ أَكْبَرَ مِنْ سَكِينَةَ يا يزيد بنات رسول الله سَبَايَا فَقَالَ يَزِيدُ يَا ابْنَةَ أَخِي أَنَا لهٰذا كنتُ اكره۔
(البدايہ والنهايہ: جلد هشتم صفحہ 196مطبوعہ بیروت)
ترجمہ: جب مستوراتِ اہلِ بیت یزید کے دربار میں آئیں تو سیدہ فاطمہ بنتِ حسین نے جو سیدہ سکینہ سے بڑی تھیں کہا اے یزید! رسول اللہ کی بیٹیاں قیدی؟ یزید کہنے لگا اے بھتیجی میں بھی اسے پسند نہیں کرتا ہوں۔
حوالہ نمبر 6 کامل ابنِ اثیر: ثُمَّ ادْخِلَ نِسَاء الْحُسَيْنِ وَالرَّأْسُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَجَعَلَتْ فَاطِمَةً وَسَكِينَةُ ابْنَتَا الْحُسَينِ لتتطاولان لِتَنظر إلى الرأس
وَجَعَلَ يزيد يتطاول يَسْتَرْ عَنْهُمَا الراس فَلَمَّا رَأَيْنَ الرَّأْسَ صَدَّنَ فَصَاحَ نِسَاءُ يَزِيد وَوَكوَلَ بِنَاتَ مُعَاوِيَة فَقَالَتْ فاطمة وسکینة بنتا الحسين تتطاولان لتنظر الی الرأس وجعل یزید یتطاول یسترعنھما الرأس صحن فصاح فساء یزید وولول بنات معاویة فقالت فاطمہ بنت الحسین وَكَانَتْ أكْبَرَ مِنْ سَكِينَةَ أَبِناتُ رسول الله سبايا يا يزيد فَقَالَ يا ابنت اخي انا لِهٰذَا كُنْتُ أَكْرَهُ قَالَتْ وَاللَّهِ مَا تَرَكَ لَنَا خَرَسٌ فَقَالَ مَا اتى إِلَيْكُنَّ أَعْظَمَ مِمَّا أُخِذَ مِنْكُنَّ فَقَامَ رَجُلٌ مِّنْ أَهْلِ الشامِ فَقَالَ هَبْ لِي هَذِهِ يَعني فاطمة
(کامل ابن اثیر: جلد 4 صفحہ 85 تا 86 ذکر مقتل حسینؓ مطبوعہ بيروت)
ترجمہ: پھر سیدنا حسین کے خاندان کی عورتیں اندر آئیں اور سیدنا حسین کا سر ان کے سامنے تھا تو سیدہ فاطمہ اور سیدہ سکینہ بنتِ حسین آگے بڑھنے لگیں تاکہ سر کو دیکھ سکیں اور یزید کوشش کر رہا تھا کہ سر انہیں نظر نہ آئے پھر جب انہوں نے سر کو دیکھ لیا تو غم زدہ ہوئیں پس یزید کے گھر والی عورتوں کی چیخ نکل آئی اور معاویہ کی بیٹیاں بھی رونے لگیں پھر سیدہ فاطمہ بنتِ حسین نے کہا جو سیدہ سکینہ سے بڑی تھیں اے یزید! رسول اللہ کی بیٹیاں قیدی؟ کہنے لگا اے بھتیجی میں بھی اسے ناپسند سمجھتا ہوں کہنے لگیں خدا کی قسم ہمارے لیے ایک بالی بھی نہیں چھوڑی کہنے لگا جو ہمارے لیے آیا ہے وہ اس سے زیادہ ہے جو تم سے لیا گیا پھر ایک شامی مرد کھڑا ہوا اور کہنے لگا یہ سیدہ فاطمہ مجھے دے دو۔
قارئین کرام! ہم نے چند کتب اہلِ سنت اور اہلِ تشیع سے سیدنا حسین کی اولاد کے بارے میں حوالہ جات ذکر کیے اس پر سب کا اتفاق ہے کہ آپ کے چار صاحبزادے اور دو صاحبزادیاں تھیں صاحبزادیوں میں بڑی کا نام سیدہ فاطمہ اور چھوٹی کا نام سیدہ سکینہ تھا اور دونوں واقعہ کربلا میں موجود تھیں اگر سیدہ فاطمہ نامی صاحبزادی کو سیدہ فاطمہ کبریٰ کہا جائے تو سیدہ فاطمہ صغریٰ سکینہ ہوں گی تیسری اور کوئی صاحبزادی نہیں اور اگر سیدہ فاطمہ کو ہی سیدہ فاطمہ صغریٰ کہا جائے پھر بھی یہ میدانِ کربلا میں موجود تھیں لہٰذا افتخار الحسن زیدی نے دو خاکِ کربلا میں صغریٰ کی فریادیں، دہاڑیں اور چیخ و پکار اور ان کی بیماری کے قصے اور وہ بھی مدینہ منورہ میں رہتے ہوئے یہ سب من گھڑت اور جھوٹ کا پلندہ ہیں حقیقت سے ان کا دور کا بھی تعلق نہیں۔ ثابت ہوا کہ سیدہ فاطمہ صغریٰ کے خطوط اور آنے جانے والوں کو دردناک لہجہ میں پیغامات دیتے سب بےاصل ہیں مدینہ منورہ میں کوئی صاحبزادی سیدنا حسینؓ کی نہیں رہی تھی۔
سوال: مذکورہ حوالہ جات سے جس سیدہ فاطمہ نامی صاحبزادی کا واقعہ کربلا میں موجود ہونا ثابت ہے وہ سیدہ فاطمہ کبریٰ تھیں جو سیدنا حسینؓ کی بڑی صاحبزادی ہیں اور مدینہ منورہ میں رہنے والی سیدہ فاطمہ صغریٰ تھیں جن کا عقد سیدنا حسنؓ کے بیٹے سیدنا حسن مثنیٰ سے ہوا تھا۔ لہٰذا سیدہ فاطمہ کبریؓ کے واقعہ کربلا میں موجود ہونے سے سیدہ فاطمہ صغریٰ کی مدینہ منورہ میں موجودگی پر کوئی اثر نہیں پڑتا سو معلوم ہوا کہ سیدہ فاطمہ صغریٰ مدینہ منورہ میں تھیں۔
جواب اول: جیسا کہ گزشتہ دونوں مکتبہ فکر کی کتب معتبرہ سے ہم ثابت کر چکے ہیں کہ سیدنا عالی مقام کی دو صاحبزادیاں تھیں ایک سیدہ فاطمہ دوسری سیدہ سکینہ ان کے علاوہ کوئی اور بیٹی نہ تھی حوالہ ملاحظہ ہو یہ حوالہ شیعہ مؤرخ کی کتاب سے ہے جو نہایت مستند سمجھی جاتی ہے۔
ناسخ التاريخ: و آن حضرت را از دو دختر افزوں نے بوند نخستین فاطمہ وآں دیگر سکینہ۔
(ناسخ التاریخ: جلد چہارم صفحہ 241 در احوال سید الشہداء و مطبوعہ تہران)
ترجمہ: سیدنا عالی مقام کی صاحبزادیاں دو سے زیادہ نہ تھیں پہلی بڑی صاحبزادی کا نام سیدہ فاطمہ اور دوسری کا نام سیدہ سکینہ تھا۔
ناسخ التاريخ:وحسین علیه السلام را دو دختر افزوں نہ بود یکے فاطمہ زوحسن مثنیٰ و آن دیگر سکینہ بود بعضے گویند اور دختر دیگر بود که زینب نام داشت
(ناسخ التواریخ: جلد دوم صفحہ 241 درا حوال سید الشہداء مطبوعہ تہران)
ترجمہ: سیدنا حسین کی صرف دو صاحبزادیاں تھیں ایک سیدہ فاطمہ جو سیدنا حسن مثنیٰ کی زوجہ تھیں اور دوسری کا نام سیدہ سکینہ ہیں اور بعض نے تیسری صاحبزادی کا ذکر بھی کیا لیکن ان کا نام سیدہ فاطمہ صغریٰ نہیں بلکہ زینب ہے۔
قارئین کرام! ناسخ التواریخ کے حوالہ سے معلوم ہوا کہ سیدنا عالی مقام کی دو صاحبزادیوں پر اکثریت متفق ہے جن کے نام سیدہ فاطمہ اور سیدہ سکینہ ہیں اور بعض نے تیسری صاحبزادی کا ذکر بھی کیا لیکن ان کا نام فاطمہ صغریٰ نہیں بلکہ سیدہ زینب تھا زیادہ مشہور قول کونسا ہے؟ ملاحظہ ہو۔
كشف الغمہ: أَمَّا الْبِنَاتُ فَزَيْنَبُ وَسَكِينَة وفاطمة هَذَا قَولُ مَشْهُورُ وَقِيلَ كَانَ لَهُ أَرْبَعُ بَنِينَ وَ بِنْتَانِ وَالْأَوَّلُ أَشْهَر
(كشف الغمه في معرفة الائمہ: جلد دوم صفحہ 38 في ذكر اولاد امام علیه السلام مطبوعه تبریز)
ترجمہ: آپ کی صاحبزادیاں سیدہ زینب اور سیدہ سکینہ اور سیدہ فاطمہ تھیں یہ قول مشہور ہے اور کہا گیا ہے کہ آپ کے چار بیٹے اور دو صاحبزادیاں تھیں اور اول زیادہ مشہور ہے چلو مان لیتے ہیں کہ آپ کی صاحبزادیاں دو نہیں بلکہ تین ہی تھیں حالانکہ دو پر سب کا اتفاق ہے تیسری صاحبزادی کا جن مؤرخین نے ذکر کیا انہوں نے بھی صاف صاف اس کا نام سیدہ زینب لکھا ہے سیدہ فاطمہ نام کی صاحبزادی آپ کی صرف ایک ہی تھی اس لیے سیدہ زینب کو سیدہ فاطمہ صغریٰ قرار دینا بالکل غلط ہے اور جو اصل سیدہ فاطمہ تھیں وہ میدانِ کربلا میں موجود تھیں اور سیدہ سکینہ بھی واقعہ کربلا میں موجود تھیں۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ سیدہ فاطمہ صغریٰ کا واقعہ کربلا کے وقت مدینہ طیبہ میں موجود ہونا ہرگز ثابت نہیں اور نہ ہی ان تمام واقعات کا جو اس نام سے منسوب ہیں یہ قصہ بات صرف واعظین نے گھڑے ہیں تاکہ حاضرین کو رلائیں اور اپنا نام روشن ہو کہ فلاں مقرر نے کیا رنگ باندھا اور مدینہ منورہ میں سیدہ فاطمہ صغریٰ کو چھوڑ جانا از روئے نقل تو آپ پڑھ چکے بالکل غلط اور کذب بیانی ہے از روئے عقل بھی جھوٹ ہے کیونکہ جب سیدنا عالی مقام اپنے تمام اہل و عیال کو ساتھ لے جا رہے ہیں سیدہ صغریٰ کو کیوں نہ ساتھ لیا اور پھر ان کی بیماری کی حالت میں کس کے سپرد کر کے جا رہے ہیں؟
جواب دوم: اگر بفرض محال تسلیم کر لیا جائے کہ سیدنا حسینؓ کی فاطمہ نامی دو صاحبزادیاں تھیں تو تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ آپ کی دونوں صاحبزادیاں واقعہ کربلا میں موجود تھیں جیسا کہ ناسخ التواریخ جلد سوم صفحہ 42 تا 47 پر خطبہ سیدہ فاطمہ الصغرىٰ نقل کیا ہے جو انہوں نے بازار کوفہ میں پڑھا۔
ناسخ التواريخ: استدعى ابنته فاطمة الكبرى وَأَوْدِعَ عِندَها صَحِيفَةٌ مَلْفُوفَةٌ وَوَصِيَّة ظَاهِرَة لِأَنَّ عَلَى بن الحسين كان فيه مَرَضُ الْإِسْهَال وَكَانَ النَّاسُ لَا يَظُنُّونَ بِهِ الصَّحَةَ فِي مَرَضِهِ فَلَمَّا شَفى مِنْ مَرَضِهِ سَلَمَتُهُ اخْتُهُ الْوَصِيَّةَ وَالصَّحِيفَةَ وَهِيَ الآن عِنْدَنَا۔
(ناسخ التواريخ: جلد دوم در احوالات شہيد الشہداء صفحہ 362 سپردن اسرارِ امامت )
ترجمہ: علی بن حسین نے اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ کبریٰ کو بلا کر انہیں ایک لپٹا ہو خط اور وصیت نامہ سپرد فرمایا کیونکہ علی بن حسین ان دنوں مرض اسہال میں تھے اور لوگوں کا خیال تھا کہ وہ تندرست نہیں ہوں گے جب وہ بیماری سے صحت یاب ہو گئے تو ان کی ہمشیرہ نے انہیں وصیت نامہ اور لفافہ سپرد کر دیا اور وہ اب ہمارے پاس محفوظ ہے مذکورہ حوالہ جات سے بھی معلوم ہوا کہ سیدنا عالی مقام کی اگر دو صاحبزادیاں سیدہ فاطمہ کبریٰ اور سیدہ فاطمہ صغریٰ تسلیم کر لی جائیں تب بھی شیعہ ذاکرین اور سنی واعظین کا مقصد حاصل نہیں ہوتا کیونکہ سیدہ فاطمہ صغریٰ کی جو درد ناک داستان بیان کی باتی ہے وہ مدینہ منورہ میں پیچھے رہ جانے والی بیان کی جاتی ہیں اور ان حوالہ جات دونوں صاحبزادیوں کا واقعہ کربلا میں موجود ہونا ثابت ہوتا ہے۔
نوٹ: سیدنا علیؓ کی دو صاحبزادیوں کا نام سیدہ فاطمہ کبریٰ اور سیدہ فاطمہ صغریٰ بتانا اور پھر سیدہ فاطمہ صغریٰ کا بازار کوفہ میں خطبہ دینا اور سیدہ فاطمہ کبریٰ کو سیدنا حسینؓ کا وصیت نامہ عطا کرنا اس میں یا تو کاتب کو غلطی لگی ہے کہ اسے کُبری اور صُغری کے نام سے آپ کی دو بیٹیوں کا میدان کربلا میں موجود ہونا ذکر کیا یا پھر اصول کافی کے ترجمہ میں مرزا تقی نے غلطی کی ہو کیونکہ گذشتہ حوالہ جات میں آپ پڑھ چکے ہیں کی منتخب التواریخ کے مطابق آپ کے وصیت نامہ کو لینے والی صاحبزادی عمر میں بڑی سیدہ فاطمہ نامی تھیں اس بڑائی کی وجہ سے اسے کبریٰ لکھا گیا ہو لیکن چھوٹی صاحبزادی عمر میں صغریٰ تو ہو سکتی ہے لیکن ان کا نام سیدہ سکینہ تھا وہ سیدہ فاطمہ صغریٰ نہیں بن سکتیں تیسری لڑکی تھی ہی نہیں اگر تھی بھی تو اس کا نام سیدہ زینب تھا تاریخ الائمہ صفحہ 280 میں لکھا ہے کہ آپ کی صاحبزادیوں میں سے بڑی سیدہ فاطمہ کی شادی سیدنا حسن کے بیٹے سیدنا حسن مثنیٰ سے ہوئی تھی اور چھوٹی سیدہ سکینہ نامی کی شادی انہی کے بیٹے سیدنا عبداللہ سے ہوئی تھی۔
(اعلام الوریٰ صفحہ 127 لہٰذا حقیقت یہ ہے کہ جس صاحبزادی کو اپنے وصیت نامہ دیا اور جس نے کوفہ کے بازار میں خطبہ دیا وہ ایک ہی تھیں ان کا نام سیدہ فاطمہ بنتِ حسین تھا ان کی چھوٹی ہمشیرہ سیدہ سکینہ نامی بھی میدان کربلا میں موجود تھیں۔
قارئین کرام! آپ نے واقعہ سیدہ فاطمہ صغریٰ کی حقیقت کو ملاحظہ فرما لیا کہ جس میں ذرا بھر بھی سچائی کا وجود نہیں پایا جاتا اول تا آخر جھوٹ کا پلندہ ہے جس میں صرف مرثیہ خانوں اور نوحہ خوانی کے لیے بہترین رولانے اور پٹانے کا موقعہ مہیا کیا ہے اور شیعہ لوگوں کی حوصلہ افزائی اور ان کی سچائی کو داد دی ہے اس کے علاوہ اسی مصنف صاحبزادہ افتخار الحسن نے اپنی اسی کتاب میں جو کربلا کی دسویں رات کا واقعہ نقل کیا ہے اس میں بھی نوحہ خوانی اور مرثیہ خوانی کے ذریعہ خوب رولانے پٹانے کی کوشش کی ہے کہ جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
خاکِ کربلا: نواسہ رسولﷺ نے دعا کے بعد مدینہ پاک کی جانب نگاہ اٹھائی، گنبد خضریٰ کا تصور کیا اور تربت زہرا کا نقشہ آنکھوں میں سمویا تو۔
نظر آیا کہ شاہِ دوسرا تشریف لائے ہیں۔
برہنہ پاگروہِ انبیاء کے ساتھ آئے ہیں۔
قریب آ کر نواسے کو لگایا اپنے سینے سے۔
بٹھا کر گود میں پھر یوں کہا دل کے نگینے سے۔
کہ: خلیل اللہ کی سنت اب مکمل ہونے والی ہے۔
تیرے غم میں یہ دنیا تا قیامت رونے والی ہے۔
اٹھے خنجر تو بیٹا تم سر اقدس جھکا دینا۔
میری چومی ہوئی گردن خوشی سے تم کٹا دینا۔
آدھی رات ہو چکی تھی اور ہر طرف خاموشی ہی خاموشی تھی سیدنا حسین نے جلدی سے سر اٹھایا مصلے سے اٹھے اور شہزادہ سیدنا علی اکبر کو فرمایا بیٹا جاؤ اور میدانِ کربلا کا نقشہ دیکھ آؤ شہزادہ سیدنا علی اکبر اٹھے اور رات کی خاموشی میں میدانِ کربلا کے چاروں طرف نگاہ دوڑائی میدان کے وسط میں دیکھا کہ ایک برقع پوش خاتون اپنے دامن سے کربلا کی زمین کو صاف کر رہی ہے سیدنا علی اکبر اس خاتون کے پاس آئے اور پوچھ اسے بی بی تو کون ہے اور زمینِ کربلا کو کیوں جھاڑتی ہے؟ خاتون خاموش رہی سیدنا علی اکبر واپس آئے سیدنا عالی مقام نے پوچھا سیدنا علی اکبر میدانِ کربلا میں کوئی چیز نظر آئی عرض کی ہاں حضور میدان کے وسط میں ایک برقع پوش خاتون ہے جو اپنی چادر سے زمین کو حھاڑ رہی ہے میں نے قریب جا کر اس خاتون سے پوچھا کہ آپ کون ہیں اور زمین کو کیوں جھاڑ رہی ہے مگر وہ بولی نہیں سیدنا حسین کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں بیٹے نے پوچھا ابا جان آپ رونے کیوں لگے تو سیدنا پاک نے فرمایا بیٹا یہ مری ماں سیدہ فاطمہ ہے جو اپنی چادر سے زمین کربلا کو اس لئے صاف کر رہی ہے تا کہ میرے بیٹے حسین کے جسم پر کوئی کنکر نہ چبھ جائے کہ اس مقتل میں لیٹے گا صبح لختِ جگر میرا
یہاں تڑپے گا بے گور و کفن نورِ نظر میرا
قارئین کرام! میدانِ کربلا میں سیدہ فاطمہؓ کا تشریف لانا زمین کو ہموار کرنا وغیرہ یہ سب ایسی باتیں ہیں جن کا ذکر کسی ایک بھی صحیح روایت میں نہیں ملتا سیدنا علی اکبر سے سیدنا عالی مقام کا رو رو کر فرمانا کہ یہ تیری والدہ محترمہ ہیں آخر اس سے کیا ثابت کیا جا رہا ہے؟ یہی کہ سامعین کو خوب رو لایا جائے اور نوحہ خوانی کی طرح ڈالی جائے ایسے غلط اور جھوٹ پر مبنی واقعات سے خاندان اہلِ بیت کی خوشنودی تو کجا بلکہ ان کی ناراضگی حاصل ہوتی ہے کیونکہ ان حضرات نے نہ جھوٹ بولا اور نہ جھوٹ کو پسند فرمایا افتخار الحسن وغیرہ کا ایسے فرضی واقعات بیان کرنے کا مقصد جلسہ کو گرمانا اور لوگوں میں غمِ سیدنا حسین بھرنا ہے اللہ تعالیٰ ہمارے مصنفین کو آلِ بیت پاک کے صحیح مقام منصب کے مطابق ان کے بارے میں صحیح روایات و تحقیق لکھنے اور بیان کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنی واہ واہ سے ان حضرات کی گستاخی سے بچائے۔
فاعتبروا يا اولى الابصار