سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کا لال مصنفہ مفتی حبیب…

سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کا لال مصنفہ مفتی حبیب سیالکوٹی

  محمد علی

صفحہ 2 از 6

 خلاصہ: سیدہ صُغریٰ بچی تھی جس کو عالی مقام بچی ہونے کی وجہ سے پیچھے چھوڑ گئے تھے وہ ہر وقت روتی رہتی ہر کوفہ جانے والے کو اپنا درد سناتی اپنی داستان پیش کرتی وہاں جانے کی تمنا کرتی اور ایسے درد بھرے الفاظ کہتی کہ ہر سننے والا رونے لگتا اور کہتی کہ یہاں مجھ غریب کا پوچھنے والا کوئی نہیں میں اکیلی غموں کے پہاڑ میں پھنسی ہوئی ہوں وغیرہ وغیرہ یعنی مدینہ منورہ میں جس قدر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اہلِ بیت کے افراد تھے ان میں کسی کو اس بچی پر ترس نہ آتا نہ اس کا کوئی پرسان حال ہوتا اس قصہ کو سنی واعظ جب بیان کرتے ہیں تو اس میں خوب رنگ بھرنے کے لیے اور اپنے واعظ کا رنگ جمانے کے لیے غمناک اشعار اور وہ بھی ترنم سے گائے جاتے ہیں اس واقعہ کو زبانی بیان کرنے کے علاوہ تحریری طور پر بھی سنی علماء نے بیان کیا اس واقعہ کو چونکہ رونے رلانے کے لیے بہت بڑھا چڑھا کر اور جھوٹ موٹ بنا کر پیش کیا جاتا ہے لہٰذا میں نے چاہا کہ اس کی حقیقت واضح کروں جس کو پڑھ کر آپ خود جان جائیں گے کہ واعظین و ذاکرین کہتے کیا ہیں اور اس کی حقیقی تصویر کیا ہے؟ 

سیدہ صغریٰ بنتِ حسین تاریخ کی نظر میں: سیدنا حسین کی اولاد کے بارے میں کمی بیشی کا ذکر مرزا تقی صاحب ناسخ التواریخ نے کیا ہے لیکن ارشاد شیخ مفید اعلام الوریٰ جو کہ طبری کی تصنیف ہے اور عمدۃ الطالب احمد بن مہنی وغیرہ شیعہ علماء نے آپ کے اولاد کی تعداد چھ بتائی ہے چار لڑکے اور دولڑکیاں ملاحظہ ہو۔

منتخب التواريخ: شیخ مینی در ارشاد و امین الاسلام طبرسی در اعلام الورٰی واحمد بن مہنی در عمدة الطالب و بعض دیگر از علماء اعلام فرموده اندکه آنحضرت پیش اولاد واشته چہار پسرود و دختر جناب علی بن حسین الاکبر کہ کنیت اش ابو محمد بوده علی بن حسین الاصغر کہ کنیتش ابوالحسن بوده و در کربلا شہید شده و جعفر بن الحسين وعبد الله بن الحسین و مخدره فاطمه خاتون و مکرمه سکینه خاتون بنتی الحسین

(منتخب التواريخ صفحہ 242 باب پنجم فصل پنجم در اولاد امجاد سید الشہداء اسمائے شریعہ ان مطبوعہ طہران)

 ترجمہ: شیخ مفید نے ارشاد میں اور امین الاسلام طبرسی نے اعلام الوریٰ میں اور احمد بن مہنی نے عمدة المطالب میں اور بعض دیگر مشہور علماء نے فرمایا ہے سیدنا حسینؓ کے چھ بچے تھے چار لڑکے اور دو لڑکیاں سیدنا علی بن حسین اکبرؓ جن کی کنیت ابو محمد تھی سیدنا علی بن حسین اصغر جن کی کنیت ابوالحسن تھی اور دونوں کربلا میں شہید ہوئے تھے سیدنا جعفر بن حسین اور سیدنا عبدالرحمٰن بن حسین ایک صاحبزادی سیدہ فاطمہ خاتون اور دوسری سیدہ سکینہ تھی۔

 قارئین کرام حوالہ مندرجہ بالا اس کتاب کا ہے کہ جس کے ٹائٹل پر لکھا ہوا ہے کہ یہ تاریخ کی ایسی کتاب ہے جو اصول معتبرہ تاریخ معتبرہ کے واقعات پر مشتمل ہے اور اس کا مصنف العالم العامل الشقه الجليل الکامل، ركن الاسلام والمسلين محمد ہاشم بن على خراسانی ہے۔

تاریخ ائمہ: سیدنا حسین کی پانچ بیویوں سے چھ اولاد تھی چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہوئیں پہلی زوجہ سیدہ شہربانو سے سیدنا زین العابدین دوسری زوجہ سیدہ لیلیٰ سے سیدنا علی اکبر تھے جو کربلا میں شہید ہوئے تیسری زوجہ قبیلہ قضاعہ سے تھیں جن سے ایک فرزند سیدنا جعفر پیدا ہوئے تھے چوتھی زوجہ سیدہ زباب سے سیدنا علی اصغر اور چھوٹی بیٹی سیدہ سکینہ تھی پانچویں زوجہ سے سیدہ اُم اسحاق سے بڑی بیٹی سیدہ فاطمہ تھی۔ (ارشاد القلوب: صفحہ 277 ) 

سیدنا علی اصغر کربلا میں تیر کھا کر شہید ہوئے اور دونوں صاحبزادیوں میں سے بڑی سیدہ فاطمہ کی شادی سیدنا حسنؓ کے بیٹے سیدنا حسن مثنیٰ کے ساتھ کربلا سے پہلے سیدہ سکینہ کی شادی سیدنا حسن کے بیٹے سیدنا عبداللہ کے ساتھ واقعہ کربلا سے پہلے ہوچکی تھی۔ 

(تاریخ ائمہ: صفحہ 280 مصنفه علی حیدر نقوی کتب خانہ شاه نجف لاہور اندرون موچی دروازه)

سیدنا حسین کی اولاد کا ذکر
بحار الانوار: عَدَدُ أَوْلَادِه صلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِ وَجْعَلُ أَحْوَالِهِمْ وَاحوَالُ أَزْوَاجِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَقَدْ أَوْرَدْنَا بَعْضَ أَحْوَالَهُنَّ فِي بَابِ تَارِيخِ السَّجَادِ عليه السلام كان لِلْحُسَينِ عليه السلام سنة اولاد على بن الحسين الاكبر كنيته أبو محمد امه شهربانو بنت کسرٰی یزدجرد وعلى بن الحسين الاصغر قُتِلَ مَع أبيه بالطف وَقَد تَقَدَّمَ ذِكْرُهُ فِيمَا سَلَفَ وَأُمُّهُ لَيْلَىٰ بنت الي مرة بن عروة بن مسعود الثقفية وجعفر بن الحسين لا بقيَّةَ لَهُ وَأُمه قضاعية وكانت وَفَاتُه في حيٰوة الحسين وعبد الله بن الحسين قُتِلَ مَعَ أَبِيهِ صَغِيرَا جَاءسَهُمْ وَهُوَ فِي حَجْرٍ أَبِيهِ فَذَبَحَة و سكينه بنت الحسين وأمها امام بنت امراء القيس بن عدى كلبية معدية و هي أم عبد الله ابن الحسين و فاطمة بنت الحسين وأمها ام اسحاق بنت طلحة بن عبد الله تميمية. 

(بحار الانوار: جلد 1 صفحہ 303 قلمی تاریخ سیدنا حسین ابنِ علیؓ وعدد اولاد مطبوعه ایران قدیم)

ترجمہ: حسین کی اولاد اور ان کے حالات آپ کی بیویوں کے بعض حالات ہم تاریخ سجاد میں بیان کر چکے ہیں۔ سیدنا حسین کے چھ بچے تھے۔ 

  1. سیدنا علی بن حسین اکبر ان کی کنیت ابو محمد ہے۔ ماں کا نام سیدہ شہر بانو دختر کسریٰ یزد جرد ہے۔
  2.  سیدنا علی بن حسین اصغر جو اپنے والد کے ساتھ مقامِ کربلا میں شہید کر دیے گئے ان کا تذکرہ گزر چکا ہے ان کی والدہ کا نام سیدہ اُم لیلیٰ بنت ابی مرة بن عروہ بن سعد ثقفی تھا۔ 
  3. سیدنا جعفر بن حسین ان کی نسل آگے نہ چلی ان کی والدہ قضاعیہ سے تھیں ان کی وفات سیدنا حسین کی زندگی میں ہو گئی تھی۔ 
  4. سیدنا عبد اللہ بن حسین جو اپنے والد کے ساتھ بچپن میں شہید کر دیے گئے اس طرح کہ ایک تیر ان کی طرف آیا جبکہ آپ سیدنا حسینؓ کی گود میں تھے اس تیر نے انہیں شہید کر دیا۔ 
  5.  سیدہ سکینہ بنت حسین ان کی والدہ کا نام سیدہ رباب بنت امراء القیس بن عدی کلبی سعدیہ تھا اور یہی سیدنا عبداللہ بن حسین کی والدہ تھیں۔ 
  6. (سیدہ فاطمه بنتِ حسین ان کی والدہ کا نام سیدہ اُم اسحاق بنتِ طلحہ بن عبدالله تمیمی تھا۔ 
صفحہ 2 از 6