سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کا لال مصنفہ مفتی حبیب…

سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کا لال مصنفہ مفتی حبیب سیالکوٹی

  محمد علی

صفحہ 3 از 6

ناسخ التواريخ: ازایں حدیث مکشوف افتاد که حدیث دامادی قاسم بن حسن در کربلا و تزویج کرون حسین علیه السلام فاطمه را باد ازا کاذیب رواه است و حسین علیه السلام رادو دختر افزوں بود یکے فاطمہ زوجہ حسن مثنیؓ واں دیگر سکینه بود۔

( ناسخ التواریخ جلد دوم صفحہ 324 شرح حال ابنِ حسین علیهم السلام مطبوعه تہران)

ترجمہ: اس حدیث سے واضح ہوا کہ سیدنا قاسم بن محمد کا میدان کربلا میں سیدنا حسینؓ داماد بننا اور سیدنا حسینؓ کی شادی کربلا میں ان سے سر انجام پانا راویوں کی بکواسات میں سے ہے۔ سیدنا حسینؓ کی دو صاحبزادیاں تھیں ایک سیدہ فاطمہ زوجہ حسن مثنیٰ اور دوسری سیدہ سکینہ تھی۔ 

قارئین کرام! ان معتبر اور مشہور تواریخ شیعہ سے واضح ہوا کہ سیدنا حسینؓ کی صرف دو صاحبزادیاں تھیں ایک سیدہ فاطمہؓ جو سیدنا حسنؓ کے بیٹے سیدنا حسن مثنیٰ کی زوجہ تھیں اور دوسری صاحبزادی کا نام سیدہ سکینہؓ تھا ان کی شادی سیدنا حسنؓ کے دوسرے صاحبزادے  سیدنا عبداللہ سے ہوئی تھی۔

سیدنا حسینؓ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ واقعہ کربلا میں موجود تھیں (از کتب سنی و شیعہ 
حوالہ نمبر 1 متنخب التواريخ:

 و کافی است در فضیلت ابی مخذره که حضرت سید الشهداء و صببت خطش دا بایں مخدره سپرد چنانچه در اصول کافی ازحضرت زین العابدین مرض اسهال داشت و مردم گمان نمیبردند که ازآں مرض صحت یا بدوبعد از صحت جناب فاطمہ وصیت نامه را بوی تسلیم کر دووا کنوں آں وصیت خط نزد ماموجو داست۔

 (منتخب التواريخ: صفحہ 243 باب فصل پنجم در ذکر اولاد سید الشہداء مطبوعه تہران) 

ترجمہ: سیده فاطمہ بنتِ حسین کی فضیلت کے لیے یہی ایک واقعہ کافی ہے کہ سیدنا حسین نے وصیت نامہ ان کے سپرد فرمایا جیسا کہ سیدنا باقر سے اصول کافی میں روایت کیا گیا ہے کہ جب سیدنا حسین اپنی شہادت کے وقت وصیت نامہ انہیں عطاء فرمایا جب سیدنا زین العابدین پیچش کے مرض میں مبتلا تھے لوگوں کا یہ خیال نہیں تھا کہ وہ تندرست ہوں گے سیدہ فاطمہ بنتِ حسین نے وصیت نامہ ان کے سپرد کر دیا اور اب اس وصیت نامہ کی تحریر ہمارے پاس موجود ہے یہ حوالہ واضح طور پر بتا رہا ہے کہ سیدہ فاطمہؓم میدانِ کربلا میں موجود تھیں آپ کو سیدنا حسین نے بوقت شہادت وصیت نامہ عطا فرمایا اگر یہ مخدره مدینہ منوره کو امام تشریف فرما ہوتیں تو بوقت شہادت وصیت نامہ ان کے سپرد نہ ہوتا۔ 

حوالہ نمبر 2 ناسخ التواريخ: ایں ہنگام بروایت ابنِ طاؤس از مردم شام مردے سرخروئے برخاست دروئے بایزید کرد و گفت یا امیر المومنین این کینزک رابمن بخش و از ایں سخن فاطمہ دختر حسین را خواست فاطمه چون ایں بشنید بر خویشتن بلرزید و دامن عمه خود زینب را بگرفت۔ 

(ناسخ التواریخ در احوالات سید الشہداءؓ جلد سوم صفحہ 141 طلب کردن شامی فاطمهؓ را بکتیری مطبوعه تہران جدید)

ترجمہ: اس وقت ابنِ طاوس کی روایت کے مطابق ایک سرخ چہرے والا شامی اٹھا اور یزید کی طرف منہ کر کے کہنے لگا اے امیر المؤمنین! یہ لڑکی مجھے عنایت کر دو وہ سیدہ فاطمہ بنتِ حسین کو مانگ رہا تھا جب سیدہ فاطمہ نے سنا توان پر کپکپی طاری ہو گئی اور اپنی پھوپھی سیدہ زینب کا دامن تھام لیا۔ 

حوالہ نمبر 3 بحار الانوار: عن عبد الله بن الحسن عن أمه فاطمة بنت الحسين قَالَ دَخَلَتِ الْعَامَةُ عَلَيْنَا القسنطاس وان جَارِيَةٌ صَغِيرَةٌ وَفِي رجْلِي خَلخَا لَان مِنْ ذَهَبٍ فَجَعَلَ رَجُلٌ يَفَضُّ خَلَخالَيْنِ مِنْ رِجْلِي وَهُوَ يَبكی فَقُلْتُ مَا يُبْكِيكَ يَا عَدُواللَّهِ ؟ فَقَالَ كَيْفَ لَا ابْكِي وَأَنَا أَسْلُبُ بِئْتَ رسول الله فَقُلْتُ لَا تَلُبْنِي قَالَ أَخَافَ أَنْ يَحْيَى غَيْرِي فَيَأْخُذُهُ۔

(بحار الانوار: جلد 11 صفحہ 236 ماجرى عليه بعد بيعة الناس وليزيد

ترجمہ: سیدہ فاطمہ بنتِ حسین سے ان کے بیٹے سیدنا عبداللہ بن حسن بیان کرتے ہیں میں چھوٹی عمر کی تھی پر کچھ لوگ ہمارے پاس آئے اس وقت میرے پاؤں میں سونے کی دو جھانجریں تھیں ایک شخص میری جھانجروں کو میرے پاؤں سے اتارنا چاہتا تھا اور وہ رو بھی رہا تھا میں نے پوچھا کیوں رو رہے ہو اے اللہ کے دشمن! کہنے لگا روؤں کیوں نہ حالانکہ میں رسول اللہ کی بیٹی کے پاؤوں سے زیور اتارنا چاہتا ہوں میں نے کہا پھر نہ اتار کہنے لگا مجھے ڈر ہے کہ کوئی آ کر انہیں اتار کر لے جائے گا۔ 

حوالہ نمبر 4 بحار الانوار: قال على ابن الحسين أدخلنا على يزيد وَنَحْنُ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا مُغَلَّلُونَ فَلَمَّ وَقَفَنَا بَيْنَ يَدَيْهِ قُلْتُ انْشِدُكَ الله يا يزيد ما ظنك برسول الله دَوْرَأَنَا عَلَى هَذِهِ الْحَالِ وَقَالَتْ فاطمة بنت حسين يا يزيد بنات رسول الله سَبَايَا فَبَكَى النَّاسُ وَ بكي اهل الدار۔

 (بحار الانوار: جلد 11 صفحہ 250 مطبوعہ ایران قدیم الوقائع المتاخره عن قتلہ) 

ترجمہ: سیدنا علی بن حسین بیان کرتے ہیں کہ ہم بارہ آدمیوں کو گلے میں طوق ڈال کر یزید کے سامنے حاضر کیا گیا جب ہم اس کے سامنے کھڑے تھے تو میں نے کہا یزید تجھے اللہ کی قسم تو بتا کہ اگر ہمیں رسول اللہ اس حالت میں دیکھتے تو تو کیا گمان کرتا اور سیدہ فاطمہ بنتِ حسین نے کہا اے یزید! رسول اللہ کی بیٹیاں قیدی؟ پس لوگ بھی رو پڑے اور گھر والے بھی رو دیے۔

حوالہ نمبر 5 البدايہ والنهايہ: فَلَمَّا دَخَلَتِ النِّسَاءُ على يزيد قالت فاطمة بنتِ الحسين وكانَتْ أَكْبَرَ مِنْ سَكِينَةَ يا يزيد بنات رسول الله سَبَايَا فَقَالَ يَزِيدُ يَا ابْنَةَ أَخِي أَنَا لهٰذا كنتُ اكره۔

(البدايہ والنهايہ: جلد هشتم صفحہ 196مطبوعہ بیروت) 

ترجمہ: جب مستوراتِ اہلِ بیت یزید کے دربار میں آئیں تو سیدہ فاطمہ بنتِ حسین نے جو سیدہ سکینہ سے بڑی تھیں کہا اے یزید! رسول اللہ کی بیٹیاں قیدی؟ یزید کہنے لگا اے بھتیجی میں بھی اسے پسند نہیں کرتا ہوں۔ 

حوالہ نمبر 6 کامل ابنِ اثیر: ثُمَّ ادْخِلَ نِسَاء الْحُسَيْنِ وَالرَّأْسُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَجَعَلَتْ فَاطِمَةً وَسَكِينَةُ ابْنَتَا الْحُسَينِ لتتطاولان لِتَنظر إلى الرأس

صفحہ 3 از 6