سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کا لال مصنفہ مفتی حبیب…

سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کا لال مصنفہ مفتی حبیب سیالکوٹی

  محمد علی

صفحہ 4 از 6

وَجَعَلَ يزيد يتطاول يَسْتَرْ عَنْهُمَا الراس فَلَمَّا رَأَيْنَ الرَّأْسَ صَدَّنَ فَصَاحَ نِسَاءُ يَزِيد وَوَكوَلَ بِنَاتَ مُعَاوِيَة فَقَالَتْ فاطمة وسکینة بنتا الحسين تتطاولان لتنظر الی الرأس وجعل یزید یتطاول یسترعنھما الرأس صحن فصاح فساء یزید وولول بنات معاویة فقالت فاطمہ بنت الحسین وَكَانَتْ أكْبَرَ مِنْ سَكِينَةَ أَبِناتُ رسول الله سبايا يا يزيد فَقَالَ يا ابنت اخي انا لِهٰذَا كُنْتُ أَكْرَهُ قَالَتْ وَاللَّهِ مَا تَرَكَ لَنَا خَرَسٌ فَقَالَ مَا اتى إِلَيْكُنَّ أَعْظَمَ مِمَّا أُخِذَ مِنْكُنَّ فَقَامَ رَجُلٌ مِّنْ أَهْلِ الشامِ فَقَالَ هَبْ لِي هَذِهِ يَعني فاطمة

(کامل ابن اثیر: جلد 4 صفحہ 85 تا 86 ذکر مقتل حسینؓ مطبوعہ بيروت) 

ترجمہ: پھر سیدنا حسین کے خاندان کی عورتیں اندر آئیں اور سیدنا حسین کا سر ان کے سامنے تھا تو سیدہ فاطمہ اور سیدہ سکینہ بنتِ حسین آگے بڑھنے لگیں تاکہ سر کو دیکھ سکیں اور یزید کوشش کر رہا تھا کہ سر انہیں نظر نہ آئے پھر جب انہوں نے سر کو دیکھ لیا تو غم زدہ ہوئیں پس یزید کے گھر والی عورتوں کی چیخ نکل آئی اور معاویہ کی بیٹیاں بھی رونے لگیں پھر سیدہ فاطمہ بنتِ حسین نے کہا جو سیدہ سکینہ سے بڑی تھیں اے یزید! رسول اللہ کی بیٹیاں قیدی؟ کہنے لگا اے بھتیجی میں بھی اسے ناپسند سمجھتا ہوں کہنے لگیں خدا کی قسم ہمارے لیے ایک بالی بھی نہیں چھوڑی کہنے لگا جو ہمارے لیے آیا ہے وہ اس سے زیادہ ہے جو تم سے لیا گیا پھر ایک شامی مرد کھڑا ہوا اور کہنے لگا یہ سیدہ فاطمہ مجھے دے دو۔

قارئین کرام! ہم نے چند کتب اہلِ سنت اور اہلِ تشیع سے سیدنا حسین کی اولاد کے بارے میں حوالہ جات ذکر کیے اس پر سب کا اتفاق ہے کہ آپ کے چار صاحبزادے اور دو صاحبزادیاں تھیں صاحبزادیوں میں بڑی کا نام سیدہ فاطمہ اور چھوٹی کا نام سیدہ سکینہ تھا اور دونوں واقعہ کربلا میں موجود تھیں اگر سیدہ فاطمہ نامی صاحبزادی کو سیدہ فاطمہ کبریٰ کہا جائے تو سیدہ فاطمہ صغریٰ سکینہ ہوں گی تیسری اور کوئی صاحبزادی نہیں اور اگر سیدہ فاطمہ کو ہی سیدہ فاطمہ صغریٰ کہا جائے پھر بھی یہ میدانِ کربلا میں موجود تھیں لہٰذا افتخار الحسن زیدی نے دو خاکِ کربلا میں صغریٰ کی فریادیں، دہاڑیں اور چیخ و پکار اور ان کی بیماری کے قصے اور وہ بھی مدینہ منورہ میں رہتے ہوئے یہ سب من گھڑت اور جھوٹ کا پلندہ ہیں حقیقت سے ان کا دور کا بھی تعلق نہیں۔ ثابت ہوا کہ سیدہ فاطمہ صغریٰ کے خطوط اور آنے جانے والوں کو دردناک لہجہ میں پیغامات دیتے سب بےاصل ہیں مدینہ منورہ میں کوئی صاحبزادی سیدنا حسینؓ کی نہیں رہی تھی۔ 

سوال: مذکورہ حوالہ جات سے جس سیدہ فاطمہ نامی صاحبزادی کا واقعہ کربلا میں موجود ہونا ثابت ہے وہ سیدہ فاطمہ کبریٰ تھیں جو سیدنا حسینؓ کی بڑی صاحبزادی ہیں اور مدینہ منورہ میں رہنے والی سیدہ فاطمہ صغریٰ تھیں جن کا عقد سیدنا حسنؓ کے بیٹے سیدنا حسن مثنیٰ سے ہوا تھا۔ لہٰذا سیدہ فاطمہ کبریؓ کے واقعہ کربلا میں موجود ہونے سے سیدہ فاطمہ صغریٰ کی مدینہ منورہ میں موجودگی پر کوئی اثر نہیں پڑتا سو معلوم ہوا کہ سیدہ فاطمہ صغریٰ مدینہ منورہ میں تھیں۔

جواب اول: جیسا کہ گزشتہ دونوں مکتبہ فکر کی کتب معتبرہ سے ہم ثابت کر چکے ہیں کہ سیدنا عالی مقام کی دو صاحبزادیاں تھیں ایک سیدہ فاطمہ دوسری سیدہ سکینہ ان کے علاوہ کوئی اور بیٹی نہ تھی حوالہ ملاحظہ ہو یہ حوالہ شیعہ مؤرخ کی کتاب سے ہے جو نہایت مستند سمجھی جاتی ہے۔

ناسخ التاريخ: و آن حضرت را از دو دختر افزوں نے بوند نخستین فاطمہ وآں دیگر سکینہ۔

 (ناسخ التاریخ: جلد چہارم صفحہ 241 در احوال سید الشہداء و مطبوعہ تہران) 

ترجمہ: سیدنا عالی مقام کی صاحبزادیاں دو سے زیادہ نہ تھیں پہلی بڑی صاحبزادی کا نام سیدہ فاطمہ اور دوسری کا نام سیدہ سکینہ تھا۔

 ناسخ التاريخ:وحسین علیه السلام را دو دختر افزوں نہ بود یکے فاطمہ زوحسن مثنیٰ و آن دیگر سکینہ بود بعضے گویند اور دختر دیگر بود که زینب نام داشت 

(ناسخ التواریخ: جلد دوم صفحہ 241 درا حوال سید الشہداء مطبوعہ تہران) 

ترجمہ: سیدنا حسین کی صرف دو صاحبزادیاں تھیں ایک سیدہ فاطمہ جو سیدنا حسن مثنیٰ کی زوجہ تھیں اور دوسری کا نام سیدہ سکینہ ہیں اور بعض نے تیسری صاحبزادی کا ذکر بھی کیا لیکن ان کا نام سیدہ فاطمہ صغریٰ نہیں بلکہ زینب ہے۔

قارئین کرام! ناسخ التواریخ کے حوالہ سے معلوم ہوا کہ سیدنا عالی مقام کی دو صاحبزادیوں پر اکثریت متفق ہے جن کے نام سیدہ فاطمہ اور سیدہ سکینہ ہیں اور بعض نے تیسری صاحبزادی کا ذکر بھی کیا لیکن ان کا نام فاطمہ صغریٰ نہیں بلکہ سیدہ زینب تھا زیادہ مشہور قول کونسا ہے؟ ملاحظہ ہو۔ 

كشف الغمہ: أَمَّا الْبِنَاتُ فَزَيْنَبُ وَسَكِينَة وفاطمة هَذَا قَولُ مَشْهُورُ وَقِيلَ كَانَ لَهُ أَرْبَعُ بَنِينَ وَ بِنْتَانِ وَالْأَوَّلُ أَشْهَر

(كشف الغمه في معرفة الائمہ: جلد دوم صفحہ 38 في ذكر اولاد امام علیه السلام مطبوعه تبریز) 

صفحہ 4 از 6