سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کا لال مصنفہ مفتی حبیب…

سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کا لال مصنفہ مفتی حبیب سیالکوٹی

  محمد علی

صفحہ 5 از 6

ترجمہ: آپ کی صاحبزادیاں سیدہ زینب اور سیدہ سکینہ اور سیدہ فاطمہ تھیں یہ قول مشہور ہے اور کہا گیا ہے کہ آپ کے چار بیٹے اور دو صاحبزادیاں تھیں اور اول زیادہ مشہور ہے چلو مان لیتے ہیں کہ آپ کی صاحبزادیاں دو نہیں بلکہ تین ہی تھیں حالانکہ دو پر سب کا اتفاق ہے تیسری صاحبزادی کا جن مؤرخین نے ذکر کیا انہوں نے بھی صاف صاف اس کا نام سیدہ زینب لکھا ہے سیدہ فاطمہ نام کی صاحبزادی آپ کی صرف ایک ہی تھی اس لیے سیدہ زینب کو سیدہ فاطمہ صغریٰ قرار دینا بالکل غلط ہے اور جو اصل سیدہ فاطمہ تھیں وہ میدانِ کربلا میں موجود تھیں اور سیدہ سکینہ بھی واقعہ کربلا میں موجود تھیں۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ سیدہ فاطمہ صغریٰ کا واقعہ کربلا کے وقت مدینہ طیبہ میں موجود ہونا ہرگز ثابت نہیں اور نہ ہی ان تمام واقعات کا جو اس نام سے منسوب ہیں یہ قصہ بات صرف واعظین نے گھڑے ہیں تاکہ حاضرین کو رلائیں اور اپنا نام روشن ہو کہ فلاں مقرر نے کیا رنگ باندھا اور مدینہ منورہ میں سیدہ فاطمہ صغریٰ کو چھوڑ جانا از روئے نقل تو آپ پڑھ چکے بالکل غلط اور کذب بیانی ہے از روئے عقل بھی جھوٹ ہے کیونکہ جب سیدنا عالی مقام اپنے تمام اہل و عیال کو ساتھ لے جا رہے ہیں سیدہ صغریٰ کو کیوں نہ ساتھ لیا اور پھر ان کی بیماری کی حالت میں کس کے سپرد کر کے جا رہے ہیں؟ 

جواب دوم: اگر بفرض محال تسلیم کر لیا جائے کہ سیدنا حسینؓ کی فاطمہ نامی دو صاحبزادیاں تھیں تو تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ آپ کی دونوں صاحبزادیاں واقعہ کربلا میں موجود تھیں جیسا کہ ناسخ التواریخ جلد سوم صفحہ 42 تا 47 پر خطبہ سیدہ فاطمہ الصغرىٰ نقل کیا ہے جو انہوں نے بازار کوفہ میں پڑھا۔ 

ناسخ التواريخ: استدعى ابنته فاطمة الكبرى وَأَوْدِعَ عِندَها صَحِيفَةٌ مَلْفُوفَةٌ وَوَصِيَّة ظَاهِرَة لِأَنَّ عَلَى بن الحسين كان فيه مَرَضُ الْإِسْهَال وَكَانَ النَّاسُ لَا يَظُنُّونَ بِهِ الصَّحَةَ فِي مَرَضِهِ فَلَمَّا شَفى مِنْ مَرَضِهِ سَلَمَتُهُ اخْتُهُ الْوَصِيَّةَ وَالصَّحِيفَةَ وَهِيَ الآن عِنْدَنَا۔

 (ناسخ التواريخ: جلد دوم در احوالات شہيد الشہداء صفحہ 362 سپردن اسرارِ امامت ) 

ترجمہ: علی بن حسین نے اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ کبریٰ کو بلا کر انہیں ایک لپٹا ہو خط اور وصیت نامہ سپرد فرمایا کیونکہ علی بن حسین ان دنوں مرض اسہال میں تھے اور لوگوں کا خیال تھا کہ وہ تندرست نہیں ہوں گے جب وہ بیماری سے صحت یاب ہو گئے تو ان کی ہمشیرہ نے انہیں وصیت نامہ اور لفافہ سپرد کر دیا اور وہ اب ہمارے پاس محفوظ ہے مذکورہ حوالہ جات سے بھی معلوم ہوا کہ سیدنا عالی مقام کی اگر دو صاحبزادیاں سیدہ فاطمہ کبریٰ اور سیدہ فاطمہ صغریٰ تسلیم کر لی جائیں تب بھی شیعہ ذاکرین اور سنی واعظین کا مقصد حاصل نہیں ہوتا کیونکہ سیدہ فاطمہ صغریٰ کی جو درد ناک داستان بیان کی باتی ہے وہ مدینہ منورہ میں پیچھے رہ جانے والی بیان کی جاتی ہیں اور ان حوالہ جات دونوں صاحبزادیوں کا واقعہ کربلا میں موجود ہونا ثابت ہوتا ہے۔ 

نوٹ: سیدنا علیؓ کی دو صاحبزادیوں کا نام سیدہ فاطمہ کبریٰ اور سیدہ فاطمہ صغریٰ بتانا اور پھر سیدہ فاطمہ صغریٰ کا بازار کوفہ میں خطبہ دینا اور سیدہ فاطمہ کبریٰ کو سیدنا حسینؓ کا وصیت نامہ عطا کرنا اس میں یا تو کاتب کو غلطی لگی ہے کہ اسے کُبری اور صُغری کے نام سے آپ کی دو بیٹیوں کا میدان کربلا میں موجود ہونا ذکر کیا یا پھر اصول کافی کے ترجمہ میں مرزا تقی نے غلطی کی ہو کیونکہ گذشتہ حوالہ جات میں آپ پڑھ چکے ہیں کی منتخب التواریخ کے مطابق آپ کے وصیت نامہ کو لینے والی صاحبزادی عمر میں بڑی سیدہ فاطمہ نامی تھیں اس بڑائی کی وجہ سے اسے کبریٰ لکھا گیا ہو لیکن چھوٹی صاحبزادی عمر میں صغریٰ تو ہو سکتی ہے لیکن ان کا نام سیدہ سکینہ تھا وہ سیدہ فاطمہ صغریٰ نہیں بن سکتیں تیسری لڑکی تھی ہی نہیں اگر تھی بھی تو اس کا نام سیدہ زینب تھا تاریخ الائمہ صفحہ 280 میں لکھا ہے کہ آپ کی صاحبزادیوں میں سے بڑی سیدہ فاطمہ کی شادی سیدنا حسن کے بیٹے سیدنا حسن مثنیٰ سے ہوئی تھی اور چھوٹی سیدہ سکینہ نامی کی شادی انہی کے بیٹے سیدنا عبداللہ سے ہوئی تھی۔ 

(اعلام الوریٰ صفحہ 127 لہٰذا حقیقت یہ ہے کہ جس صاحبزادی کو اپنے وصیت نامہ دیا اور جس نے کوفہ کے بازار میں خطبہ دیا وہ ایک ہی تھیں ان کا نام سیدہ فاطمہ بنتِ حسین تھا ان کی چھوٹی ہمشیرہ سیدہ سکینہ نامی بھی میدان کربلا میں موجود تھیں۔ 

قارئین کرام! آپ نے واقعہ سیدہ فاطمہ صغریٰ کی حقیقت کو ملاحظہ فرما لیا کہ جس میں ذرا بھر بھی سچائی کا وجود نہیں پایا جاتا اول تا آخر جھوٹ کا پلندہ ہے جس میں صرف مرثیہ خانوں اور نوحہ خوانی کے لیے بہترین رولانے اور پٹانے کا موقعہ مہیا کیا ہے اور شیعہ لوگوں کی حوصلہ افزائی اور ان کی سچائی کو داد دی ہے اس کے علاوہ اسی مصنف صاحبزادہ افتخار الحسن نے اپنی اسی کتاب میں جو کربلا کی دسویں رات کا واقعہ نقل کیا ہے اس میں بھی نوحہ خوانی اور مرثیہ خوانی کے ذریعہ خوب رولانے پٹانے کی کوشش کی ہے کہ جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

خاکِ کربلا: نواسہ رسولﷺ نے دعا کے بعد مدینہ پاک کی جانب نگاہ اٹھائی، گنبد خضریٰ کا تصور کیا اور تربت زہرا کا نقشہ آنکھوں میں سمویا تو۔

نظر آیا کہ شاہِ دوسرا تشریف لائے ہیں۔

 برہنہ پاگروہِ انبیاء کے ساتھ آئے ہیں۔

قریب آ کر نواسے کو لگایا اپنے سینے سے۔

 بٹھا کر گود میں پھر یوں کہا دل کے نگینے سے۔

 کہ: خلیل اللہ کی سنت اب مکمل ہونے والی ہے۔

تیرے غم میں یہ دنیا تا قیامت رونے والی ہے۔

 اٹھے خنجر تو بیٹا تم سر اقدس جھکا دینا۔

 میری چومی ہوئی گردن خوشی سے تم کٹا دینا۔

صفحہ 5 از 6