سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کا لال مصنفہ مفتی حبیب…

سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کا لال مصنفہ مفتی حبیب سیالکوٹی

  محمد علی

صفحہ 6 از 6

آدھی رات ہو چکی تھی اور ہر طرف خاموشی ہی خاموشی تھی سیدنا حسین نے جلدی سے سر اٹھایا مصلے سے اٹھے اور شہزادہ سیدنا علی اکبر کو فرمایا بیٹا جاؤ اور میدانِ کربلا کا نقشہ دیکھ آؤ شہزادہ سیدنا علی اکبر اٹھے اور رات کی خاموشی میں میدانِ کربلا کے چاروں طرف نگاہ دوڑائی میدان کے وسط میں دیکھا کہ ایک برقع پوش خاتون اپنے دامن سے کربلا کی زمین کو صاف کر رہی ہے سیدنا علی اکبر اس خاتون کے پاس آئے اور پوچھ اسے بی بی تو کون ہے اور زمینِ کربلا کو کیوں جھاڑتی ہے؟ خاتون خاموش رہی سیدنا علی اکبر واپس آئے سیدنا عالی مقام نے پوچھا سیدنا علی اکبر میدانِ کربلا میں کوئی چیز نظر آئی عرض کی ہاں حضور میدان کے وسط میں ایک برقع پوش خاتون ہے جو اپنی چادر سے زمین کو حھاڑ رہی ہے میں نے قریب جا کر اس خاتون سے پوچھا کہ آپ کون ہیں اور زمین کو کیوں جھاڑ رہی ہے مگر وہ بولی نہیں سیدنا حسین کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں بیٹے نے پوچھا ابا جان آپ رونے کیوں لگے تو سیدنا پاک نے فرمایا بیٹا یہ مری ماں سیدہ فاطمہ ہے جو اپنی چادر سے زمین کربلا کو اس لئے صاف کر رہی ہے تا کہ میرے بیٹے حسین کے جسم پر کوئی کنکر نہ چبھ جائے کہ اس مقتل میں لیٹے گا صبح لختِ جگر میرا

 یہاں تڑپے گا بے گور و کفن نورِ نظر میرا 

 قارئین کرام! میدانِ کربلا میں سیدہ فاطمہؓ کا تشریف لانا زمین کو ہموار کرنا وغیرہ یہ سب ایسی باتیں ہیں جن کا ذکر کسی ایک بھی صحیح روایت میں نہیں ملتا سیدنا علی اکبر سے سیدنا عالی مقام کا رو رو کر فرمانا کہ یہ تیری والدہ محترمہ ہیں آخر اس سے کیا ثابت کیا جا رہا ہے؟ یہی کہ سامعین کو خوب رو لایا جائے اور نوحہ خوانی کی طرح ڈالی جائے ایسے غلط اور جھوٹ پر مبنی واقعات سے خاندان اہلِ بیت کی خوشنودی تو کجا بلکہ ان کی ناراضگی حاصل ہوتی ہے کیونکہ ان حضرات نے نہ جھوٹ بولا اور نہ جھوٹ کو پسند فرمایا افتخار الحسن وغیرہ کا ایسے فرضی واقعات بیان کرنے کا مقصد جلسہ کو گرمانا اور لوگوں میں غمِ سیدنا حسین بھرنا ہے اللہ تعالیٰ ہمارے مصنفین کو آلِ بیت پاک کے صحیح مقام منصب کے مطابق ان کے بارے میں صحیح روایات و تحقیق لکھنے اور بیان کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنی واہ واہ سے ان حضرات کی گستاخی سے بچائے۔

فاعتبروا يا اولى الابصار


صفحہ 6 از 6