سیدنا عمر فاروق اور خالد رضی اللہ عنہما کے سیاسی منہج کا اختلاف
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس بات پر بضد تھے کہ آپ کے گورنران ہر چھوٹے بڑے معاملہ میں آپ سے اجازت لینے کے بعد ہی کوئی اقدام کریں، جبکہ حضرت خالدؓ کا سیاسی منہج یہ تھا کہ مجاہدانہ و فوجی کارروائیوں کے بارے میں وہ مطلق آزاد رہیں، کیونکہ انہیں اس بات پر یقین تھا کہ موقع پر موجود شخص حالات کی نزاکت کو جس قدر سمجھ سکتا ہے، غائب شخص نہیں سمجھ سکتا۔
(الخلافۃ والخلفاء الراشدون: سالم البھنساوی: صفحہ 196) اور شاید یہ بات بھی ایک سبب رہی ہو کہ جدید دستوں کے لیے بھی میدان ملے تاکہ وہ مسلمانوں کو خالد، مثنیٰ اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم جیسے کئی دیگر سپہ سالار فراہم کر سکیں اور لوگوں کو اس بات کا احساس و یقین ہو جائے کہ نصرتِ الہٰی کسی ایک فرد کے ساتھ مرہون نہیں ہے، خواہ کوئی بھی ہو۔
(أباطیل یجب أن تمحی من التاریخ: صفحہ 134)