Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

شہادت نواسہ سید الابرار مصنفہ مولوی عبدالسلام شہادت نواسه سید الابرار مناقب آل نبی المختار

  محقق اسلام حضرت مولانا علی صاحب

شہادت نواسہ سید الابرار مصنفہ مولوی عبدالسلام
 شہادت نواسه سید الابرار مناقب آل نبی المختار

 سیدہ فاطمہ صُغریٰ بنتِ حسینؓ کی شادی سیدنا حسنؓ مثنٰی سے ہو چکی تھی اور آپ مدینہ الرسول میں اپنے شوہر سیدنا حسنؓ مثنیٰ کے گھر پر بمع بچوں کے موجود تھیں اس لیے نہ آپ ان کو ہمراہ لے گئے اور نہ ہی اصولی طور پر ان کا لے جانا ضروری تھا آپ تندرست تھیں کوئی وجہ مانع نہ تھی اگر اُن کو سیدنا حسن مثنیٰؓ لے جانا چاہتے تو لے جا سکتے تھے لیکن ایسا کرنا سیدنا حسن مثنیٰؓ کی شان کے خلاف تھا اس لیے اس وقت ان کے شوہر تجارت کے سلسلہ میں کسی دوسرے ملک گئے ہوئے تھے ان کی اجازت کے بغیر بیٹی اور بچوں کو لے جانا شرعاً غیر مناسب تھا۔

 (شہادت نواسہ سید الابرار مناقب آل نبی المختار صفحہ 580 مصفه محمد عبد السلام قادری رضوی مکتبہ حامدیہ لاہور پاکستان واقعہ سیدہ فاطمہ صغریٰ بنتِ حسینؓ تحقیق کی کسوٹی پر) 

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدہ فاطمہ صغریٰؓ نام کی سیدنا حسینؓ کی صاحبزادی تھی جو سیدنا حسنؓ کے بیٹے سیدنا حسن مثنیٰؓ کے عقد میں تھیں اور یہ سیدنا حسینؓ کے ساتھ کربلا نہیں گئیں اس لیے ثابت ہوا کہ سیدنا عالی مقامؓ کی ایک بیٹی واقعہ کربلا کے وقت مدینہ منور میں اپنے خاوند کے گھر موجود تھیں۔ 

جواب: ہم مانتے ہیں کہ شہادت نواسہ سید الابرار کے مصنف مولانا عبد السلام قادری نے بہ نسبت دوسرے حضرات کے قدرے احتیاط برتی ہے لیکن اس واقعہ کو نقل کرتے وقت انہوں نے بھی تحقیق سے کام نہیں لیا اگرچہ انہوں نے اس واقعہ پر عنوان تحقیق کی کسوٹی لکھا ہے اول تو انہیں چاہیئے تھا کہ اس واقعہ کے لکھنے کے بعد اس کتاب کا نام لکھتے جس سے انہوں نے یہ واقعہ نقل کیا ہو سکتا ہے کہ کسی نامعتبر کتاب سے انہوں نے نقل کیا ہو لیکن میں نے جہاں تک دونوں طرف کی کتب معتبرہ کا مطالعہ کیا اور چھان بین کی تو حقیقت یہی نظر آئی کا سیدنا حسنؓ کے صاحبزادے سیدنا حسن مثنیٰؓ کے عقد میں سیدنا حسینؓ کی جو صاحبزادی تھیں وہ سیدہ فاطمہ صغریٰؓ تھیں یہ دونوں میاں بیوی واقعہ کربلا میں موجود تھے سیدہ فاطمہؓ کی موجودگی کی تحقیق گزشتہ حوالہ جات میں آپ پڑھ چکے ہیں ان کو ہی سیدنا حسینؓ نے وصیت نامہ دیا تھا اور کوفہ کے بازار میں خطبہ دینے والی بھی یہی تھیں اب ان کے خاوند سیدنا حسن مثنیٰؓ کی موجودگی کا حوالہ ملاحظہ فرمائیں۔

ناسخ التواريخ:

 وازیں جمله ہفت تن روزِ عاشوره در رکاب سید الشہداء علیہ السلام ملازمت داشتند نخستین حسن مثنیٰؓ ذکر عالی حسن مثنیٰؓ و بالجملہ حسن مثنیٰؓ در یوم طف بشکر ابنِ سعد جہاد کرد و زخم فراواں یافت بالجملہ حسن مثنیٰؓ در کربلا سعادت شہادت نہ یافت و بسلامت باز وارد مدینہ شد۔

 (ناسخ التواریخ جلد دوم درا حوالات سید الشہداء 323۔324 ذکر حالِ سیدنا حسن مثنیٰؓ مطبوعه تہران) 

ترجمہ: ان تمام حضرات میں سے سات اشخاص یوم عاشور کو سیدنا حسینؓ کے رکاب کے ساتھ موجود تھے پہلے سیدنا حسن مثنیٰؓ تھے مختصر یہ کہ سیدنا حسن مثنیٰؓ نے یوم عاشور کو ابنِ سعد کے لشکر کے ساتھ جہاد کیا اور بہت زیادہ زخمی ہو گئے مختصر یہ کہ حسن مثنیٰؓ نے میدان کربلا میں جام شہادت نوش نہ فرمایا اور تندرست حالت میں مدینہ منورہ تشریف لے آئے 

عمدة الطالب:

 وَكَانَ الحسن بن الحسنؓ شَهِدَ بِالطفَ مَعَ عَمِهِ الْحُسَيْنؓ وَ اثخِنَ بِالْجِرَاحِ فَلَمَّا أَرَادُو أَخْذوا الرؤس وَجَدُوا بِهِ رَمقَا فَقال اسماء ابنِ خارجه بن عيينه بن حضر بن حذيفة بن بدر الغزاری دَعَوهُ لِي فَإِنْ لَوْ هَبَهُ الأمير عبيد الله بن زياد لع لِي وَإِلَّا رَأَى رَأَيُهُ فِيهِ فَتَرَكُوهُ لَهُ فَحَمَلَهُ إِلَى الكُوفَةِ وَحَكَوا ذَالِكَ لعبيد الله بن زياد فَقَالَ دَعَوْ لابِي حَسَانِ ابنِ اخته وَعَالَجَه اسماء حَتّیٰ بَرِئٙ ثُمَّ لَحَق بِالْمَدِينَةِ۔

 (عمدة الطالب فى انساب آل ابی طالب صفحہ 100 المقصد الثانی مطبوعه نجف)

ترجمہ: سیدنا حسنؓ کے صاحبزادے سیدنا حسن مثنیٰؓ سیدنا حسینؓ کے ساتھ واقعہ کربلا میں شامل تھے اور بہت زیادہ زخمی ہو گئے جب لوگوں نے شہداء کے سروں کو اٹھانے کا ارادہ کیا تو ان کے جسم میں زندگی کے آثار پائے جس پر اسماء بن خارجہ نے کہا انہیں میرے لیے چھوڑ دو اگر عبید اللہ بن زیاد نے انہیں مجھے ہبہ کر دیا تو بہتر ورنہ وہ جو رائے ظاہر کرے گا لوگوں نے سیدنا حسن مثنیٰؓ کو اسماء کے سپرد کر دیا وہ انہیں اٹھا کر کوفہ لے آئے لوگوں نے اس کی خبر عبید اللہ بن زیاد کو پہنچائی اس نے کہا کہ انہیں ان کے ماموں ابوحسّان کے پاس ہی رہنے دو ان کا اسماء نے علاج کیا حتیٰ کہ وہ تندرست ہو گئے پھر یہ مدینہ منورہ تشریف لے آئے۔ 

تهذيب التهذيب:

قُلْتُ قَرَأَتُ بِخْطِ الذَّهْبِي مَاتَ سه 97ھ وَالَّذِي فِي صَحِيحِ الْبُخَارِي فِي الْجَنَائِزِ قَالَ لَمَّا مَاتَ الْحَسَنُ بن الحسن بن علىؓ ضرَبَتْ امْرَأَتُهُ الْقَبَةَ على قبره الحديث وَقَدْ وَصَلَ الْمَحَامِلِي فِي امَالِیهِ مِنْ طريق جر يرعن مغيره وقال الجحابي وَحَضَرَ مَعَ عَمِّهِ كُرْ بِلا فَحَمَاهُ أَسْمَاء بن خارجة الغزاري لا ند ابن عمه كربلا ابنِ حبان في الثقات۔ 

(تهذيب التهذيب جلد دوم صفحہ 263 حرف حاء لفظ حسن مطبوعه حیدر آباد دکن)

ترجمه: میں کہتا ہوں کہ میں نے ذہبی کے ہاتھ سے لکھا خط پڑھا کہ سیدنا حسن مثنیٰؓ کاسن 97ھ میں انتقال ہوا اور وہ جو صحیح بخاری کتاب الجنائز میں آیا ہے کہ جب سیدنا حسن مثنیٰؓ کا انتقال ہوا تو ان کی زوجہ نے ان کی قبر پر خیمہ لگایا الحدیث اور محاطی نے اپنی امالی میں بطریق جریر عن مغیرہ اسے لکھا ہے اور حجالی نے کہا سیدنا حسن مثنیٰؓ اپنے چچا سیدنا حسینؓ کے ساتھ میدانِ کربلا میں حاضر تھے ان کی حمایت اسماء بنتِ خارجہ نے کی کیونکہ وہ ان کے چچازاد بھائی تھے ابنِ حبان نے انہیں ثقہ راویوں میں ذکر کیا ہے ان تاریخی حوالہ جات سے معلوم ہوا یہ سیدنا حسن مثنیٰؓ بھی سیدنا عالی مقامؓ کے ساتھ واقعہ کربلا میں موجود تھے اور یزیدیوں کے ہاتھوں شدید زخمی ہوئے اسماء بنتِ خارجہ نے اپنی تحویل میں رکھنے کی عبید اللہ بن زیاد سے درخواست کی جو مان لی گئی انہوں نے حسن مثنیٰؓ کا علاج کیا وہ تندرست ہو کر مدینہ منورہ واپس آئے اور واقعہ کربلا کے تقریبا 3 سال بعد انتقال فرمایا ان کی زوجہ سیدہ فاطمہ بنت حسینؓ ہیں وہ بھی ان کے ہمراہ کربلا میں موجود تھیں مولانا عبد السلام قادری نے اگرچہ سیدہ فاطمہ صُغریٰؓ کے فرضی واقعات اور مدینہ منورہ میں رہتے ہوئے آہ و زاری کا ذکر نہیں کیا لیکن ان تمام واقعات کی جو جڑ ہے وہ لکھ دی یعنی سیدنا حسن مثنیٰؓ کا کربلا کی بجائے تجارت کے لیے کہیں چلے جانے اور ان کی زوجہ سیدہ فاطمہ بنت حسینؓ کا مدینہ منورہ میں ہی رہ جانا لیکن دونوں طرف کی معتبر کتب تاریخ اس کا سرے سے انکار کرتی ہیں یادر ہے کہ سیدہ فاطمہ صُغریٰؓ کا یہ جھوٹا افسانہ اور کتابوں میں بھی موجود جیسے خاکِ کربلا اور اس کی طرح مولوی نوری قصوری کی باراں تقریروں میں صفحہ 63 پر بھی سیدہ صُغریٰؓ کا خط مرثیہ خواں اور توجہ خانی کے انداز میں لکھا گیا ہے اب ہم باراں تقریروں کو مستقبل کتاب کا عنوان دے کر خط سیدہ صُغریٰؓ کی فوٹو کاپیاں لف کرتے ہیں ۔