سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کی معزولی پر اسلامی معاشرہ کا رد عمل
علی محمد الصلابیاسلامی معاشرہ نے حضرت خالدؓ کی معزولی کی قرار داد کو نہایت خندہ پیشانی سے قبول کیا۔ کیونکہ کسی کو منصب پر فائز کرنا اور اسے معزول کرنا خلیفہ ہی کا حق ہے۔ چنانچہ شرعی نظم و اطاعت کے تقاضوں اور خلافت کے تئیں اس عقیدہ و اقرار پر سب متفق رہے کہ معزولی و منصب نوازی فقط خلافت کا حق ہے۔
روایت ہے کہ رات کی تاریکی میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ باہر نکلے، راستہ میں علقمہ بن علاثہ کلابی سے ملاقات ہو گئی، حضرت عمرؓ کافی حد تک حضرت خالدؓ کے ہم شکل تھے۔ علقمہ نے سمجھا کہ شاید یہ حضرت خالدؓ ہیں اور کہنے لگے: خالد! اس نے تم کو معزول کر دیا، یہ محض اپنی بخیلی کی وجہ سے کیا ہے، میں اور میرا چچا زاد بھائی، ہم دونوں ان کے پاس چیز طلب کرنے گئے تھے اور جب انہوں نے تمہیں معزول کر دیا تو اب ان سے کچھ نہیں طلب کریں گے۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے علقمہ کے دل کی بات جاننا چاہی اور کہا: اے فلاں! تو پھر تمہارا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا: وہ خلیفہ ان لوگوں میں سے ہے جن کا ہمارے اوپر حق ہے، ہم ان کا حق ادا کریں اور ہمارا ثواب اللہ کے حوالے ہے۔
جب صبح ہوئی تو حضرت عمرؓ نے حضرت خالدؓ سے پوچھا، علقمہ بھی وہاں موجود تھے، کہا: اے خالد آج رات علقمہ نے تم سے کیا کہا؟ حضرت خالدؓ نے جواب دیا: اللہ کی قسم! اس نے کچھ نہیں کہا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: حیرت ہے، انکار بھی کرتے ہو اور قسم بھی کھا رہے ہو؟ اس پر علقمہ کو جوش آ گیا کیونکہ ان کو یقین تھا کہ رات کو میں نے حضرت خالدؓ ہی سے بات کی ہے، چنانچہ وہ خالدؓ سے الزاماً کہنے لگے: اے خالد تم غلط کہتے ہو اور اس کے بعد حضرت عمرؓ نے علقمہ کو انعام دیا نیز ان کی ضرورت پوری کی اور کہا: اگر میرے پیچھے جو لوگ ہیں یعنی رعایا میری مخالفت کے باوجود تمہاری طرح سوچ رکھیں یعنی حاکم کی اطاعت بہر حال واجب جانیں تو یہ میرے نزدیک ہر چیز سے محبوب ہے۔
(الدولۃ الإسلامیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین: صفحہ 151) اسلامی سماج کے اس بے نظیر سمع و طاعت کے مظاہرے کے باوجود بعض اعتراضات بھی سامنے آئے چنانچہ جابیہ میں خطبہ دیتے ہوئے جب سیدنا عمر فاروقؓ نے خالدؓ کی معزولی کا عذر بیان کرتے ہوئے کہا تھا: ’’میں خالد بن ولیدؓ کی معزولی پر تم سے معذرت خواہ ہوں، میں نے انہیں حکم دیا تھا کہ یہ مال کمزور مہاجرین پر خرچ کریں، لیکن انہوں نے اسے طاقت وروں اور اغنیاء میں تقسیم کیا، اس لیے میں نے انہیں معزول کر دیا اور ابو عبیدہ بن جراحؓ کو امیر بنا دیا۔‘‘ یہ سن کر سیدنا خالدؓ کے چچا زاد بھائی ابو عمرو بن حفص بن مغیرہ نے کہا: ’’اے عمر! میں آپ کی معذرت قبول کرنے کو تیار نہیں، آپ نے ایسے ذمہ دار کو معزول کیا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقرر کیا تھا اور ایسی تلوار کو نیام میں ڈالا ہے جسے رسول اللہﷺ نے بے نیام کیا تھا، ایسے جھنڈے کو جھکایا ہے جسے رسول اللہﷺ نے نصب کیا تھا، آپؓ نے قطع رحمی کی ہے اور میرے چچا زاد بھائی کے ساتھ حاسدانہ برتاؤ کیا ہے۔‘‘
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’تم قرابت و رشتہ داری کا حق ادا کر رہے ہو، نو عمر ہو، اپنے چچیرے بھائی کے سلسلہ میں آپے سے باہر ہو۔‘‘
(السنن الکبرٰی: النسائی: 8283، اس کی سند صحیح ہے۔ محض الصواب: جلد 3 صفحہ 496) یہ ہے حضرت خالد بن ولیدؓ کے چچا زاد بھائی کے لیے سیدنا عمرؓ کی کشادہ دلی کا مظاہرہ کہ وہ حضرت خالدؓ کی طرف سے دفاع کرتے کرتے حضرت عمر فاروقؓ پر ’’حسد‘‘ کی تہمت لگا دیتے ہیں، پھر بھی آپؓ اس کے لیے نہایت بردباری کا ثبوت دیتے ہیں۔
(صحیح التوثیق فی سیرۃ وحیاۃ الفاروق: صفحہ 219)