زکوٰۃ کی کٹوتی سے بچنے کے لئے اپنے آپ کو شیعہ ظاہر کرنا
حضرت مولانا مفتی نظام الدّین شامزئی شہیدؒ کا فتویٰ
شیخ الحدیث جامعة العلوم الاسلامیه علامہ بنوری ٹاؤن کراچی:
سوال: اگر کوئی شخص حلف نامے پر جو کہ زکوٰۃ کی کٹوتی نہ ہو، اس لئے مختلف کمپنیوں کے ہولڈرز جمع کراتے ہیں۔ ایک سنی مسلمان اس فارم کو پُر کرنے پر اس لئے امادہ ہو جائے کہ وہ خود اپنی زکوٰۃ کی رقم اپنے ہاتھ سے کسی مستحق کو دینا چاہتا ہے، اب اگر کوئی شخص یہ حلف نامہ جمع نہیں کرائے گا تو اس کے نفع کی رقم میں لازمی زکوٰۃ کاٹ لی جائے گی۔ اس حلف نامہ میں (FIQH) کے آگے جگہ خالی ہے، اس میں فقہ حنفی سے تعلق رکھنے والے فقہ حنفیہ لکھتے ہیں، اور فقہ جعفریہ والے فقہ جعفریہ لکھتے ہیں۔ حکومت کی طرف سے اس فارم کو پُر کرنے کی اجازت ہے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی فرقہ سے ہو۔ اب اگر فقہ حنفیہ سے تعلق رکھنے والا یہ فارم پُر کرکے جمع کرا دے تا کہ زکوٰۃ کی کٹوتی نہ ہو تو کیا یہ صحیح ہو گا؟
جواب: فقہ حنفیہ سے تعلق رکھنے والا شخص جب خود کو فقہ جعفریہ کا پیروکار ظاہر کرے وہ سنی حنفی نہیں رہے گا بلکہ شیعہ ہو جائے گا، اگر وہ دوبارہ سنی ہونا چاہے اور سنی منکوحہ کے ساتھ رہنا چاہے تو اس پر لازمی ہو گا کہ سنی طریقہ پر ایمان اور نکاح کی تجدید کرے۔ اس لئے جان بوجھ کر خود کو شیعہ ظاہر کرنا، شیعہ عقائد کا اعلان اور سنی عقائد سے برأت کا اظہار ہے۔
(آپ کے مساںٔل اور ان کا حل: جلد، 1 صفحہ، 36)