بٙاراں تقریراں مصنفہ نوری قصوری
محقق اسلام حضرت مولانا علی صاحببٙاراں تقریراں مصنفہ نوری قصوری
آپ ایک ایک کو تسلیاں دے رہے ہیں جب آپؓ گھوڑے پر سوار ہونے لگے تو دیکھا کہ گھوڑا کانپ رہا ہے آپؓ نے دیکھا گھوڑے کے ساتھ معصوم سیدہ سکینہؓ کھڑی ہے اباجی مجھے یتیم کر کے جارہے ہوا اب ابا جان کسے کہہ کر پکاروں گی سیدنا عالی مقامؓ نے گھوڑے سے اتر کر بچی کو سینے سے لگایا اور تسلی دی اس بیٹی کو تسلی دے رہے تھے کہ دوسری بیٹی کا خط پہنچا اس خط کا مضمون بعض روایتوں میں اس طرح آتا ہے پنجابی کے ایک شاہ نے اس کو یوں نظم کیا ہے
- یہ خط امام عالی مقام کی صاحبزادی صغریٰؓ کا تھا جو مدینہ طیبہ میں رہ گئی تھیں اس لیے کہ محمد بن حنیفہ کے پاس ہی رو گئے تھے
سیدہ صُغریٰ کا خط
حال زار دے رب رسول شاہد اشکبار نے ارض و سما بابا
تاں جدوں مدینیوں کوچ کیتا دساں کیہ ورتی میرے بھا بابا
پھوپھی جی زینبؓ اماں شہر بانو ملسن کدوں کلیجڑے لا بابا
پچھی کے بیمار دی سار ناہیں گنیاں مدتاں ڈھیر وِہا بابا
اصغرؓ بال ہن تے گلاں ہوگ کروا رہسن وچ کلیجڑے گھا بابا
ننھے لال دا رونی ہاں رات پچھلی جھولا نال خیال جھلا بابا
کدی فاطمہؓ بی بی دی قبر آتے کدی روضے تے رونی ہاں بابا
آہیں میریاں تھیں ڈر دی اُڈ جاندی ٹھنڈی صبح دی بادِ صبا بابا
نام رب دے کو لول اپنے کرساں خدمتان ادب بجا بابا
بھیا اصغرؓ نوں لوریاں دیوساں گی نالے لواں گی کول سُلا بابا
ایسا صغریٰ غریب نُوں بُھل گئے ہو بخشو چا جے کوئی خطا بابا
کرتہ اصغر لئی اک تیار کیتا ہتھیں دیوساں آپ پہنا بابا
مِلن واسطے بہت اُداس ہاں میں کرد کرم بنامِ خدا بابا
پانی بھراں گی کپڑے دھو وساں گی کھانا لواں کی خُوب پکا بابا
سیدنا عالی مقامؓ اس درد بھرے خط کولے کر خیمے میں گئے خط سنتے ہی ایک دم کہرام برپا ہو گیا خط سنانے کے بعد آپ خیمے سے باہر آئے اور قاصد سے کہا کہ اس امتحانِ کربُ وبلا میں آنیوالے واپس مدینہ پاک جاکر میری بیٹی کو میرا بھی ایک پیغام پہنچا دے آپؓ نے فرمایا
خط کا جواب
آنکھیں صُغریٰؓ نوں جا کے باپ تیرا کر بل وسدی جھوک لٹا بیٹھا
بچے عونؓ و محمدؓ تے اکبرؓ اصغرؓ قاسمؓ اُتے عباسؓ کہا بیٹھا
اپنے وچ مقصد کامیاب ہو کے سید رب دا شکر بجا بیٹھا
باقی دم دا دم مہمان ہاں میں لگی پریت نوں توڑ نبھا بیٹھا
آکھیں قاصدا خط نوں کچھ کے تے بابا رو رو نیر وہا بیٹھا
میرا باغیان باغ اُجاڑیا اے کر کے صبر میں تٙن تنہا بیٹھا
میری یاد ستائے تے صبر کرنا صبر نال مقصود میں پا بیٹھا
ساقی پوریا جام شہادتاں دا منہ شوق دے نال میں لا بیٹھا
اب سیدنا عالی مقامؓ ابنِ سعد کے لشکر کے سامنے جلوہ افروز ہیں کوفی فوج سیدنا علیؓ کے شیر کا رعب و دبدہ دیکھ کر لرز گئی۔
کسی شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے
زن ایک طرف چرخ کمن کانپ رہا ہے
آپ نے شکر کے سامنے تشریف لاکر ان سنگ دل ظالموں کو آخری بار قرابت رسولﷺ اور اپنی عزت و حشمت یاد دلائی۔
نوٹ: سیدہ فاطمہ صغریٰ بنتِ حسینؓ کے واقعہ کو سنی واعظین کے علاوہ ایک اور نام نہاد سنی صائم چشتی فیصل آبادی نے بھی یہ واقعہ پوری رنگینی اور درد و فغاں کے ساتھ اپنی تصنیف "شہید ابنِ شہید" میں صفحہ 301 تا 304 پر ذکر کیا جن کی فوٹو کاپیاں بھی لف کی جا رہی ہیں۔
قاصدِ مدینہ
اصغرؓ اکبرؓ قاسمؓ اید حر رنگ گئے رب دے لیکھے
چُک چُک اڈیاں صغریٰؓ اودھر راہ و میراں دا ویکھے
ایدھر بابل لال اپنے دی ڈھیری پیا بنا وے
وچ خیالاں اوہ اصغرؓ دا جھولا پئی جھلا وے
( صائم چشتی)
سیدنا علی اصغرؓ کو دفن کرنے کے بعد سیدنا عالی مقامؓ اب خود ہی میدان کار زار کا رخ کر نے والے ہیں اس لئے کہ اب آپ کو روکنے والا کوئی بھی نہیں تمام ساتھی ایک ایک کرکے آپ پر فدا ہو چکے ہیں آپ نے ایک نظر میدان کار زار کو دیکھا پُشت پر ویراں اور جلے ہوئے خیمے ہیں اہلِ بیت کے ایک دو بڑے خیمے ہیں جن میں چیخوں اور آہوں کی صورت میں زندگی کے کچھ آثار نظر آتے ہیں دائیں بائیں اور سامنے جہاں تک بھی نظر جاتی ہے یزیدی فوجوں کے پرے کے پرے نظر آتے ہیں سورج کی تپش میں مزید پر اضافہ ہوچکا آپ نے خیال فرمایا خیمے کے اندر جا کر اہلِ بیت کو آخری وصیت کرکے دربار خداوندی میں حاضر ہو جاؤں ابھی آپ نے یہ خیال فرما کر خیموں بوں کی طرف رخ کیا ہی تھا کہ سامنے ریت کا ایک گول سا اٹھتا نظر آیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے بگولے کے اندر ایک ناقہ سوار نظر آیا آپ کو بھی شاید اسی کا انتظار تھا اس لئے کہ کربلائی خُونی تصویر میں یہ خاکہ خالی تھا ناقہ سوار آپ کے سامنے پہنچ چکا تھا اونٹ بھی پسینہ پسینہ تھا اور ناقہ سوار بھی پسینہ میں شربور تھا اُس نے اُونٹ کو بٹھایا اور آپ کے قدموں کو بوسہ دیا ان کار زار کو دیکھ کر مضطرب اور پریشان ہو گیا وہ انتہائی مایوسی کے عالم میں آپ کو دیکھے جا رہا تھا آپ نے خاموشی کو توڑتے ہوۓ فرمایا دوست ہم نہیں جانتے کہ تم کون ہو اور کس مقصد کے تحت یہاں ٹہرے ہو اگر کوئی کام ہے تو بتاؤ ورنہ خدا حافظ مجھے دشمن بار بار آواز دے رہے ہیں اور پھر خیموں کی طرف بڑھنے لگے تو وہ شخص پکار اُٹھا یا امام میری بات سن لیجیئے آپ رک گئے تو اس نے کہا میں آپ کی بیٹی کا قاصد ہوں جب آپ کوفہ کے لئے روانہ ہوئے تھے تو میں وہاں پر موجود تھا حج کرنے کے بعد میں مدینہ منورہ میں زیارت رسولﷺ کے لئے حاضر ہوا تو وہاں میں نے ایک پردہ نشین بچی کو دیکھا جو روضہ رسولﷺ کے ساتھ ہی روضہ بتولؓ کے باہر بلند آواز سے رورہی تھی لوگ جاکر ان کے رونے کی وجہ پوچھتے اور پھر اس کا سوال پوچھ کر واپس آجاتے ایک دن میرے دل میں خیال آیا کے اس بچی سے پوچھوں کہ اسے کیا ضرورت ہے شاید میں ہی اس کے کسی کام آسکوں اور پھر جب میں نے پوچھا کہ بیٹا کیا بات ہے آپ اس طرح روتی کیوں ہیں اور آپ کون ہیں معصومہ نے میری بات سنی تو اور زیادہ رونے لگی اور فرمایا یا عم میں صُغریٰ بنتِ حسینؓ ہوں یہ میرے ابا جان مکہ معظمہ سے کوفہ تشریف لے گئے تھے یہ مجھے چچا سیدنا عبدالہ بن جعفرؓ نے بتایا تھا کوفہ گئے ہوئے بھی انہیں کئی روز ہوچکے ہیں ان کا خیریت نامہ نہیں آیا بیمار تھی اس لئے وہ مجھے چھوڑ کر مکہ معظمہ میں چلے گئے تھے اور وہیں سے کوفہ چلے گئے ہیں مجھے اُن سے پچھڑے ہوتے چھ ماہ کا عرصہ ہوگیا ہے چچا جان ! میرا دل ڈوب ڈوب جاتا ہے میرے ابا جان نے فرمایا تھا ہم تمہیں جلد ہی اپنے پاس بلوالیں گے میرے بھائی جان سیدنا علی اکبرؓ نے میرے ساتھ بڑا پکا وعدہ کیا تھا کہ میری پیاری بہن میں تمہیں خود آکر لے جاؤں گا مگر نہ ابا جان نے کسی کو لینے بھیجا ہے اور نہ ہی بھائی جان سیدنا علی اکبرؓ ابھی تک آئے ہیں چچا ! میں بے حد اُداس ہوگئی ہوں مجھے ننھے سیدنا علی اصغرؓ کی یاد بہت ستاتی ہے میں نے اُس کے لئے کئی جوڑے کپڑے کی لے کہ رکھے ہوئے ہیں اس کے خالی جھولے کو سہلاتی رہتی ہوں یا عم ! اگر آپ نے کوفہ کی طرف جانا ہو تو میرا خط میرے ابا جانی کے نام لے جائیں بس میرا صرف یہ کام ہے اس کام کے عوض میں آپ کو کئی چیزیں پیش کروں گی اور پھر وہ بچی حجرہ کے اندر چلی گئی اور میرے روکتے روکتے یا ایک ایک کر کے کئی چیزیں اٹھا لائی جن میں کچھ برتن اور ایک جانماز تھا ایک دو کپڑے کی چادریں تھیں اور ایک پوٹلی جس میں چھوٹی چھوٹی چیزیں اور سکے وغیرہ بندھے ہوئے تھے میں نے بچی کو دلاسہ دیتے ہوئے کہا لاؤ بیٹی اپنا خط مجھے دے دو میں اُس طرف کا رہنے والا ہوں میں تمہارا خط ضرور پہنچا دوں گا اور یہ اپنی چیزیں اٹھا لو میں اہلِ بیت رسولﷺ کا خادم ہوں اور یہ ہی کیا کم سعادت ہے کہ ابنِ رسولﷺ کی بیٹی کا قاصد بن جاؤں بچی بضد تھی کے یہ سامان تھوڑا سمجھ کر نہیں لے رہے یہ سامان تھوڑا لگتا ہے لیکن بہت قیمتی سامان ہے بابا اس میں میری دادی سیدہ فاطمہؓ کے ہاتھوں کی کئی چیزیں ہیں یہ تھوڑا سا سامان قبول کرلو میرے بابا کو جب تم میرا خط دو گے تو وہ اور بھی مال و دولت دیں گے۔ میرے ابا جان بڑے سخی ہیں وہ تو سائلوں کو ویسے ہی بہت کچھ دے دیتے ہیں تم تو اُن کی بیٹی کے قاصد بن کر جاؤ گے پھر تمہاری تو بہت قدر کریں گے اس کے علاوہ ہم سب تمہارے حق میں دعا بھی کریں گے اور اپنے نام نانا جان سے وہ جنت بھی لیکر دیں گے اُس معصومہ نے درد و فراق کی اور بھی بہت سی باتیں کی تھیں جن کے بیان کرنے کی مجھ میں طاقت نہیں میں نے منت سماجت کرکے وہ سامان واپس کر دیا تھا اور یہ خط لیکر آپ تک پہنچا ہوں میں نے دُور سے اس طرف فوجوں کو دیکھ لیا تھا اس لئے راستہ بدل کر ادھر آیا تھا کہ دیکھتا جاؤں کہ یہ لشکر کدھر جا رہا ہے مگر یہاں آکر دیکھا تو آپ کو اس حال میں پایا کے سیدنا عالی مقامؓ نے ٹھنڈی سانس بھر کر فرمایا کہ لاؤ میری بیٹی کا خط دے دو میری بیٹی نے تم سے وعدہ کیا تھا کہ میرے ابا جان تمہیں بہت کچھ دیں گے اب تم ہمیں ملے ہی ایسے عالم میں ہوکہ ہم تمہیں دنیاوی مال سے وہ کچھ نہیں دے سکے جو تمہارا حق بنتا ہے البتہ ہم اپنی بیٹی کا دوسرا وعدہ ضرور پورا کریں گے کہ تمہیں اپنے ساتھ لیے جنت میں جائیں گے پھر بھی ٹھہر وہ ہمیں اہلِ بیت کے خیموں سے جو کچھ بھی میسر آسکا تمہیں لاکر دیتے ہیں نے سنا تو چیخیں نکل گئیں عرض کیا یا امام میرے لئے وعدہ آخرت ہی بہت بڑی دولت ہے خدا کے لئے اپنی یہ امانت بھی لیتے جائیے پھر وہ کجا وے سے ایک چھوٹی سی پوٹلی نکال لایا آپ نے فرمایا یہ کیا ہے عرض کی اس میں سیدنا علی اصغرؓ کے کپڑے ہیں امام مظلوم نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے پوٹلی سنبھالی اور دل دل ہی دل میں کہا سیدہ صُغراؓ بیٹی اب تیرے سیدنا اصغرؓ کو کیسے یہ تیرا تحفہ پیش کیا جائے سیدنا اصغرؓ کی ننھی سی قبر قریب ہی تھی آپ نے وہ پوٹلی اُس پر رکھ کر فرمایا سیدنا اصغرؓ بہن کا تحفہ قبول کر لو اور پھر وہ کپڑے اور خط لیکر خیموں میں تشریف لے گئے خط کیا تھا تلوار تھی جو بیک وقت سب کے دلوں پر پھر رہی تھی شکوے ہی شکوے شکائتیں ہی شکائتیں درد ہی درد فراق ہی فراق ابا جان سے شکوے پھوپھی سے شکوے امی سے شکوے سیدنا علی اکبرؓ سے شکائتیں سیدنا سجادؓ سے شکوے سیدنا اصغر کی یادیں سیدہ سکینہ کے سلام ایک ایک لفظ دلوں کو چیرتا جا رہا تھا ایک ایک جملے پر چینخیں بلند ہو رہی تھیں پیکرِ تسلیم و رضا سیدنا مظلومؓ کی آنکھوں میں بھی اشکوں کا سیلاب آ گیا تھا درد و فراق کے آنسو بہے جارہے تھے دُکھے ہوئے دل کے آنسو گرم گرم اور آتشیں آنسو بیٹی کے غم سے غم آلود آنسو
دشو سوچ کے امت دے جے ہتھوں ہووے قتل امام تے کی ہُندا
اصغرؓ تائیں دفناؤ باں آجاوے اصغر دے نام تے کی ہُندا
پئے بچاؤ ناجے اکبر دی لاش تائیں شِکویاں بھریا سلام تے کی ہُندا
گھلیئے صُغریٰؓ دے قاصد نوں موڑ صائم دس کے حالت تمام تے کی ہُندا
*نوٹ:*
یاد رہے کے صائم چشتی کی ایک اور تصنیف مشکل کشا ہے جو سیدنا علی المرتضیؓ کے سوانح پر کھی گئی ہے اس کتاب میں صائم چشتی نے سیدنا علی المرتضیٰؓ متعلق انہی عقائد و نظریات کا پرچار کیا جو رافضیوں کے ہیں اور ان کے اصول دین میں سے شمار ہوتے ہیں اور عنوان بھی ایسے باندھے کہ جن سے یقینا شیعیت ٹپکتی ہے مثلاً وہ خلیفہ بلافصل علی امتی نبی سے بڑھ سکتا ہے وغیرہ مطلب یہ تھا کہ سیدن علی المرتضیٰؓ تمام انبیاء کرامؑ حتیٰ کر حضورﷺ سے بھی افضل ہیں میں نے اس نام نہاد سنی نعت خواں کی اس کتاب کا تفصیلی اور تحقیقی رد دشمنانِ سیدنا امیر معاویہؓ نامی کتاب میں لکھا ہے جو دو جلدوں پر مشتمل بازار میں آچکی ہے اسے ضرور خریدیں تاکہ آپ کو کچھ ایسے پیروں اور مولویوں کے بارے میں پتہ چلے جو سنیت کی آڑ میں شیعیت کا پرچار کرتے ہیں۔
*ایک اور جھوٹی داستان*
*سیدہ سکینہؓ کا سیدنا حسینؓ کے گھوڑے کے پاؤں سے چمٹنا نوحہ خوانی کا منظر دکھانا*
شہید ابنِ شہید تصنیف صائم چشتی فیصل آبادی بھی ان کتب غیر معتبرہ میں سے ایک ہے جسے نام نہاد سنی نے تصنیف کیا نام نہاد سنی اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اس مصنف کی دوسری تصنیف مشکل کشا کا آپ مطالعہ فرمائیں تو اس سے سنیت کی بجائے شیعیت ٹپکتی ہے اس کی اور تفصیلی تردید دشمنانِ سیدنا امیر معاویہؓ کا علمی محاسبه میں پڑھیئے دو شہید ابنِ شہید خاکِ کربلا کی طرح من گھڑت داستانوں اور حدود شرعیہ کو پامال کرنے والے جملوں سے اٹی پڑی ہے اس لیے اب ہم کتاب شہید ابنِ شہید کا مستقل عنوان دے کر سیدہ سکینہؓ کی جھوٹی داستان نکل کرتے ہیں۔