باراں تقریراں مصنفہ نوری قصوری - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

باراں تقریراں مصنفہ نوری قصوری

  محمد علی

صفحہ 1 از 3

باراں تقریراں مصنفہ نوری قصوری

 آپ ایک ایک کو تسلیاں دے رہے ہیں جب آپ گھوڑے پر سوار ہونے لگے تو دیکھا کہ گھوڑا کانپ رہا ہے آپ نے دیکھا گھوڑے کے ساتھ معصوم سیدہ سکینہ کھڑی ہے اباجی مجھے یتیم کر کے جا رہے ہو اب ابا جان کسے کہہ کر پکاروں گی سیدنا عالی مقام نے گھوڑے سے اتر کر بچی کو سینے سے لگایا اور تسلی دی اس بیٹی کو تسلی دے رہے تھے کہ دوسری بیٹی کا خط پہنچا اس خط کا مضمون بعض روایتوں میں اس طرح آتا ہے پنجابی کے ایک شاہ نے اس کو یوں نظم کیا ہے 

  1.  یہ خط امام عالی مقام کی صاحبزادی صغریٰ کا تھا جو مدینہ طیبہ میں رہ گئی تھیں اس لیے کہ محمد بن حنیفہ کے پاس ہی رہ گئے تھے

سیدہ صغریٰ کا خط:حال زار دے رب رسول شاہد اشکبار نے ارض و سما بابا

 تاں جدوں مدینیوں کوچ کیتا دساں کیہ ورتی میرے بھا بابا 

پھوپھی جی زینبؓ اماں شہر بانو ملسن کدوں کلیجڑے لا بابا

 پچھی کے بیمار دی سار ناہیں گنیاں مدتاں ڈھیر وِہا بابا

 اصغر بال ہن تے گلاں ہوگ کروا رہسن وچ کلیجڑے گھا بابا

 ننھے لال دا رونی ہاں رات پچھلی جھولا نال خیال جھلا بابا

 کدی فاطمہ بی بی دی قبر آتے کدی روضے تے رونی ہاں بابا

آہیں میریاں تھیں ڈر دی اُڈ جاندی ٹھنڈی صبح دی بادِ صبا بابا

 نام رب دے کو لول اپنے کرساں خدمتان ادب بجا بابا

 بھیا اصغر نوں لوریاں دیوساں گی نالے لواں گی کول سُلا بابا  

 ایسا صغریٰ غریب نُوں بُھل گئے ہو بخشو چا جے کوئی خطا بابا

 کرتہ اصغر لئی اک تیار کیتا ہتھیں دیوساں آپ پہنا بابا

 مِلن واسطے بہت اُداس ہاں میں کرد کرم بنامِ خدا بابا

 پانی بھراں گی کپڑے دھو وساں گی کھانا لواں کی خُوب پکا بابا 

سیدنا عالی مقام اس درد بھرے خط کو لے کر خیمے میں گئے خط سنتے ہی ایک دم کہرام برپا ہو گیا خط سنانے کے بعد آپ خیمے سے باہر آئے اور قاصد سے کہا کہ اس امتحانِ کرب و بلا میں آنیوالے واپس مدینہ پاک جاکر میری بیٹی کو میرا بھی ایک پیغام پہنچا دے آپ نے فرمایا 

 خط کا جواب: آنکھیں صغریٰ نوں جا کے باپ تیرا کر بل وسدی جھوک لٹا بیٹھا

 بچے عون و محمد تے اکبر اصغر قاسم اُتے عباس کہا بیٹھا

 اپنے وچ مقصد کامیاب ہو کے سید رب دا شکر بجا بیٹھا

 باقی دم دا دم مہمان ہاں میں لگی پریت نوں توڑ نبھا بیٹھا 

آکھیں قاصدا خط نوں کچھ کے تے بابا رو رو نیر وہا بیٹھا

 میرا باغیان باغ اُجاڑیا اے کر کے صبر میں تٙن تنہا بیٹھا

 میری یاد ستائے تے صبر کرنا صبر نال مقصود میں پا بیٹھا

 ساقی پوریا جام شہادتاں دا منہ شوق دے نال میں لا بیٹھا

 اب سیدنا عالی مقام ابنِ سعد کے لشکر کے سامنے جلوہ افروز ہیں کوفی فوج سیدنا علی کے شیر کا رعب و دبدہ دیکھ کر لرز گئی۔

 کسی شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے

 زن ایک طرف چرخ کمن کانپ رہا ہے

 آپ نے شکر کے سامنے تشریف لا کر ان سنگ دل ظالموں کو آخری بار قرابت رسول اور اپنی عزت و حشمت یاد دلائی۔ 

نوٹ: سیدہ فاطمہ صغریٰ بنتِ حسین کے واقعہ کو سنی واعظین کے علاوہ ایک اور نام نہاد سنی صائم چشتی فیصل آبادی نے بھی یہ واقعہ پوری رنگینی اور درد و فغاں کے ساتھ اپنی تصنیف "شہید ابنِ شہید" میں صفحہ 301 تا 304 پر ذکر کیا جن کی فوٹو کاپیاں بھی لف کی جا رہی ہیں۔

 قاصدِ مدینہ:

 اصغر اکبر قاسم اید حر رنگ گئے رب دے لیکھے

 چُک چُک اڈیاں صغریٰ اودھر راہ و میراں دا ویکھے

ایدھر بابل لال اپنے دی ڈھیری پیا بنا وے

 وچ خیالاں اوہ اصغر دا جھولا پئی جھلا وے

( صائم چشتی)

صفحہ 1 از 3